کنیکٹکٹ: سائنس دانوں نے موسمیاتی تغیر کی وجہ سے قطبین پر پگھلتی برف کو دوبارہ جمانے کے لیے دلچسپ منصوبہ پیش کیا ہے۔ایک نئی تحقیق میں ماہرین کا کہنا ہے کہ اونچی پرواز کرنے والے جہازوں کی مدد سے مائیکرو اسکوپک ایروسل ذرّات کو قطبین کے ماحول میں 60 ڈگری ارض البلد سے پھینکے جاسکتاہے۔سائنس دانوں کے مطابق اگر 43 ہزار فِٹ سے ان ایروسلز کو پھینکا جائے تو وہ آہستہ آہستہ سطح کی جانب جائیں گے اور ایک تہہ بنادیں گے۔یہ اضافی تہہ پگھلتے قطبین کو دوبارہ جما دے گی اور پگھلتے گلیشیئر اور سمندروں کی بڑھتی سطح کے مسئلے کو ختم کرے گی۔سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ تکنیک شمسی شعاؤں کو واپس خلاء میں بھیج کر موسمیاتی تغیر کے اثرات کو کم کرے گی۔اسٹریٹوسفیرک ایروسل انجیکشن نامی اس منصوبے پر ہر سال 11 ارب ڈالرز لاگت آئی گی لیکن محققین کے مطابق یہ طریقہ موسمیاتی تغیر سے نمٹنے کے لیے کیے جانے والے دیگر طریقوں سے کم مہنگا ہوگا۔یہ نیا منصوبہ اِنوائرنمنٹل کمیونیکیشن نامی جرنل میں شائع ہونے والی ایک نئی تحقیق میں پیش کیا گیا۔ یہ تحقیق امریکا کی ییل یونیورسٹی کے ویک اسمتھ کی رہنمائی میں کی گئی۔
جولی اورگایتری کی شاندار واپسی، سیمی فائنل میں داخل
ہندوستان۔ ایران کی خواتین کبڈی ٹیموں کی مشترکہ پریکٹس
آبنائے ہرمز ’’امریکی سرزمین‘‘ ہے، ٹرمپ کا دعویٰ
روسی تنصیب اور آن لائن ریٹیل کمپنی کے گودام پر حملے
جرمن وزیر خارجہ کا دورہ یوکرین، مزید حمایت کا عزم
صومالی قزاقوں نے یمن کے قریب آئل ٹینکر اغوا کر لیا
ایران کا مضبوط پوزیشن کے ساتھ امریکہ سے جنگ ختم کرنے کا اشارہ
ٹرمپ کی ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک کو دھمکیاں، تیل کی قیمتوں میں اضافہ
جنوبی کوریا کا یورپ تک آزمائشی بحری سفر
افغان نژاد عائشہ وہاب کیلیفورنیا کی رکن اسمبلی منتخب ‘ اسرائیل نواز گروپس کی کوششیں ناکام










