قومی شاہراہوں پر حد سے زیادہ اوور لوڈ والی گاڑیوں کے خلاف سخت قدم

قومی شاہراہوں پر حد سے زیادہ اوور لوڈ والی گاڑیوں کے خلاف سخت قدم

اب 40 فیصد یا اس سے زیادہ اوورلوڈڈ کو چار گنا اضافی چارجز ادا کرنے ہونگے/ مرکز

نئی دہلی /ٹی ای این //وزارت سڑک ٹرانسپورٹ و شاہرائیں نے قومی شاہراہوں پر حد سے زیادہ اوور لوڈ والی گاڑیوں کے خلاف سخت قدم اٹھاتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اب 40 فیصد یا اس سے زیادہ اوورلوڈڈ (زیادہ وزن والی) گاڑیوں سے بنیادی ٹول فیس کا چار گنا تک جرمانہ وصول کیا جائے گا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ فیصلہ شاہراہوں کی حفاظت کو بہتر بنانے، سڑکوں کو نقصان سے بچانے اور ٹریفک نظم و نسق کو مؤثر بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اوورلوڈنگ نہ صرف سڑکوں کی عمر کو کم کرتی ہے بلکہ حادثات کے خطرات میں بھی اضافہ کرتی ہے، جس کے باعث سخت کارروائی ناگزیر ہو گئی تھی۔وزارت کے مطابق نئی پالیسی کے تحت اگر کوئی کمرشل گاڑی مقررہ حد سے 40 فیصد یا اس سے زیادہ وزن لے کر قومی شاہراہ پر سفر کرتی پائی گئی تو اس سے ٹول پلازہ پر معمول کی فیس کے بجائے چار گنا تک چارج لیا جائے گا۔ اس کے علاوہ کم سطح کی اوورلوڈنگ پر بھی اضافی فیس عائد کی جائے گی، جس کا تناسب اوورلوڈ کے فیصد کے مطابق طے کیا جائے گا۔حکام نے واضح کیا ہے کہ یہ اقدام اوورلوڈنگ کے رجحان کو روکنے کے لیے ایک مؤثر ڈیٹرنٹ (روک تھام) کے طور پر کام کرے گا۔ گزشتہ برسوں میں بارہا دیکھا گیا ہے کہ ٹرک اور دیگر بھاری گاڑیاں مقررہ وزن سے کہیں زیادہ سامان لے کر چلتی ہیں، جس سے نہ صرف انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچتا ہے بلکہ دیگر مسافروں کی جان کو بھی خطرہ لاحق رہتا ہے۔ذرائع کے مطابق اس فیصلے پر عمل درآمد کے لیے قومی شاہراہوں پر موجود igh in-motion- سسٹمز اور جدید نگرانی کے آلات کو مزید فعال بنایا جائے گا تاکہ گاڑیوں کے وزن کی درست جانچ ممکن ہو سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ متعلقہ حکام کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ٹول پلازہ پر چیکنگ کے عمل کو سخت بنائیں۔ٹرانسپورٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس پالیسی پر سختی سے عمل کیا گیا تو اس سے نہ صرف سڑکوں کی دیکھ بھال پر آنے والے اخراجات میں کمی آئے گی بلکہ ٹریفک حادثات میں بھی واضح کمی ممکن ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس کے ساتھ متبادل لاجسٹک سہولیات اور آگاہی مہم چلانا بھی ضروری ہوگا تاکہ ٹرانسپورٹرز کو قوانین پر عمل کرنے کی ترغیب ملے۔ادھر ٹرانسپورٹرز کے بعض حلقوں نے اس فیصلے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اچانک سخت جرمانوں سے کاروباری لاگت میں اضافہ ہوگا، تاہم حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام طویل المدتی مفاد میں ہے اور اس سے مجموعی طور پر نظام میں بہتری آئے گی۔حکام نے عندیہ دیا ہے کہ اس پالیسی کے نفاذ کے بعد خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف مزید سخت اقدامات بھی زیر غور لائے جا سکتے ہیں تاکہ قومی شاہراہوں کو محفوظ اور پائیدار بنایا جا سکے۔