کنیکٹکٹ: سائنس دانوں نے موسمیاتی تغیر کی وجہ سے قطبین پر پگھلتی برف کو دوبارہ جمانے کے لیے دلچسپ منصوبہ پیش کیا ہے۔ایک نئی تحقیق میں ماہرین کا کہنا ہے کہ اونچی پرواز کرنے والے جہازوں کی مدد سے مائیکرو اسکوپک ایروسل ذرّات کو قطبین کے ماحول میں 60 ڈگری ارض البلد سے پھینکے جاسکتاہے۔سائنس دانوں کے مطابق اگر 43 ہزار فِٹ سے ان ایروسلز کو پھینکا جائے تو وہ آہستہ آہستہ سطح کی جانب جائیں گے اور ایک تہہ بنادیں گے۔یہ اضافی تہہ پگھلتے قطبین کو دوبارہ جما دے گی اور پگھلتے گلیشیئر اور سمندروں کی بڑھتی سطح کے مسئلے کو ختم کرے گی۔سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ تکنیک شمسی شعاؤں کو واپس خلاء میں بھیج کر موسمیاتی تغیر کے اثرات کو کم کرے گی۔اسٹریٹوسفیرک ایروسل انجیکشن نامی اس منصوبے پر ہر سال 11 ارب ڈالرز لاگت آئی گی لیکن محققین کے مطابق یہ طریقہ موسمیاتی تغیر سے نمٹنے کے لیے کیے جانے والے دیگر طریقوں سے کم مہنگا ہوگا۔یہ نیا منصوبہ اِنوائرنمنٹل کمیونیکیشن نامی جرنل میں شائع ہونے والی ایک نئی تحقیق میں پیش کیا گیا۔ یہ تحقیق امریکا کی ییل یونیورسٹی کے ویک اسمتھ کی رہنمائی میں کی گئی۔
کشمیری صوفیانہ موسیقی کو یونیسکو ثقافتی ورثہ قرار دلانے کی وکالت
ڈیجیٹل انڈیا نے دنیا میں بھارت کی نئی شناخت قائم کی// وزیر اعظم نریندر مودی
جموں و کشمیر میں ہر 2میں سے ایک شہری خاتون موٹاپے کا شکار
یاترا سے قبل جموں،سرینگر شاہراہ پر 3.5 کلومیٹر طویل جنوبی ٹنل مکمل
وادی کے اسکولوں میں 6 جولائی سے 14 روزہ گرمائی تعطیلات کا اعلان
سپریم کورٹ کی تشویش کے بعد ہائی کورٹ متحرک
فوجی سربراہ جنرل دھیراج سیٹھ نے “’وجے‘ ویژن کا اعلان کردیا
100 ڈگری کالجوں میں 100 سے بھی کم داخلے، اندراج کا بحران سنگین
سکینہ اِیتو نے کشمیر کے پانچ اسمبلی حلقوں کے ترقیاتی مسائل کا جائزہ لیا
لیفٹیننٹ گورنر نے این ایچ ۔44 پر رامسو کے قریب 810 میٹر طویل وایاڈکٹ اور ڈگڈول سے پنتھیال کو










