کنگن میں فشریز سیکٹر میں ترقی کا جائزہ لیا اور ٹرائوٹ فِش فارم مامرکے کام کاج کا معائینہ کیا
گاندربل//وزیر برائے زرعی پیداوار اور دیہی ترقی محکمے جاوید احمد ڈار نے جموں و کشمیر میں ماہی پروری شعبے میں روزگار کے وسیع امکانات کو بروئے کار لانے کی ضرورت پر زور دیا۔اِن باتوں کا اِظہار وزیر موصوف نے مامر ٹرائوٹ فِش فارم کے دورے کے دوران اس کے کام کاج کا جائزہ لینے اور ماہی پروری شعبے میں ہونے والی پیش رفت کا معائینہ کرتے ہوئے کیا۔وزیر جاوید احمد ڈار نے ماہی پروری شعبے میں روزگار اور معیشت کو فروغ دینے کی بڑی صلاحیت کو اُجاگر کیا اور نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ ماہی پروری کو اَپنی دیرپا اقتصادی سرگرمی کے طور پر اَپنائیں۔ دورے کے دوران وزیر موصوف کے ہمراہ ممبر قانون ساز اسمبلی کنگن میاں مہر علی بھی تھے۔ اُنہوں نے پرائیویٹ فِش فارمروں میں تکنیکی بیداری کی ضرورت دیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ وہ بار بار فیلڈ وِزٹ کریںاورکسانوں کو جدید ماہی پروری کے طریقوں سے آگاہ کریں۔وزیر جاوید احمد ڈار نے نوجوانوں کو ماہی پروری میں مشغور ہونے کی ترغیب دی اور اس کی صلاحیت کو جامع زرعی ترقیاتی پروگرام (ایچ اے ڈِی پی) کے تحت ایک قابل عمل روزگار کے مواقع کے طور پر اُجاگر کیا۔اِس سے قبل وزیرموصوف نے اکھل کنگن میں خیبر ایکواکلچر کا دورہ کیااور اُنہوںنے وہاں پرائیویٹ کمپنی کی طرف سے رینبو ٹراؤٹ کی افزائش کے لئے جدید ریسرکولیٹری ایکواکلچر سسٹم (آر اے ایس) کے تحت بنائے گئے بنیادی ڈھانچے کا جائزہ لیا۔اُنہوںنے اس سہولیت کا معائینہ کرتے ہوئے اس کی ماحول دوست تکنیکوں اور جدیدترین مشینری کی سراہنا کی جو دیرپا ٹراؤٹ فارمنگ کے لئے اِستعمال کی جا رہی ہیں۔
وزیر موصوف نے نجی کاروباریوں کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے نجی شعبے کے اقتصادی ترقی میں اہم کردار پر زور دیا۔ اُنہوں نے کہا کہ خیبر ایکواکلچر جیسے اقدامات سے نہ صرف علاقائی معیشت کو تقویت ملے گی بلکہ ماحول دوست ماہی پروری کی تکنیک کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔دورے کے دوران ڈائریکٹر فشریز عبدالمجید ٹاک، اسسٹنٹ ڈائریکٹر فشریز گاندربل اور فشریز ڈیپارٹمنٹ کے دیگر افسران نے وزیر موصوف کو فارم کے کاموں کے بارے میں بریفنگ دی۔اِس موقعہ پریہ بھی بتایا گیا کہ مامر ٹراؤٹ فش فارم نے 2024-25 میں 7 ٹن ٹراؤٹ مچھلی اور 1.5 لاکھ بیج پیدا کئے جبکہ رواںبرس میں بیج کی پیداوار 2 لاکھ تک پہنچنے کی توقع ہے۔وزیرجاوید احمد ڈار کو مزیدبتایا گیا کہ ضلع گاندربل میں نجی شعبے کے تعاون سے ٹراؤٹ مچھلی کی پیداوار 50 ٹن اور کارپ مچھلی کی پیداوار 20 ٹن تک پہنچ چکی ہے جہاں 140 ٹراؤٹ اور کارپ کے تالاب فعال طور پر کام کر رہے ہیں۔مزید یہ بھی بتایا گیا کہ اس برس 200 اینگلنگ پرمٹ جاری کئے گئے جس سے تفریحی ماہی گیری کو مزید فروغ دیا گیا۔ڈائریکٹر فشریز نے نے بتایا کہ فارم سے لائیو فیڈ بیج صوبہ کشمیر کے دیگر اَضلاع سمیت لداخ یوٹی کو بھی فراہم کئے جا رہے ہیں۔










