مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی

وادی میں 90فیصد عادی لوگوں کا تعلق متواسط درجے کے کنبوں سےسرکاری ونجی ملازمین اور تجارت یافتہ افراد سے لیکر کاشتکاروں کے چشم و چراغ بھی شامل

سرینگر//وادی میں منشیات کے عادی 90فیصد لوگ متواسط آمدنی رکھنے والے گھرانوں سے تعلق رکھتے ہے،جبکہ متاثرین میں سرکاری ملازمین سے لیکر نجی ملازمین اور تجارت یافتہ افراد سے لیکر کاشتکاروں کے چشم و چراغ بھی شامل ہے۔ ’’کشمیر میں منشیات کی لت پر مبنی بھر علمی تجزیہ‘‘میںاس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ39.5فیصد نوجوان ماحولیاتی دبائو کے نتیجے میں منشیات کی لت میں گرفتار ہوئے ہیں،جبکہ9.5فیصد نوجوان عشقیہ معاملات میں ناکام ہونے کی وجہ سے منشیات کا استعمال کر رہے ہیں۔یہ تحقیق وادی کے دو انسداد منشیات مراکز پولیس کنٹرول روم اور صدر اسپتال میں زیر علاج200مریضوں سے منشیات کی لت میں گرفتار ہونے کی وجوہات پر تیار کی گئی ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ40فیصد نوجوان،جن میں لڑکے اور لڑکیاں دونوں شامل ہیں16سے25برس کی عمر کے درمیان ہے۔‘‘ اس رپورٹ کے مطابق وادی میں نشے کی لت میں مبتلا ہزاروں لوگوں میں سے90فیصد کے قریب چھوٹے کنبوں سے تعلق رکھتے ہیں،جبکہ34.5فیصد ان کنبوں سے تعلق رکھتے ہیں،جن کی ماہانہ آمدنی45ہزار روپے سے زائد ہیں،اور2.5فیصد وہ لوگ بھی نشے میں گرفتار ہوئے ہیں،جن کے پاس با قاعدہ کوئی بھی ماہانہ آمدنی نہیں ہے۔ نشے میں گرفتار19فیصد لوگوں کے والدین کی ماہانہ آمدنی15سے25ہزار ہیں،اور18فیصد کے والدین کی ماہانہ آمدنی15ہزار یا اس سے کم ہے۔رپورٹ کے مطابق14.5فیصد مریضوں کے اہل خانہ کی ماہانہ آمدنی35سے45ہزار اور11.5فیصد لوگوں کے گھر والوں کی آمدنی25سے35ہزار کے بیچ میں ہے۔سرینگر کے انسداد منشیات مرکز کے انسٹی چیوٹ آف مینٹل ہیلتھ اینڈ نیرو سائنس کی طرف سے کی گئی تحقیق کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ دو تہائی مریض نشہ آوار اشیاء کے عادی11اور20سال کی عمر میں ہوئے ہیں۔تحقیق میں پایا گیا کہ منشیات کی لت میں مبتلا نوجوان جو سب سے زیادہ نشے کی اشیاء استعمال کرتے ہیں وہ نیکو ٹین ہیں ،اور اس کی شرح94.4فیصد ہیں۔ تحقیق میں پایا گیا کہ65.7فیصد لوگ افیم جیسی ادویات،63.6فیصد بھنگ،45.5فیصدبے خود کرنے والی ادویات،43.4فیصد ڈاکٹری نسخوں سے فرہم ہونے والی ادویات،32.5فیصد شراب،11.1فیصد دم کش ادویات استعمال کرتے ہیں۔ تحقیق کے دوران مزید یہ پایا گیا کہ91.9فیصد مریض مختلف نشیلی اشیاء استعمال کرتے ہیں۔نوجوانوں کی طرف سے دم کش مادہ استعمال کرنا عام ہیں اور اس کی شرح54.5فیصد دیکھی گئی،جبکہ نیکو ٹین50.2فیصد اور بھنگ،49.2فیصد اور شراب51.2فیصد کے علاوہ افیم جیسا نشہ58.4فیصد سمیت سکون فرہم کرنی والی اشیاء53.48فیصد21سے30سال کی عمر میں زیادہ استعمال میں لایا جاتا ہے۔سرکار کی نسداد منشیات پالیسی کے مسودہ میں واضح کیا گیا کہ منشیات کی لت تیزی کے ساتھ پھیل رہی ہے،اور اس نے جموں کشمیر میں ایک وبائوکی شکل اختیار کی ہے۔ مسودہ پالیسی میں واضح کیا گیا ہے کہ اعتقاد کی بنیاد پر جماعتوں کی طرف سے اس معاملے میں ملوث ہونے سے مسئلہ کو حل کیا جاسکتا ہے۔اس پالیسی میں مزید کہا گیا ہے’’ مذہبی اعتقاد اہم محافظتی عوامل ہیں،مذہبی اور روحانی لیڈروں کو اس میں شامل کر کے وہ اپنے خطابات میں احتیاتی اقدامات کو اجاگر کریں۔‘‘ جموں کشمیرہائی کورٹ کے سابق جج جسٹس ایم کے ہانجورہ نے2018کے آخر میں’’ این ڈی پی ایس ‘‘کے ایک کیس کی شنوائی کے دوران واضح کیا’’ اس طرح کی سرگرمیوں کی موثر روک تھام لازمی ہے‘‘۔پولیس کی طرف سے منشیات کے سوداگروں کا تعاقب اگر چہ جاری ہے،تاہم ڈائریکٹر جنرل آف پولیس نے منشیات کی وبائو کو ایک بڑا چلینج قرار دیا ہے۔