’سپاہی اولین ترجیح‘، چوکسی، اختراع اور مشترکہ جنگی حکمت عملی فوج کی نئی سمت ہوگی// آرمی چیف
سرینگر// بھارتی فوج کے نئے سربراہ جنرل دھیراج سیٹھ نے بدھ کو اپنے عہدے کا باقاعدہ چارج سنبھالنے کے بعد بھارتی فوج کے لیے (وجے) کے نام سے ایک نئی حکمت عملی اور وڑن کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کا مقصد ایسی جدید، ٹیکنالوجی سے لیس، خود انحصار اور مستقبل کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے والی فوج تیار کرنا ہے جو روایتی اور غیر روایتی دونوں طرح کے جنگی محاذوں پر مؤثر کارروائی کی صلاحیت رکھتی ہو۔یو این ایس کے مطابق ساؤتھ بلاک میں گارڈ آف آنر حاصل کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جنرل دھیراج سیٹھ نے کہا کہ بھارتی فوج ایک جنگ آزمودہ، پیشہ ور اور مکمل طور پر تیار فورس ہے، جو ہر قسم کے سکیورٹی چیلنج کا مقابلہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ عالمی اور علاقائی حالات تیزی سے بدل رہے ہیں، اس لیے فوج کو بھی جدید ٹیکنالوجی، نئے جنگی طریقوں اور بدلتی ہوئی دفاعی ضروریات کے مطابق ڈھالنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ 31ویں چیف آف آرمی اسٹاف کی حیثیت سے ذمہ داری سنبھالنا ان کے لیے اعزاز اور عاجزی کا لمحہ ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ وہ اپنے فرائض کو قوم، آئین اور فوجی روایات کے مطابق پوری دیانت داری اور عزم کے ساتھ انجام دیں گے۔جنرل سیٹھ نے اپنے خطاب کے آغاز میں ملک کی خاطر جان قربان کرنے والے فوجیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی بہادری، قربانی اور فرض شناسی ہمیشہ بھارتی فوج کے لیے مشعلِ راہ رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ شہداء کی قربانیاں نئی نسل کے فوجیوں کو بھی ملک کی خدمت کے لیے مسلسل حوصلہ فراہم کرتی رہیں گی۔انہوں نے بتایا کہ فوج کی جدید کاری کے لیے ان کی حکمت عملی کو ‘VIJAY’ کا نام دیا گیا ہے، جس کے ہر حرف میں ایک بنیادی مقصد پوشیدہ ہے۔ ان کے مطابق’ V‘ سے مراد ویجی لنس(چوکسی) ہے تاکہ ہر ممکن خطرے پر مسلسل نظر رکھی جا سکے، ’I‘ سے انویشن(اختراع) یعنی نئی ٹیکنالوجی اور جدید دفاعی نظام کو اپنانا، ’J‘سے جوائنٹنس اینڈ انٹی گریشن (تینوں افواج کے درمیان مشترکہ کارروائی اور ہم آہنگی)’A‘ سے آتم نربم بھارت(دفاعی شعبے میں خود انحصاری) اور ’Y‘سے یودھا فرسٹ(سپاہی کو اولین ترجیح) مراد ہے، جس کے تحت فوجیوں کی تربیت، فلاح و بہبود اور جنگی استعداد میں اضافہ کیا جائے گا۔آرمی چیف نے کہا کہ یہ وڑن وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کی جانب سے متعارف کرائے گئے تبدیلی کے10سال (2023-2032) منصوبے سے ہم آہنگ ہے، جس کے تحت بھارتی فوج کی تنظیم نو، جدید اسلحہ کی شمولیت، مصنوعی ذہانت، سائبر صلاحیتوں، ڈرون ٹیکنالوجی اور نیٹ ورک پر مبنی جنگی نظام کو فروغ دیا جا رہا ہے۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مستقبل کی جنگیں صرف زمینی محاذ تک محدود نہیں رہیں گی بلکہ سائبر اسپیس، خلائی نظام، الیکٹرانک وارفیئر، مصنوعی ذہانت اور اطلاعاتی میدان بھی جنگی حکمت عملی کا اہم حصہ ہوں گے۔ اس لیے بھارتی فوج کو ان تمام شعبوں میں بیک وقت کارروائی کی صلاحیت سے لیس کرنا ناگزیر ہے۔جنرل دھیراج سیٹھ نے یکم جولائی سے بھارتی فوج کی قیادت سنبھالی ہے۔ وہ اس سے قبل نائب سربراہِ فوج کے عہدے پر فائز تھے اور مغربی سرحد پر دو اہم آپریشنل کمانڈز کی قیادت کر چکے ہیں۔ وہ نیشنل ڈیفنس اکیڈمی، کھڑک واسلہ کے فارغ التحصیل ہیں اور دسمبر 1986 میں آرمرڈ کور میں کمیشن حاصل کیا تھا۔ ان کی تقرری کو بھارتی فوج کی جدید کاری کے عمل میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔










