خواتین کیلئے گلابی ،عمر رسیدہ افراد اور معذور ووٹروں کیلئے پوسٹل بلیٹس ہوں گے
سرینگر//جموں کشمیر میں پارلیمانی انتخابات کیلئے سرکاری سطح پر تیاریاں مکمل کی جاچکی ہیں اور اس ضمن میں انتخابی عملہ اور آلات کو بھی تیاری کی حالت میں رکھا گیا ہے ۔ اس بیچ اس بار ہر ضلع میں خواتین سے متعلق گلابی بوتھ، معذوروں سے متعلق بوتھ اور نوجوانوں کے لیے الگ بوتھ ہوں گے۔ ہر ضلع میں بوتھ ہوں گے جہاں صرف خواتین پولنگ اہلکار ہوں گی۔ ایسے بوتھ بھی ہوں گے جہاں صرف معذور پولنگ اہلکار ہوں گے۔ لوک سبھا انتخابات میں 86.39 لاکھ ووٹر اپنا ووٹ ڈالیں گے۔ ان میں سے 44.35 لاکھ مرد اور 42.58 لاکھ خواتین ہیں۔ اس بار 2.31 لاکھ نئے ووٹر بھی بنائے گئے ہیں۔ کل 11629 پولنگ اسٹیشن بنائے گئے ہیں۔ ان میں سے 629 مراکز نئے بنائے گئے ہیں۔وائس آف انڈیا کے مطابق جموں و کشمیر میں لوک سبھا انتخابات کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ پولنگ بوتھ میں سکیورٹی سمیت تمام سہولیات فراہم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ 85 سال سے زیادہ عمر کے بزرگ اور 40 فیصد سے زیادہ معذوری والے افراد کو پوسٹل بیلٹ کے ذریعے ووٹ ڈالنے کی سہولت حاصل ہوگی۔ ان تمام کوششوں کے پیچھے مقصد یہ ہے کہ ہر شخص اپنے حق رائے دہی کا استعمال منصفانہ اور بے خوف طریقے سے کرے۔نیز 100% ووٹنگ کو یقینی بنایا جائے۔ چیف الیکٹورل آفیسر (سی ای او) پی کے پول نے خصوصی بات چیت میں بتایا کہ اس بار ہر ضلع میں خواتین سے متعلق گلابی بوتھ، معذور افراد سے متعلق بوتھ اور نوجوانوں کے لیے الگ بوتھ ہوں گے۔ ہر ضلع میں بوتھ ہوں گے جہاں صرف خواتین پولنگ اہلکار ہوں گی۔ایسے بوتھ بھی ہوں گے جہاں صرف معذور پولنگ اہلکار ہوں گے۔ اس کے علاوہ ایسے بوتھ بھی ہوں گے جہاں 25 سال تک کے نوجوان جو تین سال سے سرکاری ملازمت میں ہیں، پولنگ اہلکار کے طور پر تعینات ہوں گے۔ پولنگ اہلکاروں کو تربیت دی گئی ہے۔ اس میں ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر سے لے کر ایس ڈی ایم، اے سی آر، ضلع کے نوڈل آفیسر، پولیس آفیسر تک سبھی شامل ہیں۔ ضلعی سطح کے پولنگ اہلکاروں کو تین مرحلوں میں تربیت دی جائے گی۔چیف الیکٹورل آفیسر نے کہا کہ لوک سبھا انتخابات میں 86.39 لاکھ ووٹر اپنا ووٹ ڈالیں گے۔ ان میں سے 44.35 لاکھ مرد اور 42.58 لاکھ خواتین ہیں۔ اس بار 2.31 لاکھ نئے ووٹر بھی بنائے گئے ہیں۔ کل 11629 پولنگ اسٹیشن بنائے گئے ہیں۔ ان میں سے 629 مراکز نئے بنائے گئے ہیں۔ تمام مراکز کے لیے ای وی ایم، وی وی پی اے ٹی اور دیگر آلات، اسٹیشنری وغیرہ کے انتظامات کیے گئے ہیں۔ 25 سے 30 فیصد ای وی ایمز کو ریزرو میں رکھا گیا ہے تاکہ کسی تکنیکی خرابی کی صورت میں انہیں تبدیل کیا جا سکے۔ واضح رہے کہ 2019 میں 79.22 لاکھ ووٹرز تھے، جن میں سے 35.62 لاکھ نے ووٹ دیا۔چیف الیکٹورل آفیسر نے کہا کہ انتخابات میں استعمال ہونے والی گاڑیوں کی فہرست تیار کی جارہی ہے۔ ان گاڑیوں پر جی پی ایس لگانے کا منصوبہ زیر غور ہے۔ کنٹرول روم میں ان کے مقامات کا پتہ لگایا جا سکتا ہے۔ اس سے ای وی ایم مشینوں کو لے جانے کے لیے استعمال ہونے والی گاڑیوں کے بارے میں صحیح وقت پر معلومات مل سکیں گی۔










