جموں//جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی نے آج جمعہ کو وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی طرف سے پیش کردہ بجٹ۔2025 پر بحث کی۔ جاوید حسین بیگ نے بجٹ پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے بجٹ کا جامع جائزہ پیش کیا اور کہا کہ یہ مستقبل کی منصوبہ بندی کی عکاسی کرتا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ ایک اِنتہائی متوازن بجٹ ہے جس میں معاشرے کے تمام طبقات کا خیال رکھا گیا ہے ۔اُنہوں نے کہا کہ عوام کو حکومت سے بہت سی توقعات وابستہ ہیں اور ان سے کئے گئے تمام وعدے پورے کئے جائیں گے۔
طارق حمید قرہ نے بجٹ میں تجویز کردہ اقدامات پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ میں تمام سماجی شعبوں کو مثبت انداز میں شامل کیا گیا ہے۔ تاہم اُنہوں نے کہا کہ یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدوروں، آنگن واڑی ورکروں، خالی اسامیوں کو پُر کرنے، پنڈتوں کی باز آباد کاری جیسے معاملات کو بھی بجٹ میں مناسب اہمیت دی جانی چاہیے تھی۔اُنہوں نے دیگر سماجی و اِقتصادی پہلوؤں، دیرپاسیاحت، معدنیات کے استحصال اور دیگر موضوعات پر بھی تفصیل سے بات کی۔اُنہوں نے کہا کہ عوام نے ہم پر بھاری ذمہ داری سونپی ہے اور ہم ان کے دئیے گئے مینڈیٹ کا احترام کرنے کے پابند ہیں۔
اَرجن سنگھ راجو نے عمر عبداللہ کی جانب سے پیش کئے گئے بجٹ کی مکمل حمایت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک وژن، روڈ میپ اور عوام سے کئے گئے وعدوں کا عہد ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ بجٹ اُمید کی کرن ہے جو اِس بات کو یقینی بناتا ہے کہ معاشرے کا کوئی بھی طبقہ نظر انداز نہ ہو۔
تنویر صادق نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ یہ تاریخی لمحہ ہے کہ جموں و کشمیر میں UT کے بھاری خسارے کے باوجود ایسا بجٹ پیش کیا گیا ہے۔تنویر صادق نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک تاریخی لمحہ ہے کہ جموںوکشمیر یوٹی کے بھاری خسارے کے باوجود ایسا بجٹ پیش کیا گیا ہے۔اُنہوں نے کہا،’’یہ ہماری حکومت کا پہلا بجٹ ہے اور ایک اچھا آغاز ہے حالاں کہ ہم ایک مشکل صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔ عوام سے کئے گئے تمام وعدے مرحلہ وار پورے کئے جائیں گے۔‘‘اُنہوں نے مزید کہا کہ انہیں اپوزیشن بنچوں سے کسی تعریف کی توقع نہیں کیوں کہ اُن کا کام حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرنا ہے۔
سنیل بھردواج نے کہا کہ بجٹ عوام کی اُمنگوں کی پوری طرح عکاسی نہیں کرتاہےنذیر گریزی نے گفتگو کے دوران کہا کہ یہ ایک متوازن بجٹ ہے جس میں زیادہ تر پسماندہ لوگوں کا خیال رکھا گیا ہے۔اُنہوں نے کہا،’’یہ ہماری حکومت کا پہلا بجٹ ہے اور لوگ اگلے پانچ برسوں میں ہمارے کام کو دیکھیں گے۔ ہم مناسب وقت پر تمام مسائل کو حل کریں گے۔‘‘
بلونت سنگھ منکوٹیہ نے جموں و کشمیر کو فراہم کی گئی مرکزی حکومت کی معاونت کو سراہا۔فاروق شاہ نے کہا کہ یہ ایک شاندار بجٹ ہے اِس میں معاشرے کے ہر طبقے کا خیال رکھا گیا ہے بالخصوص خواتین کو بااِختیار بنانے ، سیاحت ، 200 یونٹ مفت بجلی ، میریج اسسٹنس سمیت دیگر چیزوں پر توجہ دی گئی ہے۔اُنہوں نے کہا کہ اگر ہم جموں و کشمیر کی سیاحتی صلاحیت کو مکمل طور پر بروئے کار لائیں تو یہ ایشیا کا سوئٹزرلینڈ بن سکتا ہے۔










