جموں//جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے جاری سیشن میں وقفہ صفرکے دوران اراکین نے کئی اہم معاملات اُٹھائے جن میں حکمرانی اور عوامی مسائل پر توجہ مرکوز کی گئی۔سیشن کا آغاز رُکن قانون ساز اسمبلی کولگام ایم وائی تاریگامی کی تقریر سے ہوا،جو قانون ساز اسمبلی کے سینئر رُکن اور حال ہی میں تشکیل دی گئی بزنس ایڈوائزری کمیٹی (بی اے سی) کے رُکن بھی ہیں۔ اُنہوں نے واضح کیا کہ جموں و کشمیر تنظیم نو ایکٹ 2019 کے مطابق سپیکر کو قانون سازی کے معاملات میں مکمل صوابدید حاصل ہے اور اُنہیں کسی بیرونی مشورے کی ضرورت نہیں۔ اُنہوں نے اسمبلی سیکرٹریٹ کے ملازمین کی محنت اور لگن کو بھی سراہا۔رُکن قانون ساز اسمبلی پانپور جسٹس (ریٹائرڈ) حسنین مسعودی نے کاکا پورہ میں ریلوے کراسنگ پر بلاک شدہ اَنڈر پاس کے اہم مسئلے کو اُجاگر کیا۔ اُنہوں نے اِس بات پر زور دیا کہ یہ رُکاوٹ عوامی رسائی کو متاثر کر رہی ہے بالخصوص زرعی زمینوں تک پہنچنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ اُنہوں نے حکومت سے درخواست کی کہ وادی میں قریب آتے بوائی کے موسم کے پیش نظر اس انڈر پاس کو فوری طور پر دوبارہ کھولا جائے۔ممبر قانون ساز اسمبلی پٹن جاوید ریاض بیدار نے ایس ڈی ایچ پٹن میں اینستھیزیا کنسلٹنٹ کی عدم دستیابی کے مسئلے کو اُجاگر کیا۔ اُنہوں نے اِس بات پر زور دیا کہ ہسپتال میں بلاتعطل طبی خدمات کو یقینی بنانے کے لئے ایک ماہر ڈاکٹر کی فوری تعیناتی ضروری ہے۔










