قانون ساز اسمبلی میں لیفٹیننٹ گورنر کے خطاب پر ’ شکریہ کی تحریک‘پر بحث شروع

قانون ساز اسمبلی میں لیفٹیننٹ گورنر کے خطاب پر ’ شکریہ کی تحریک‘پر بحث شروع

جموں// جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں آج لیفٹیننٹ گورنر کے خطاب پر’ شکریہ کی تحریک‘ پر بحث شروع کی جسے سپیکر قانون ساز اسمبلی عبدالرحیم راتھر نے ایوان میں پیش کیا۔یہ تحریک مُبار ک گُل نے پیش کی جس کی تائید غلام احمد میر نے کی۔مُبارک گُل نے شکریہ کی تحریک پر بات کرتے ہوئے کہا کہ عوام نے اِس حکومت کو بھرپور مینڈیٹ دیا ہے۔ اُنہوں نے ریاستی درجے کی بحالی پر دیتے ہوئے کہا، ’’جموں و کشمیر کے لئے ریاستی درجے کی بحالی ہمارا حق ہے۔‘‘غلام احمد میر نے اَپنی تقریر کے دوران عوام کا شکریہ اَدا کیا کہ انہوں نے اِنتخابی عمل پر اعتماد ظاہر کیا اور اسمبلی اِنتخابات میں بڑی تعداد میں حصہ لیا۔ اُنہوں نے اَرکان اسمبلی پر زور دیا کہ وہ ایوان کے وقت کا درست اِستعمال کریں۔شیام لال شرما نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ ہمیں اَپنے اداروں کو مضبوط بنانے کے لئے اِجتماعی طور پر کام کرنا چاہیے۔سجاد احمد شاہین نے حکومت کی جانب سے جموں و کشمیر کی ترقی کے لئے پیش کئے گئے جامع روڈ میپ کو سراہا۔ اُنہوں نے اَپنے حلقے میں صحت سہولیات اور تعلیمی ڈھانچے کی ترقی پر زور دیا۔اُنہوں نے تمام تمام قانون سازوں کو ریاستی درجے کی بحالی کے لئے اِجتماعی طور پر کا م کرنے کی تاکید کی۔فاروق احمد شاہ نے اپنی تقریر میں کہا کہ ہمیں ایوان کی عظمت کو برقرار رکھنا ہے اور عوام کی فلاح و بہبود کے لئے کام کرنا ہے۔ اُنہوں نے گلمرگ میں دیر پاسیاحت کو فروغ دینے، صنعتی ترقی اور نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لئے ایک پالیسی مرتب کرنے پر زور دیا۔ڈاکٹر رمیشور سنگھ نے بھی سپیکر کی طرف سے پیش کردہ شکریہ کی تحریک کے دوران بات کی۔اُنہوں نے حکومت سے این آر ایچ ایم ملازمین کی مستقلی کے لئے پالیسی بنانے پر زور دیا۔ اِس کے علاوہ اُنہوں نے جموں و کشمیر کے نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور غیر قانونی کان کنی کی سرگرمیوں پر بروقت کارروائی کی ضرورت پر بھی زور دیا۔