جمہوری طریقے سے جموں کشمیر کے لوگ حکومت قائم کریں گے اور مرکز بھر پور تعاون فراہم کرے گا۔ وزیر داخلہ
سرینگر//وزیر داخلہ امت شاہ نے جمعرات کو ایک بار پھر جموں کشمیر کیلئے سٹیٹ ہڈ کی بحالی کا وعدہ دوہراتے ہوئے کہا کہ مودی سرکار نے جو کہا ہے وہ کرکے دکھایا ہے اور ہم اپنے وعدو ں کو پورا کررہے ہیں ۔ انہوںنے بتایا کہ کانگریس دور میں جموں کشمیر جل رہا تھا اور آج جموں کشمیر کا ہر خطہ امن و امان کا مسکن بن چکا ہے ۔ اس بیچ انہوںنے بتایا کہ ملک میں مذہب کے نام پر ریزرویشن غیر آئینی ہے اور ہم ملک کے تمام لوگوں کو یکساں مواقعے فراہم کررہے ہیں ۔ وائس آف انڈیا کے مطابق بی جے پی کے سینئر لیڈر و مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے جمعرات کو کہا کہ ملک کا آئین مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن کی حمایت نہیں کرتا ہے اور اس لئے بی جیپی بھی اس کی حامی نہیں ہے۔انہوںنے بتایا کہ جموں کشمیر سے دفعہ 370ختم کرنے کے بعد وہاں امن و امان کا ماحول بہتر ہوا ہے اور یہ خطہ امن کا گہوار ہ بن چکا ہے ۔ انہوںنے بتایا کہ کانگریس کے دور حکومت میں جموں کشمیر جل رہا تھا لیکن آج ہر جگہ تعمیر و ترقی اور خوشحالی دیکھی جاسکتی ہے ۔ امت شاہ نے بتایا کہ جموں کشمیر کو سٹیٹ ہڈ دینے کے اپنے وعدے پر ہم کاربند ہے اور جمہوری طریقے سے وہاں مقامی لوگ حکومت بنائیں گے جس میں مرکز بھر پور تعاون فراہم کرے گا۔ بی جیپی امیدوار اور موجودہ ایم پی جگدمبیکا پال کی حمایت میں بی ایس اے گراونڈ میں منعقد انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے شاہ نے کہا کہ سماج وادی پارٹی(ایس پی) اور کانگریس پارتی اپنے کنبے کے لئے سیاست کرتی ہے جبکہ نریندر مودی کا پریوار بھارت کے 130 کروڑ لوگ ہیں۔ مودی نے ملک کی سرحدوں کو محفوظ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ فوج کے ون رینک ون پنشن کے مطالبے کو سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی، راجیو گاندھی اور سونیا گاندھی کی قیادت والی منموہن سنگھ حکومت نے پورا نہیں کیا۔ لیکن وزیر اعظم نریندر مودی نے اسے پورا کردیا دکھایا ہے۔ سبھی ادھورے کاموں کو اگر کوئی کرسکتا ہے تو صرف نریندر مودی کہ کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ نریندر مودی نے دہشت گرد اور نکسل واد کا صفایا کیا اور ملک کو محفوظ کیا ہے نریندر مودی کو ہندوستان کے 130 کروڑ لوگوں کی فکر ہے لیکن سماج وادی پارٹی کانگریس کے لوگوں کو اپنے کنبے کی فکر ہے یہ لوگ اپنے کنبے والوں کے لئے سیاست کررہے ہیں۔شاہ نے کہا کہ پانچ مراحل کے الیکشن میں بی جیپی تقریبا 310 سیٹوں پر جیت رہی ہے اور انڈیا اتحاد کا صفایا ہورہا ہے۔ اندیا اتحاد اس لئے ہو اہے جس سے ایس سی۔ ایس ٹی اور او بی سی کے ریزرویشن پر ڈاکہ ڈالا جاسکے۔کل ہی بنگال ہائی کورٹ کا ایک فیصلہ آیا ہے کہ او بی سی کی لسٹ میں بنگال حکومت نے 180مسلم ذاتیوں کو ڈال دیا تھا۔ اور ہمارے او بی سی سماج کے ریزرویشن کا زیادہ حق مسلمانوں کو دینے کا کام کیا تھا۔ہمارا آئین مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن نہیں دیتا ہے۔ اس لئے کل 210 سے 2024 کے درمیان بنگال حکومت نے جتنی بھی مسلم ذاتیوں کو او بی سی ریزرویشن دیا تھا اسے ہائی کورٹ نے خارج کردیا ہے۔انہوں نے کہا’ راہل بابا سن لیں کانگریس پارٹی اس بار 40سیٹ بھی پار نہیں کرپائے گی اور اکھلیش بابو کو چار سیٹ بھی نہیں مل پائے گی۔ ملک کی عوام جاننا چاہتے ہیں کہ آپ کو اگر اکثیریت ملتی ہے تو آپ کا وزیر اعظم کون بنے گا۔










