جموں و کشمیر میں سڑک حادثات پر قابو پانے کیلئے ضلعی ہائی وے سیفٹی ٹاسک فورسز تشکیل

حادثات کے حساس مقامات کی نشاندہی، تجاوزات ہٹانے اور ٹریفک انتظامات کی نگرانی ہوگی

سرینگر/ / جموں و کشمیر حکومت نے مرکز کے زیر انتظام علاقے میں سڑکوں پر حادثات کی روک تھام اور روڈ سیفٹی اقدامات کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ضلعی سطح پر ائی وے سیئفٹی ٹاسک فورس تشکیل دی ہیں۔جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ نے 18 اگست کو گورنمنٹ آرڈر No. 1412-JK(GAD) of 2026 جاری کرتے ہوئے یہ اقدام سپریم کورٹ کی جانب سے 13 اپریل 2026 کوایک معاملے میں جاری احکامات کی تعمیل میں کیا ہے۔حکومتی حکم نامے کے مطابق ہر ضلع میں دسٹرکٹ مجسٹریٹ ٹاسک فورس کے چیئرمین ہوں گے، جبکہ ایس ایس پی پولیس، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر یاسب ڈویژنل مجسٹریٹ، متعلقہ اسسٹیٹ ریجنل ٹرانسپورٹ آفیسر، تعمیراتی و ترقیاتی ایجنسیوں کے نمائندے، ٹریفک پولیس اور متعلقہ اربن لوکل باڈی کے نمائندے اس کے ارکان ہوں گے۔چیئرمین کو ضرورت کے مطابق کسی بھی دیگر افسر یا رکن کو ٹاسک فورس میں شامل کرنے کا اختیار بھی دیا گیا ہے تاکہ اس کے فرائض مؤثر انداز میں انجام دیے جاسکیں۔ٹاسک فورسز سپریم کورٹ کی ہدایات پر عمل درآمد کی نگرانی کریں گی اور قومی شاہراہوں سمیت اہم سڑکوں پر تجاوزات اور غیر مجاز راستوں کو ہٹانے کے اقدامات کا جائزہ لیں گی۔ اس کے علاوہ متعلقہ محکموں کے ساتھ تال میل کے ذریعے شاہراہوں کے اطراف لینڈ یوز ریگولیشنپر بھی نظر رکھی جائے گی۔ٹاسک فورسز کو شاہراہوں کی نگرانی، ٹریفک قوانین کے نفاذ، ٹریفک مینجمنٹ اور دیگر روڈ سیفٹی اقدامات کی نگرانی کی ذمہ داری بھی سونپی گئی ہے۔ان کی اہم ذمہ داریوں میں حادثات کے لحاظ سے حساس مقامات کی نشاندہی کرنا اور سڑک حادثات میں کمی لانے کے لیے انجینئرنگ، انفورسمنٹ اور جانکاری اقدامات کی سفارش کرنا بھی شامل ہے۔حکومت نے ٹاسک فورسز کو متعلقہ محکموں اور ایجنسیوں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری یقینی بنانے کی ہدایت دی ہے تاکہ روڈ سیفٹی سے متعلق اقدامات پر بہتر انداز میں عمل درآمد ہوسکے۔ٹاسک فورسز اپنے اپنے اضلاع میں کیے گئے اقدامات اور پیش رفت سے متعلق باقاعدگی سے حکومت کو متعلقہ انتظامی محکمے کے ذریعے رپورٹ بھی پیش کریں گی۔حکومتی حکم نامے کے مطابق ہر ضلع کی ٹاسک فورس کو کم از کم ہر پندرہ دن میں ایک مرتبہ اجلاس منعقد کرکے اپنے ضلع میں روڈ سیفٹی اقدامات پر عمل درآمد کی صورتحال کا جائزہ لینا ہوگا۔