ایران میں معیشت کی تباہی کے بعد عوامی تحریک کے احیاء کا اندیشہ

ایران میں معیشت کی تباہی کے بعد عوامی تحریک کے احیاء کا اندیشہ

تہران/ایجنسیز// ایرانی قیادت کو معاشی حالات کی ابتر ہوتی صورتحال کے پس منظر میں بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی طرف سے جن نئی امریکی پابندیوں کا اشارہ دیا گیا ہے، خدشہ ہیکہ وہ اس بحران کو مزید گہرا کر دیں گی اور ایران کے استحکام کیلئے خطرہ بننے والی ایک نئی احتجاجی لہر کو بھڑکا دیں گی۔ ٹرمپ نے جمعہ کو ایران کے خلاف ’’ایک سخت معاشی ضرب‘‘ لگانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ یہ اعلان امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کے اس بیان کے ایک دن بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ واشنگٹن آنے والے ہفتے کے دوران تہران کے خلاف ’’غیر معمولی‘‘ اقدامات کرے گا تاہم ابھی تک اس کی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں۔ رائٹرز نے تین ایرانی عہدیداروں کے حوالے سے بتایا ہیکہ قیادت کو اندرونی سطح پر بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے جو وسیع پیمانے پر بدامنی کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ حالانکہ حکام نے تقریباً چھ ماہ سے جاری جنگ کے دوران اپنی استقامت اور آبنائے ہرمز کو عملی طور پر بند رکھنے کی صلاحیت پر زور دیا ہے۔ان عہدیداروں میں دو سیاسی امور سے باخبر ذرائع اور ایک سابق عہدیدار شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مقتدر حلقوں میں تشویش صرف معیشت کی ابتر حالت تک محدود نہیں ہے بلکہ اس بات کا خطرہ بھی ہیکہ روزمرہ کے مصائب نئی عوامی بغاوت میں تبدیل ہو جائیں کیونکہ قوتِ خرید کم ہو چکی ہے، قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں اور اقتصادی سرگرمیوں کے وسیع شعبے شدید متاثر ہوئے ہیں۔ایران پہلے ہی بلند شرحِ گرانی، کرنسی کی قدر میں کمی، توانائی کی قلت، معاشی پابندیوں اور ساختی خرابیوں کا شکار ہوتے ہوئے جنگ میں داخل ہوا تھا۔جنگ کے جاری رہنے کے ساتھ ہی ملک پر مزید بوجھ بڑھ گئے ہیں جن میں انفراسٹرکچر کو پہنچنے والے نقصانات، تجارت میں تعطل، پیداوار میں کمی اور بحالی کی بلند لاگت شامل ہیں۔ امریکی حملوں کی وجہ سے کارخانوں، بجلی گھروں، نقل و حمل کے نیٹ ورکس اور دیگر اہم تنصیبات کو نقصان پہنچا ہے جس سے ایک ایسی معیشت پر دباؤ مزید بڑھ گیا ہے جو پہلے ہی متواتر بحرانوں کی لپیٹ میں تھی۔تعمیراتی شعبہ ان تباہ کاریوں کے اثرات کی عکاسی کرتا ہے۔ اصفہان سے تعلق رکھنے والے ایک سیول انجینئر اور دو بچوں کے باپ آرشیا نے تصدیق کی کہ تعمیراتی منصوبے بڑی حد تک معطل یا ملتوی ہو چکے ہیں جبکہ لاگت میں اضافہ اور روزگار کے مواقع میں کمی واقع ہوئی ہے۔
آرشیا نے کہا کہ “میں پریشان ہوں۔ اگر ٹرمپ مزید پابندیاں عائد کرتے ہیں تو عام لوگ کیسے زندہ رہیں گے؟ میں نہیں چاہتا کہ میرے ملک کو عسکری یا معاشی سزا دی جائے۔ ہم پہلے ہی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں”۔بندر عباس میں 53 سالہ محسن کو خلیجی ممالک کے ساتھ اپنی چھوٹی درآمدی و برآمدی کمپنی بند کرنے پر مجبور ہونا پڑا اور وہ اپنے دس ملازمین کو تنخواہیں دینے کے قابل نہ رہنے پر انہیں فارغ کرنے پر مجبور ہو گئے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق معاشی بحران کا دائرہ وسیع ہو چکا ہے۔ جولائی کے دوران ایران میں سالانہ مہنگائی کی شرح 66 فیصد تک پہنچ گئی جبکہ سالانہ بنیادوں پر صارفین کی قیمتوں میں 87.9 فیصد اضافہ ہوا اور اشیائے خورونخ و نوش کی مہنگائی 128 فیصد پر جا پہنچی۔