لوک سبھا کے بعد راجیہ سبھا میں بھی بغیر کسی بحث کے جموں وکشمیر کے سالانہ میزانیہ کوملی صوتی ووٹ سے ہری جھنڈی

لوک سبھا کے بعد راجیہ سبھا میں بھی بغیر کسی بحث کے جموں وکشمیر کے سالانہ میزانیہ کوملی صوتی ووٹ سے ہری جھنڈی

1,18,950 کروڑ روپے بجٹ،3711 کروڑ روپے کی ضمنی گرانٹس منظور

2023-24 کیلئے 50 فیصد بجٹ اور2022-23 کیلئے سپلیمنٹری یعنی ضمنی گرانٹس بھی جلد ہی جاری ہونے کاامکان

سری نگر//پارلیمان کے ایوان بالا یعنی راجیہ سبھا نے جموں و کشمیر کے سالانہ بجٹ برائے سال 2023-24کو منظوری دے دی ۔ساتھ ہی مالی سال 2022-23 کیلئے ضمنی گرانٹس پر بھی غور کیا گیا اور انہیں واپس کیا گیا۔جے کے این ایس کے مطابق راجیہ سبھا میں منظور کیساتھ ہی، جموں و کشمیرکے سالانہ بجٹ برائے مالی سال2023-24مبلغ 1,18,950 کروڑ روپے اور مالی سال 2022-23کیلئے.7176 3711 کروڑ روپے کی سپلیمنٹری یعنی ضمنی گرانٹس کو پارلیمنٹ نے منظوری دے دی ہے۔مرکزی وزیرخزانہ نرملا سیتارامن کی سربراہی میں مرکزی وزارت خزانہ اب اگلے سال کے بجٹ کے ساتھ ساتھ جموں و کشمیر کو رواں مالی سال2022-23 کیلئے سپلیمنٹری یعنی ضمنی گرانٹس بھی جلد ہی جاری کرے گی۔مرکزی وزیر مملکت برائے خزانہ پنکج چودھری نے جموں و کشمیر کا بجٹ13 مارچ کو لوک سبھا میں اور14 مارچ کو راجیہ سبھا میں دونوں ایوانوں میں ہنگامہ آرائی کے پیش نظر بغیر تقریر کے پیش کیا۔ اسے لوک سبھا نے 21مارچ کو احتجاج کے درمیان20 منٹ کے اندر صاف کر دیا تھا اور اس پر پیر کوراجیہ سبھا نے غور کیا اور دس سے پندرہ منٹ کے اندر اپوزیشن کے اراکین کی طرف سے نعرے بازی کے دوران اسے واپس کر دیا گیا۔وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن راجیہ سبھا میں اس وقت موجود تھیں جب جموں و کشمیر کا سالانہ بجٹ غور کے لئے لایاگیا لیکن اسے وزیر مملکت برائے خزانہ پنکج چودھری نے غور اور واپسی کیلئے پیش کیا۔تاہم، اپوزیشن ارکان کے مسلسل نعرے بازی کی وجہ سے نہ تو وزیر خزانہ کوئی بیان دے سکے اور نہ ہی کوئی رکن راجیہ سبھا میں بجٹ پر غور کے دوران بات کر سکا۔واضح رہے کہ فروری2021 سے جموں و کشمیر سے راجیہ سبھا میں کوئی رکن نہیں ہے۔ جموں و کشمیر کے چاروں ارکان پارلیمنٹ(راجیہ سبھا) نے فروری 2021 میں اپنی 6 سالہ مدت پوری کی تھی۔اور اسمبلی انتخابات کی عدم موجودگی کے پیش نظرنئے ارکان کاانتخاب عمل میں نہیں لایاگیا۔اس سال جموں و کشمیر کے بجٹ پر پارلیمنٹ میں کوئی بحث نہیں ہو سکی۔ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں ہنگامہ آرائی کے دوران بجٹ کی کاپیاں رکھی گئیں اور ہنگامہ آرائی کے دوران بجٹ بھی منظور کیا گیا۔ یہاں تک کہ وزیر خزانہ بھی دونوں ایوانوں میں سے کسی میں کوئی بیان نہیں دے سکیں، سوائے دونوں ایوانوں میں رکھے گئے تحریری بیان کے۔جموں و کشمیر کا یہ لگاتار چوتھا بجٹ تھا جو یہاں کی قانون ساز اسمبلی کی غیر موجودگی میں پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا۔ جون 2018 میں محبوبہ مفتی کی قیادت والی پی ڈی پی،بی جے پی حکومت سے بی جے پی کی حمایت واپس لینے کے بعد یہاں کوئی اسمبلی نہیں ہے۔پارلیمنٹ سے منظوری کیساتھ، مرکزی وزارت خزانہ سے توقع ہے کہ وہ جموں و کشمیر کیلئے2023-24 کیلئے 50 فیصد بجٹ جلد ہی جاری کرے گی جبکہ سپلیمنٹری یاضمنی گرانٹس بھی جلد ہی آنے کا امکان ہے۔حکام نے بتایا کہ جموں و کشمیر کے لیے مالی سال2022-23کیلئے اصل گرانٹ 1,12,950 کروڑ روپے تھی۔ تاہم، یکم اپریل 2022 سے 31 مارچ 2023 تک سال کے دوران، 3711کروڑ روپے کی رقم متعلقہ ڈیمانڈز کے تحت جموں و کشمیر کے یونین ٹیریٹری کے کنسولیڈیٹڈ فنڈ سے اخراجات کی ادائیگی کے لئے نکالی جائے گی۔ جموں و کشمیر کا مالی سال2023-24 کا کل بجٹ 1,18,950 کروڑ روپے ہے۔یہ لگاتار دوسرا سال ہے جب جموں و کشمیر کیلئے خرچ ایک لاکھ کروڑ روپے سے تجاوز کر گیا ہے۔1,18,950 کروڑ روپے مالیت کے بجٹ میں سے، ریونیو اخراجات 77,009کروڑ روپے اور سرمایہ خرچ 41,491 کروڑ روپے ہوں گے۔حکومت کو یقین ہے کہ بجٹ تمام شعبوں میں ترقی کا باعث بنے گا۔جموں و کشمیر میں پنچایتی راج اداروں کے لیے1313 کروڑ روپے کا انتظام کیا گیا ہے جس سے دیہی علاقوں میں ترقیاتی کاموں کو بھی فروغ ملے گا۔بجٹ کے مطابق یونین ٹیریٹری جموں و کشمیر میں خالی آسامیوں کو فاسٹ ٹریک بنیادوں پر پْر کیا جائے گا۔ اس میں کہا گیا ہے کہ 33426 آسامیاں ریکروٹمنٹ ایجنسیوں کو بھیجی گئی ہیں۔ ان میں سے 25450 انتخاب کیے گئے ہیں جن میں جموں اور کشمیر بینک لمیٹڈ میں 2436 شامل ہیں۔تقریباً 2,02,749 نوجوانوں کو مختلف خود روزگار اسکیموں کے تحت کور کیا گیا ہے اور رواں سال کے آخر تک 2,37,000 نوجوانوں کو کور کرنے کا ہدف ہے۔ اگلے سال تقریباً 3 لاکھ نوجوانوں کو تمام خود روزگار اسکیموں کے تحت لایا جائے گا۔