مختلف سرکاری محکموں کے پاس 970کروڑ روپے واجب الادا

مارچ کے آخر پر بھی واجب الادا رقومات واگزار نہ ہونا قابل افسوس۔ ٹھیکیدار

سرینگر/ //جموں کشمیر میں مختلف سرکاری محکموں کے پاس ٹھیکداروں کے 970کروڑ روپے واجب الادا رقومات ہے جس کو مارچ کے آخر تک بھی واگزار کرنے میں حکام ناکام ہوا ہے جس کے خلاف ٹھیکداروںنے آج احتجاج کرتے ہوئے واجب الادا رقومات کی فوری واگزار ی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر عید سے قبل ٹھیکداروں کی تمام بقایا رقم ریلیز نہیں کی گئی تو وہ کام چھوڑ ہڑتال شروع کریں گے ۔ وائس آف انڈیا کے مطابق ٹھیکدار س ایسوسی ایشن اننت ناگ سے وابستہ سینکڑوں ٹھیکداروں نے بلوں کی فوری واگزاری کے حق میں چیف آف اننت ناگ اور ڈی سی آف کے سامنے احتجاج کیا ۔ ٹھیکداروں نے کہا ہے کہ جموں کشمیر میں مختلف محکموں کے پاس ٹھیکداروں کی 970کرورڑ روپے واجب الادا رقومات ہے جس کی وجہ سے ان کے اہلخانہ فاقہ کشی پر مجبور ہوئے ہیں ۔وی او آئی نمائندے امان ملک کے مطابق انہوںنے بتایا کہ وقت پر بلوں کو واگزار نہ کرنے کی وجہ سے ان کے گھریلو حالات بھی خراب ہوئے ہیں اور بچوں کا سکول فیس ، ٹیوشن فیس بھی ادا نہیں کرپارہے ہیں ۔ ٹھیکدارون نے کہا کہ انہوںنے جو کام کیا ہے اس کے میٹریل کا پیسہ بھی ابھی چکتا نہیں ہوا ہے اور اینٹ بٹھ مالکان ، ریت بجری کے علاوہ دکانداروں کے بھی وہ قرضدار ہوئے ہیں ۔ احتجاجی ٹھیکداروں نے مطالبہ کیا ہے کہ ان کی پوری بلیں عید سے قبل واگزار کی جائیں تاکہ ان کے مسائل حل ہوں ۔ انہوںنے بتایا کہ اگر عید سے پہلے ان کی واجب الادا رقومات انہیں فراہم نہیں ہوتی تو وہ کام چھوڑ ہڑتال پر مجبور ہوں گے ۔ ادھر لو پیڈایمپلائز فیڈریشن جموں کشمیر کے جنرل سیکریٹری محمد جاوید شاہ نے کہا کہ گزشتہ چھ ماہ سے جی پی فنڈ التوا میں ہے ۔انہوںنے کہا کہ سبکدوش ملازمین بھی پنشن سے محروم ہے جس کے باعث انہیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ انہوںنے ایل جی منوج سنہا سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لیکر فنڈس کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