سری نگر//لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے سمپورہ میں دبئی ایمار گروپ سے تعمیر ہونے والے’ مال‘ کا سنگ بنیاد رکھا۔لیفٹیننٹ گورنر نے اِس تاریخی موقعہ پر جموںوکشمیر کے لوگوں کو مُبارک باد دی۔اُنہوں نے کہا کہ یہ لامحدود امکانات کی ایک نئی صبح ہے ۔ ہم وزیر اعظم نریندر مودی جی کے جموںوکشمیر کی ترقی کے نظریۂ کو آگے بڑھا رہے ہیں ۔ اُنہوں نے کہا کہ’ مال‘ جموںوکشمیر یوٹی میں تبدیلی لائے گا اور بنیادی ڈھانچے ، روزگار پیدا کرنے اور زندگی میں آسانی کو فروغ دے گا۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا،’’ مال اور حکومت دبئی کے ساتھ منسلک منصوبے جموںوکشمیر کی اِقتصادی ترقی کو فروغ دیں گے اور ہمیں اِنڈیا اور متحدہ اَمارات کے درمیان باہمی تجارت اورسرمایہ کاری کے تعلقات کو مضبوط بنانے کے مشترکہ وژن کو حاصل کرنے کے قریب لے جائیں گے۔‘‘اُنہوں نے کہا کہ متحدہ عرب اَمارات اور اِنڈیا کے درمیان مضبوط تعلقات کا سہرا وزیر اعظم کی اَنتھک کوششوں کو جاتا ہے ۔اُنہوں نے وزیر اعظم کی رہنمائی میں متعارف کی گئی ترقی پسند اِصلاحات پر روشنی ڈالی تاکہ جموںوکشمیر میں صنعتوں اور کاروبار کے فروغ کے لئے ساز گار ماحول پیدا کیا جاسکے۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا،’’ بے مثال صنعتی سرمایہ کاری اور جموںوکشمیر کی اقتصادی ترقی یونین ٹیریٹری کے لوگوں کے لئے ایک مضبوط اور خوشحال مستقبل کی بنیاد رکھ رہی ہے۔‘‘اُنہوں نے نئی صنعتی ترقی سکیم کے لئے وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کا شکریہ اَدا کیا ۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ نئی صنعتی پالیسی کی عمل آوری کے 22 ماہ کے اَندر ہمیں زائد اَز 5,000 ملکی اور غیر ملکی کمپنیوں سے سرمایہ کاری کی تجاویز موصول ہوئی ہیں۔ اُنہوں نے نوٹ کیا کہ ہر روز 8 کمپنیوں نے جموںوکشمیر میں سرمایہ کاری کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ جموںوکشمیر یوٹی میں ہر روز ایک نئی صنعت کام کر رہی ہے ۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ گذشتہ ماہ 45 صنعتوں نے اَپنا کام شروع کیا۔اُنہوں نے کہا کہ وزیر اعظم پہلے ہی 38,000 کروڑ روپے کے پروجیکٹوں کے لئے سنگ بنیاد کی تقریب کر چکے ہیں۔ وہ لوگ جنہوں نے اگست 2019ء کے بعد روزگار پر سوالات اُٹھائے اُنہیں خود کا جائزہ لینا چاہئے کہ اُنہوں نے گذشتہ دہائیوں میں جموںوکشمیر کے لئے کیا کیا ہے ۔ اُنہوں نے کہا کہ آزادی کے بعد سے 2019 ء تک جموں وکشمیر میں صرف 14,000 کروڑ روپے کی صنعتی سرمایہ کاری ہوئی ہے۔لیفٹیننٹ گورنر نے مزید کہا کہ گذشتہ تین برسوں میں ہم نے مختلف شعبوں میں غیر معمولی ترقی درج کی ہے اور علم ، فزیکل اور ڈیجیٹل کنکٹویٹی کے لحاظ سے جموںوکشمیر نے پورے ملک میں غیر معمولی کار کردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔اُنہوں نے دُنیا بھر کے صنعت کاروں کو جموںوکشمیر کے نئے صنعتی اِنقلاب کا حصہ بننے کی دعوت دی۔