یاترا سے قبل جموں،سرینگر شاہراہ پر 3.5 کلومیٹر طویل جنوبی ٹنل مکمل

یاترا سے قبل جموں،سرینگر شاہراہ پر 3.5 کلومیٹر طویل جنوبی ٹنل مکمل

سرنگ خونی نالہ اور پنتھیال کے خطرناک حصوں کا متبادل راستہ بنے گی

سرینگر// جموں و کشمیر کی لائف لائن سمجھی جانے والی جموں،سرینگر قومی شاہراہ پر بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے سلسلے میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ نیشنل ہائی ویز اتھارٹی آف انڈیا (این ایچ اے آئی) نے رام بن ضلع میں پنتھیال اور ڈگڈول کے درمیان تعمیر کی گئی 3.5 کلومیٹر طویل اے ٹی-03 جنوبی سمت کی سرنگ کا کام مکمل کر لیا ہے، جسے سالانہ امرناتھ یاترا کے آغاز سے قبل ٹریفک کے لیے کھولے جانے کی توقع ہے۔یو این ایس کے مطابق حکام کے مطابق تقریباً 846 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والی یہ سرنگ جموں۔سرینگر قومی شاہراہ کی جدید کاری کے بڑے منصوبے کا حصہ ہے، جس کا مقصد شاہراہ کو زیادہ محفوظ، تیز رفتار اور ہر موسم میں قابلِ استعمال بنانا ہے۔منصوبے سے وابستہ حکام نے بتایا کہ نئی سرنگ کے ذریعے کھونی نالہ اور پنتھیال کے ان خطرناک حصوں کو مکمل طور پر بائی پاس کیا جائے گا جو کئی دہائیوں سے لینڈ سلائیڈنگ، پہاڑوں سے پتھر گرنے، اچانک آنے والے سیلاب، سڑک حادثات اور بار بار ٹریفک کی بندش کے باعث مسافروں کے لیے شدید مشکلات کا سبب بنتے رہے ہیں۔سرلا پروجیکٹ ورکس پرائیویٹ لمیٹڈ کے ٹیکنیکل منیجر ہریش کنجا نے کہا کہ سرنگ کے فعال ہونے سے جموں۔سرینگر قومی شاہراہ پر ٹریفک کی روانی میں نمایاں بہتری آئے گی اور یہ مسافروں کے لیے ایک محفوظ، تیز رفتار اور ہر موسم میں قابلِ اعتماد متبادل راستہ فراہم کرے گی۔انہوں نے کہا کہ کھونی نالہ اور پنتھیال کے علاقے خاص طور پر برسات کے موسم میں شاہراہ کے انتہائی حساس اور خطرناک حصوں میں شمار ہوتے ہیں، جہاں اکثر لینڈ سلائیڈنگ اور پتھر گرنے کے باعث سڑک کئی کئی گھنٹوں بلکہ بعض اوقات کئی دنوں تک بند رہتی ہے، جس سے نہ صرف عام مسافر بلکہ مال بردار گاڑیوں کو بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ہریش کنجا کے مطابق نئی سرنگ کے کھلنے کے بعد ان حادثات سے متاثرہ حصوں کو مکمل طور پر نظرانداز کیا جا سکے گا، جس سے مسافر اور تجارتی گاڑیوں کی آمدورفت زیادہ محفوظ، تیز اور بلا رکاوٹ ہو جائے گی۔یو این ایس کے مطابق حکام نے بتایا کہ سرنگ کی تکمیل سے آئندہ امرناتھ یاترا کے دوران یاتریوں کی نقل و حرکت میں بھی آسانی پیدا ہوگی۔ اس سے سفر کا دورانیہ کم ہوگا، ٹریفک کا دباؤ گھٹے گا اور قومی شاہراہ پر مجموعی طور پر سفری سلامتی میں نمایاں اضافہ ہوگا۔سرنگ کی تکمیل کا مقامی آبادی، ٹرانسپورٹ شعبے سے وابستہ افراد اور سیاحتی صنعت کے نمائندوں نے خیر مقدم کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس منصوبے سے جموں اور وادی کشمیر کے درمیان سال بھر بہتر زمینی رابطہ برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔یو این ایس کے مطابق ماہرین کے مطابق یہ سرنگ نہ صرف شاہراہ پر حادثات اور سفری رکاوٹوں میں کمی لائے گی بلکہ سیاحت، تجارت اور کاروباری سرگرمیوں کو بھی فروغ دے گی، جبکہ کشمیر کو ملک کے دیگر حصوں سے جوڑنے والی واحد اہم زمینی شاہراہ کی پائیداری اور قابلِ اعتماد حیثیت مزید مضبوط ہوگی۔این ایچ اے آئی کا کہنا ہے کہ اے ٹی-03 جنوبی سمت کی سرنگ کی تکمیل جموں۔سرینگر قومی شاہراہ کی اپ گریڈیشن کے جاری منصوبے میں ایک اہم سنگ میل ہے، جس کا مقصد جموں و کشمیر میں جدید شاہراہی انفراسٹرکچر کی تعمیر اور ہر موسم میں بلا رکاوٹ زمینی رابطہ یقینی بنانا ہے۔