قومی زعفرانی مشن کے تحت 2,548.75 ہیکٹر زعفرانی اَراضی بحال کی گئی۔ جاوید احمد ڈار

قومی زعفرانی مشن کے تحت 2,548.75 ہیکٹر زعفرانی اَراضی بحال کی گئی۔ جاوید احمد ڈار

وزیر برائے زرعی پیداوار جاوید احمد دار نے آج بتایا کہ قومی مشن برائے زعفران نے نمایاں پیش رفت کی ہے بالخصوصی آبپاشی کے نظام کو مستحکم کرتے ہوئے 2,548.75 ہیکٹر زعفرانی اراضی کو بحال کیا ہے۔وزیر موصوف نے قانون ساز اسمبلی میں جسٹس حسنین مسعودی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے مزید کہا کہ حکومت نے زعفران کے زیر کاشت رقبے میں کمی کو روکنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ 2010-11 ء سے اَب تک زعفران کی کاشت کا رقبہ 3,715 ہیکٹر (3,665 ہیکٹر صوبہ کشمیر اور 50 ہیکٹر کشتواڑ میں) رہ گیاہے جس میں مزید علاقوں کو توسیع کے لئے جامع زرعی ترقیاتی پروگرام (ایچ اے ڈِی پی) کے تعاون سے نشاندہی کی گئی ہے ۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ زعفران کی پیداوار 2009-10 ء میں 2.50 کلوگرام فی ہیکٹر سے بڑھ کر 2023 ء میں 4.42 کلوگرام فی ہیکٹر تک بڑھ گئی ہے۔ اُنہوں نے بتایا کہ قومی مشن برائے زعفران کے تحت 124 کمیونٹی بورویلوںکا نیٹ ورک تعمیر کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے، جہاں ہر بورویل 30 ہیکٹر کے علاقے کو پانی فراہم کرے گا۔ یہ سپرنکلر آبپاشی نظام سے منسلک ہوں گے جو 3,665 ہیکٹر زعفران کے کھیتوں کو پانی مہیا کرے گا۔وزیر زراعت نے بتایاکہ 85 بورویلوں کو محکمہ زراعت کے حوالے کیا گیا ہے، تاہم باقی 39 بورویلوں کی تعمیر میں رکاوٹیں درپیش ہیں۔ بار بار ٹینڈرز طلب کئے جانے کے باوجود کمزور شرکت کے باعث ان منصوبوں میں تاخیر ہو رہی ہے۔اُنہوں نے یہ بھی بتایا کہ حکومتی کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق 77 بورویل طویل عرصے سے کام نہیں کر رہے ہیں وزیر زراعت نے کہا کہ 2010-11 ء میں مرکزی وزارت زراعت اور کارپوریشن نے زعفران کی پیداوار کوبڑھانے اور اِقتصادی بحالی کے لئے 400 کروڑ روپے کے پروجیکٹ کو منظوری دی تھی۔اُنہوں نے مزید بتایا کہ زعفران پارک اوراِنڈین اِنسٹی چیوٹ آف کشمیر زعفران اینڈ ٹیکنالوجی سینٹر (آئی آئی کے ایس ٹی سی) کے قیام سے کسانوں کو زعفران کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے کو ملا جو 2021-22 ء میں 80,000 روپے فی کلوگرام سے بڑھ کر 2,20,000 روپے فی کلوگرام تک پہنچ گئی۔ اِسی دوران سائنسی پوسٹ ہارویسٹ پروسسنگ سے زعفران کا سٹگما ریکوری 22 گرام فی کلوگرام سے بڑھ کر 28 گرام فی کلوگرام (6 گرام کا اضافہ) ہو گئی۔اُنہوں نے مزید بتایا کہ اس مشن کے ذریعے نئی ٹیکنالوجیزکواِنڈین اِنسٹی چیوٹ آف کشمیر زعفران اینڈ ٹیکنالوجی سینٹر (آئی آئی کے ایس ٹی سی) کے ذریعے عملائی گئی جس کی مدد سے زعفران کے رنگ کی کوالٹی روایتی طریقے میں 8 فیصد سے بڑھ کر سائنسی طریقے میں 16 فیصد تک بڑھ گئی۔وزیرموصوف نے بتایا کہ مشن نے زعفران کاشتکاروں کو بیچوانوں اور دلالوں کے استحصال سے بچانے کے لئے آئی آئی کے ایس ٹی سی میں اِی۔نیلامی کا آغاز کیا جس سے کسانوں کو منصفانہ قیمتیں ملیں اور پورے ملک میں شفاف کاروبار ممکن ہوا۔اُنہوں نے کہا کہ محکمہ زراعت نے زعفران پیدا کرنے والے کسانوں میں غیر مطلوبہ عنصر کی تخریبی سرگرمیوں سے نمٹنے کے لئے مربوط کوششیں کی ہیں جن میں سپرنکلر سسٹمز اور بورویلوں کونقصان پہنچانا شامل ہے۔ اِس کے علاوہ، رئیل اسٹیٹ ڈیلرز اور لینڈ گرابرز بھی زعفران کی کاشت کے لئے خطرہ بن رہے ہیں۔ اس علاقے میںمتعلقہ ریونیو اَفسران کے پاس بھی شکایات درج کی گئی ہیں۔وزیر نے کہا کہ مشن کے تحت زیادہ تر مقاصد حاصل کئے جا چکے ہیں، تاہم کچھ اہداف مختلف وجوہات کی بنا پر مکمل نہیں ہو سکے۔ایم وائی تاریگامی، سنیل شرما اور ارجن سنگھ نے اِس معاملے پر ضمنی سوالات اُٹھائے۔