محکمہ سکولی تعلیم کو ضلع بڈگام کے مختلف سکولوں سے اَپ گریڈیشن کی درخواستیں موصول ۔ سکینہ اِیتو

محکمہ سکولی تعلیم کو ضلع بڈگام کے مختلف سکولوں سے اَپ گریڈیشن کی درخواستیں موصول ۔ سکینہ اِیتو

ایس اے سی 2018 کے فیصلے سے جی ایل ٹی کی اَسامیوں کو زیرِ اِلتوأرکھنے کی وجہ سے عملے کی کمی کا سامنا

جموں//وزیربرائے تعلیم سکینہ اِیتو نے کہا کہ محکمہ سکولی تعلیم کو ضلع بڈگام کے کئی سکولوںجیسے مڈل سکول مزاہامہ، گرلز مڈل سکول کنی ہامہ، مڈل سکول راسو، مڈل سکول چرنگام، ایس کے پورہ، رتھسن، اور اریپٹن کی اَپ گریڈیشن کے لئے درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔وزیر موصوفہ ایوان میں آج رُکن اسمبلی ڈاکٹر شفیع احمد وانی کی طرف سے اُٹھائے گئے سوال کا جواب دے رہی تھیں۔اُنہوںنے ایوان کو بتایا کہ محکمہ سکولی تعلیم کے پاس سکولوں کی اَپ گریڈیشن کی کوئی فوری تجویز نہیں ہے کیوں کہ بڑی تعداد میں سکول پہلے ہی اَپ گریڈ ہو چکے ہیں۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ محکمہ اس وقت مطلوبہ بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور تمام سکولوں کو بالخصوص اَپ گریڈ شدہ سکولوں کو عملہ فراہم کرنے پر توجہ دے رہا ہے۔وزیر تعلیم نے مزید کہا کہ سکولوں کی اَپ گریڈیشن کے لئے بنیادی ڈھانچے اور تدریسی عملے کی اَسامیاں معرض وجود میں لانے کے لئے بھاری مالی وسائل درکار ہوتے ہیں۔اُنہوں نے مزید کہا کہ محکمہ تعلیم کو تدریسی عملے کی کمی کا سامنا ہے کیوں کہ 2018 میں ریاستی اِنتظامی کونسل (ایس اے سی) کے فیصلے کے تحت جنرل لائن ٹیچرز (جی ایل ٹیز)اسامیوں کو زیرِ اِلتوأ میں رکھا گیا تھا جس کی وجہ سے گزشتہ پانچ برسوں میں اَساتذہ کی بھرتی نہیں ہو سکی اور محکمہ کو عملے کی شدید کمی کا سامنا ہے۔وزیرموصوفہ نے مزید کہا کہ جب بھی محکمہ سکولوں کی اَپ گریڈیشن کی کوئی تجویز پیش کرے گا تو ضلع بڈگام کے مذکورہ سکولوں پر غور کیا جائے گا۔