اُنہوں نے کہا کہ ہم نے ترقی کی معاشی اور سماجی بنیاد کو وسیع کیا ہے اور ملک بھر میں بہترین مراعات ، صنعتوں کے لئے زمین ، ہنر مند مزدور ، تکنیکی مدد، مارکیٹ کنکٹویٹی ، قومی اور بین الاقوامی فضائی کار گو کی سہولیات ، خام مال ، سستی بجلی ، سب سے کم جرائم کی شرح ، سنگل وِنڈو کلیئرنس ، کاروبار کرنے میں آسانی پیش کر رہے ہیں۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہاکہ جموںوکشمیر یوٹی میں ایک لاکھ کروڑ روپے کے شاہراہوں اور ٹنلوں کے منصوبے چل رہے ہیں۔ کشمیر کو اس برس کنیاکماری سے جوڑ دیا جائے گا ۔ اُنہوں نے مشاہدہ کیا کہ جموں اور سری نگر دونوں ہوائی اَڈوں پر فلائٹ آپریشن میں اِضافہ ہوا ہے اور بین الاقوامی پروازوں سے رابطہ مضبوط ہوا ہے۔اُنہوں نے کہا کہ آج جموںوکشمیر میں اَمن قائم ہے ۔ ہڑتال کے دِن اَب تاریخ بن چکے ہیں ۔ اُنہوں نے کہا کہ دُنیا نے پلوامہ ، ترال ، شوپیان کے نوجوانوں اور لوگوں کو اَپنے ہاتھوں میں قومی پرچم لے کر بڑی تعداد میں گھروں سے نکلتے دیکھاہے۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ جموںوکشمیر کے پاس کاروبار کی بے پناہ صلاحیت کو زیادہ سے زیادہ پیشکش کرنے کے لئے سب کچھ ہے ۔ اُنہوں نے کہاکہ یہ دہائی جموںوکشمیر کی ہے۔سی اِی او ایمار امیت جین نے کہا کہ مال ہمارے سنگ میل کے منصوبوں میں سے ایک ہے اور ہم اس کی صلاحیت کے بارے میں پرجوش ہیں ۔ ایمار گروپ کے طور پر ہم متحدہ عرب اَمارات کے سرکردہ ریٹیل برانڈز کے ساتھ تعلقات قائم کرتے ہیں جن میں سے بیشتر اس اقدام سے اِنڈیا میں اَپنی موجودگی کا آغاز کریں گے۔اِس موقعہ پر بتایا گیا کہ ایمار گروپ جموں میں ایک اور سری نگر میں ایک آئی ٹی ٹاور تیار کرے گا۔اُنہوں نے کہا کہ میگا مال جموں وکشمیر میں پہلی اہم ایف ڈی آئی سرمایہ کاری ہے جو متحدہ عرب اَمارات اور ہندوستان کی حکومتوں کے درمیان دستخط شدہ مفاہمت نامہ کے مطابق مارکی پروجیکٹوں میں سرمایہ کاری کی سہولیت فراہم کرتی ہے۔ایماراورمگما ویوز بلڈ ٹیک کی طرف سے شروع کیا گیا مال2026 تک فعال ہو جائے گا۔حکومت جموںوکشمیر نے جنوری 2022ء میں دبئی میں سرمایہ کاروں کی میٹنگ کے دوران وادی میں ایک بلین ڈالر سے زیادہ کے پروجیکٹوں کی فراہمی کے لئے مختلف شراکت داروں اور حکومت متحدہ امارات کے ساتھ ایک دو طرفہ معاہدہ کیا ۔اِن منصوبوں میں ایمار کے ’مال ‘کے علاوہ صنعتی پارکوں ، ایک میڈیکل کالج ، ایک سپیشل ہسپتال ، لاجسٹک مراکز ، آئی ٹی ٹاور وں اور کثیر مقصدی ٹاوروں کی ترقی شامل ہے۔اِس موقعہ پرقومی جنرل سیکرٹری بی جے پی کیلاش وجے ورگیہ ، متحدہ عرب اَمارات کے قونصل جنرل ڈاکٹر اَمان پوری ، لیفٹیننٹ گورنر کے مشیر راجیو رائے بھٹناگر ، چیف سیکرٹری ڈاکٹر ارون کمار مہتا اور ایم ڈی میگنا ویوز بلڈٹیک نکھل نندا اور نامور معززین موجو د تھے۔










