لیفٹیننٹ گورنر کا کشمیر یونیورسٹی میں ’’ نیشنل سائنس ڈے ‘‘ سمینا ر سے خطاب

لیفٹیننٹ گورنر کا کشمیر یونیورسٹی میں ’’ نیشنل سائنس ڈے ‘‘ سمینا ر سے خطاب

کہا، سائنسدان ، تکنیکی ماہرین اور صنعت کار ’وِکست بھارت‘ کے سفر کو آگے بڑھائیں گے

سری نگر//لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہانے کشمیر یونیورسٹی میں’ ’نیشنل سائنس ڈے‘‘ سمینار سے خطاب کیا۔اُنہوں نے اِس موقعہ پر مُبارک باد پیش کی اور معروف سائنسدان سی وِی رمن کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اِس برس’ نیشنل سائنس ڈے‘ کا موضوع’’وِکست بھارت کے لئے سائنس اور اِختراعات میں بھارتی نوجوانوں کو عالمی قیادت کے لئے بااِختیار بنانا‘‘ ہے۔لیفٹیننٹ گورنر نے اَپنے کلیدی خطاب میںسائنس و ٹیکنالوجی میں ترقی، علم کے تبادلے اور تخلیقی و اِختراعی صلاحیتوں کے فروغ پر زور دیا تاکہ ایک دیرپامستقبل کی بنیاد رکھی جا سکے۔اُنہوں نے عالمی سطح پر ہونے والی بے مثال تکنیکی ترقی کا ذکر کرتے ہوئے جموں و کشمیر کے تمام یونیورسٹیوں کو آرٹیفیشل اِنٹلی جنس ( اے آئی ) لیبارٹریاں قائم کرنے پر زور دیا تاکہ جدید تحقیق اور اِختراعات کو فروغ دیا جا سکے۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ اے آئی لیب سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ڈیپارٹمنٹ کے اندر صنعت، محققین، ماہرین تعلیم اور تکنیکی ماہرین کے ساتھ کثیرالشعبہ جاتی تعاون کے ذریعے ایک علیٰحدہ اِدارہ ہوگا۔اُنہوں نے کہا،’’ہم آرٹیفیشل اِنٹلی جنس کے بغیر مستقبل کا تصور نہیں کر سکتے۔ اِس کا ہماری زِندگی کے ہر پہلو پر گہرا اثر ڈالے گا اور یہی وجہ ہے کہ ہمارے نوجوانوں کو آرٹیفیشل اِنٹلی جنس( اے آئی )کے رُحجانات کو برقرار رکھنے اور جموںوکشمیر یوٹی کو زیادہ مسابقتی بنانے کے لئے اَپنے آرٹیفیشل اِنٹلی جنس کے علم کو فروغ دینے اور اَفرادی قوت کو دوبارہ ہنر مند بنانے کے قابل بنانا ضروری ہے ۔ ‘‘لیفٹیننٹ گورنر نے مزید کہا کہ یونیورسٹیوں میں قائم کی جانے والی اے آئی لیبارٹریاں مقامی صنعتوں کے ساتھ براہ ِراست تعاون کریں گی تاکہ نئی دریافتوں اوراے آئی اِختراعات کو کاروبار میں ضم کیا جا سکے۔اِس تحقیق میں اے آئی کے اِستعمال کی موجودہ صورتحال اور پیداواریت اور منافع کو بڑھانے کے لئے اسے اَپنانے کے طریقوں پر بھی توجہ مرکوز کی جائے گی۔اُنہوں نے یونیورسٹیوں سے مزید کہاکہ وہ اے آئی کے تیزی سے بڑھتے ہوئے رجحانات کو مدنظر رکھتے ہوئے پالیسی اِختیار کریں اور مختصر مدتی کورسوں کو متعارف کریں تاکہ طلباء اور پیشہ ور اَفراد جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہو سکیں۔ لیفٹیننٹ گورنر نے کہا،’’سائنسدان، تکنیکی ماہرین اور کاروباری افراد ’وِکست بھارت‘ کے سفر کو آگے بڑھائیں گے۔ وہ ہندوستان کی سائنسی اور تکنیکی ترقی کو آگے لے جائیں گے اور جموں و کشمیر میں ایک مضبوط اِختراعی نظام کی بنیاد فراہم کریں گے۔‘‘اُنہوں نے کہا،’’مستقبل میںاے آئی کی سب سے زیادہ ضرورت صحت اور ایمرجنسی سروسز کے کارکنان، صنعتی منتظمین اور سماجی و کاروباری رہنماؤں کو ہوگی۔ یہ یونیورسٹیوں کی تمام اے آئی لیبارٹریوںکی ذمہ داری ہوگی کہ وہ ان کے لئے ورکشاپوں اور ہفتہ وار تربیتی ماڈیولز کا اِنعقاد کریں تاکہ جموں و کشمیر میں ہماری پوری اَفرادی قوت آرٹیفیشل اِنٹلی جنس سے خواندہ ہوجائے اور مختلف شعبوں کے رہنما بھی صحیح فیصلہ کرنے کے لئے بہتر طور پر روشناس ہوں۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے طلباء اور اَساتذہ پر زور دیا کہ وہ پانچ سالہ منصوبے کے تحت اے آئی جیسی جدید ٹیکنالوجی کو جموں و کشمیر کی ترقی کے لئے بروئے کار لانے میں مشترکہ اقدامات کریں۔اُنہوں نے کہا کہ نئی سائنسی دریافتوں کے ساتھ ساتھ ہمیں ایسی اختراعات پر بھی توجہ دینی ہوگی جو مقامی سطح پر مختلف شعبوں کو درپیش چیلنجوںکا حل فراہم کریں۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ ہمیں یہ بھی یقینی بنانا ہوگا کہ اے آئی جیسی ٹیکنالوجی اخلاقی معیارات کے مطابق ہو۔لیفٹیننٹ گورنر نے کشمیر یونیورسٹی کی سائنسی اِختراعات اور تعلیمی میدان میں گرانقدرخدمات کو بھی سراہا۔سمینار میں ایمرائٹس پروفیسر، انٹر۔یونیورسٹی سینٹر فار ایسٹرونومی اینڈ ایسٹروفزکس (آئی یو سی اے اے ) پروفیسر اجیت کیمبھاوی اورڈائریکٹر، فزیکل ریسرچ لیبارٹری احمد آباد پروفیسر انیل بھردواج نے بالترتیب’’عام شہریوں کے لئے فلکیات‘‘ اور ’’بھارت میں خلائی سائنس کی ترقی‘‘ کے موضوع پر ورچوئل خطاب کیا۔کشمیر یونیورسٹی کے شعبہ فزکس نے وگیان بھارتی نئی دہلی کے اِشتراک سے سمینار کا اِنعقاد تاکہ سر سی وی رمن کی دریافت ’’ رَمن ایفیکٹ ‘‘کی یاد کو تازہ کیا جا سکے۔اِس موقعہ پر لیفٹیننٹ گورنر نے کشمیر یونیورسٹی کیمپس میں سنتھیٹک ایتھلیٹک ٹریک کا اِفتتاح کیا۔تقریب میں وائس چانسلر کشمیر یونیورسٹی پروفیسر نیلوفر خان ،کمشنر سیکرٹری سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ڈیپارٹمنٹ سوربھ بھگت ، آرگنائزنگ سیکرٹری وگیان بھارتی ڈاکٹر سوم دیو بھردواج ، سائنسدانوں، فیکلٹی ممبران اور بڑی تعداد میں طلبأ نے شرکت کی۔