manooj sinha

لیفٹیننٹ گورنر نے تبدیلی لانے والوں کی متاثر کن داستانیں’’ عوام کی آواز‘‘ پروگرام میں شیئر کیں

جموں//لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے ماہانہ ریڈیو پروگرام ’’ عوام کی آواز ‘‘ میں تبدیلی لانے والوں کی متاثر کن داستانیں شیئر کیں اور حکومت جموںوکشمیر یوٹی کی جموں وکشمیر میں ترقی کی صلاحیت کو حاصل کرنے کے لئے نمایاں کوششوں پر روشنی ڈالی۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ جموںوکشمیر اِنتظامیہ شہریوں کی شرکت سے جموںوکشمیر یوٹی کے سماجی و اِقتصادی منظرنامے میں تبدیلی کو آگے بڑھا رہی ہے۔اُنہوں نے مزید کہا کہ ہماری اِجتماعی کوشش سے ترقی پسند ، ترقی پر مبنی اور اسپریشنل سوسائٹی کی تشکیل اور اَگلے 25 برسوں کے سفر کو مضبوط بنیاد رکھنا ہے ۔اُنہوں نے کہا،’’ صوبہ کشمیر ’’ زرد اِنقلاب ‘‘ کا مشاہدہ کر رہا ہے جس میں تیل کے بیجوں کی فصلوں نے نمایاں اِضافہ درج کیا ہے ۔ تیل نکالنے اور قیمتوں میں اِضافے کے مواقع ہوں گے اور اِس سے لوگوں کے لئے زیادہ کاروباری مواقع پیداہوں گے ۔‘‘اُنہوں نے کہا کہ ایک اَندازے کے مطابق اِس برس 800 کروڑ روپے کا سرسوں کا تیل صرف وادی کشمیر میں پیداہوگا اورجموںوکشمیر سرسوں کے تیل کی پیداوار میں خود کفالت کی طرف بڑھے گا۔ لیفٹیننٹ گورنر نے جموںوکشمیر کے لوگوں کو بسوہلی مصوری کی جی آئی ٹیگنگ کے لئے مبارک باد دی۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ جموںوکشمیر یوٹی کے فنی اور ثقافتی ورثے کے تحفظ اور فروغ میں ایک اہم سنگ میل ہے۔اُنہوں نے کہا،’’ جموں خطے سے بسوہلی مصوری پہلی آزاد جی آئی ٹیگ شدہ مصنوعات بن گئی ہے ۔ یہ صارفین کو مستند مصنوعات تک رسائی فراہم کرے گا اور مقامی معیشت کو زبردست فروغ ملے گا۔‘‘لیفٹیننٹ گورنر نے خواتین کاروباری راجوری کی شالینی کھوکھر اور پٹن کی شمشادہ بیگم کی متاثر کن سفر کو شیئرکیا۔اُنہوں نے کہا کہ عزم ، یقین اور حوصلے سے وہ ایک جدید ، مضبوط اور خود اَنحصار جموں میں اہم کردار اَدا کر رہے ہیں۔ اُنہوں نے زرعی پیداوار کو بہتر بنانے اور زراعت کی نئی تکنیکوں کو اَپنانے کی ترغیب دینے کے لئے گلہار کشتواڑ کے سیوارام جیسے ترقی پسند کسانوں کی کوششوں کی ستائش کی۔ لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ سیوارام جی بلاشبہ جموںوکشمیر بہترین ترقی پسند کسانوں میں سے ایک ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ زرعی نظام کو جدید بنانے اور زرعی صنعت کو فروغ دینے کے ان کے عزم نے اُنہیں خطے میں ایک قابلِ تعریف شخصیت بنا دیا ہے ۔اُنہوں نے سوچھ ابھیان کو جن بھاگیداری میں تبدیل کرنے اور سوچھ بھارت کے خواب کو پورا کرنے کے لئے اَننت ناگ کے ساڈیو اڑ ہ کے سرپنچ فاروق احمد گنائی سے شروع کی گئی ’’ پلاسٹک دیں اور سونا لے‘‘ مہم کی ستائش کی۔لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے پی آر آئی کے نمائندوں پر زور دیا کہ وہ اِس نیک اقدام کو دہرائیں اور صفائی مہم میں کمیونٹی کی شرکت کو یقینی بنائیں ۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ سوچھ ابھیان کو فروغ دینے میں یوتھ کلبوں کا بھی اہم رول ہے۔اُنہوں نے قومی پنچایت ایوارڈ۔ 2023ء میں مختلف زمروں میں ایوارڈ حاصل کرنے پر اودھمپور کی سیرا۔اے گرام پنچایت ، بارہمولہ کے کپواڑہ فتح پورہ کے پھلمرگ کے سرپنچ، پنچ اور ضلع اِنتظامیہ کو مبارک باد دی۔لیفٹیننٹ گورنر نے پونچھ کے پروفیسر جگ بیر سنگھ سوڈان کا ان کی بے لوث خدمات اور دوسروں کو اِنسانیت کی خدمت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی ترغیب دینے کے لئے خصوصی طور پر ذِکر کیا ۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ ان کی آرگنائزیشن ’’ پریتم سپریچول فائونڈیشن ‘‘ کی خدماتی سرگرمیاں واقعی قابلِ تعریف ہیں۔اُنہوں نے اکھنور کے گورہ برہمنا گائوں کی سونیا ورما کے کام کی تعریف کی جنہوں نے اَکھنور اور کھور علاقوں میں زائد اَز 60 ہزار پودے لگائے ہیں۔ اُنہوں نے شہریوں سے کہا کہ وہ ماحولیاتی شعور کی اِس متاثر کن مثال پر عمل کریں۔لیفٹیننٹ گورنر نے خواتین کے لئے مخصوص ہاٹوں پر رِیاسی سے پریا ورما کی تجاویز کا اِشتراک کرتے ہوئے خواتین کی قیادت والے اِداروں کو فروغ دینے کے لئے جموں وکشمیر یوٹی اِنتظامیہ کے عزم کا اعادہ کیا۔اُنہوں نے کہا کہ خواتین کاروباری جموںوکشمیر کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں اور حکومت نے کپسٹی بلڈنگ ، کریڈ ٹ اور مارکیٹنگ کے تعلق تک آسان رَسائی کے لئے مناسب اقدامات کئے ہیں۔اُنہوں نے عالمی شہرت یافتہ منگلا ماتا شرائین کی ترقی کے لئے پنچایت بھوانی راجوری کے سرپنچ سنیل چودھری کی تجویز کا حوالہ دیتے ہوئے ضلع اِنتظامیہ کو ہدایت دی ہ وہ شرائین پر سہولیات کو بڑھانے کے لئے عوامی نمائندوں اور کمیونٹی رہنمائوں کے ساتھ میٹنگ منعقد کریں ۔سنیل چودھری نے خشک پتوں سے نامیاتی کھاد بنانے کے لئے اہم اقدامات کا بھی مشورہ دیا۔لیفٹیننٹ گورنر نے جموںوکشمیر تھیٹر کے احیاء کے لئے ایک مربوط اور جامع حکمت عملی کے لئے کرال گنڈ کپواڑہ سے وقار شاہ کی معلومات بھی شیئر کیں۔سنیماہال کھول کر دیہی معیشت کو تقویت دینے کے لئے سانبہ کے سشیل کھجوریا، بارہمولہ سے عبید قریشی سکولوں میں کلاسیکی موسیقی کو متعارف کرنے اور جموں کے ادویتاگوئیل نے اچھی سمیتیوں کے لئے ضلعی سطح کا ایوارڈ متعارف کرنے کی تجویز دی۔ لیفٹیننٹ گورنر نے متعلقہ محکموں اور اَفسران کو موصول ہونے والی قیمتی تجاویز پر ضروری کارروائی کرنے کی ہدایت دی۔