قانون ساز اسمبلی میں بجٹ پر بحث دوسرے دِن بھی جاری

قانون ساز اسمبلی میں بجٹ پر بحث دوسرے دِن بھی جاری

جموں// جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں مالی برس 2025-26 ء کے بجٹ پرجاری بحث کے دوسرے دِن قانون سازوں نے بجٹ کے مختلف پہلوئوں پر بات کی۔ بحث کا آغاز کرتے ہوئے میر سیف اللہ نے کہا کہ یہ ایک منفرد بجٹ ہے جو جموں و کشمیر کے ہر خطے کا احاطہ کرتا ہے۔ اُنہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کا شکریہ اَدا کرتے ہوئے کہا کہ یہ بجٹ عام لوگوں اور معاشرے کے ہر طبقے کے لئے فائدہ مند ثابت ہوگا۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ یہ بجٹ جموں و کشمیر کو نئی بلندیوں تک لے جائے گا اور جموںوکشمیر کو ملک کے ترقی یافتہ خطوں میں شامل کرے گا۔پروفیسر گھارو رام بھگت نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر کی معیشت زرعی شعبے پر منحصر ہے۔ اس لئے زراعت اور اس سے منسلک شعبوں پر زیادہ توجہ دی جانی چاہیے۔ اُنہوں نے کہا کہ ان شعبوں میں سرمایہ کاری سے دیہی ترقی کو فروغ ملے گا، روزگار کے مواقع بڑھیں گے اور دیرپاترقی کو یقینی بنایا جائے گا۔ اُنہوں نے کسانوں کو درپیش مسائل کو حل کرنے پر بھی زور دیا۔اُنہوں نے مزید کہا کہ مرکزی حکومت کی کامیابیوں اور جموں و کشمیر کی ترقی کے لئے فلاحی اَقدامات کو بھی اُجاگر کرنا ضروری ہے۔جسٹس (ریٹائرڈ) حسنین مسعودی نے بجٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کا شکریہ اَدا کیا اور کہا کہ یہ ایک جامع اور عوام دوست بجٹ ہے۔ اُنہوں نے بجٹ کے دوران پیش کئے گئے مختلف اَقدامات کی ستائش کی اور کہا کہ یہ اَقدامات جموں و کشمیر کے لوگوں کی اُمنگوں کو پورا کریں گے۔اِفتخار احمد نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ بجٹ تمام معاشرتی پہلوؤں کو چھوتا ہے اور ایک مضبوط ترقیاتی بنیاد رکھے گا۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ اگلے پانچ برس جموں و کشمیر کے لئے ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہوں گے۔ اُنہوں نے بجٹ میں صحت، تعلیم اور دیگر ترجیحی شعبوں پر خصوصی توجہ دینے پر وزیر اعلیٰ کا شکریہ اَدا کیا اور ایس سی طلباء کے لئے ہوسٹل فراہم کرنے کی درخواست کی۔سلمان ساگر نے بجٹ کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ یہ بجٹ اگلے پانچ برسوں کے لئے جموں و کشمیر کی نئی ترقی کی بنیاد ثابت ہوگا۔ اُنہوں نے خواتین کی فلاح و بہبود کے اَقدامات کو سراہا اور کہا کہ اِس بجٹ سے آبادی کے ایک بڑے حصے کو فائدہ ہوگا۔اُنہوں نے انتودیہ انا یوجنا (اے اے وائی) کنبوں، معمر اَفراد، بیوہ پنشنروں اور جسمانی طور خاص اَفراد کے لئے اقدامات کی بھی ستائش کی۔ اُنہوں نے ٹرانسپورٹروں کے لئے کچھ مراعات، بی پی ایل کنبوںکے بجلی صارفین کے لئے ایمنسٹی سکیم، سی آئی سی آپریٹروں اور دیگر طبقات کے لئے بھی بجٹ میں ریلیف دینے کا مطالبہ کیا۔اِس موقعہ پر یودھویر سیٹھی نے خطاب کرتے ہوئے مرکزی حکومت کی کامیابیوں اُجاگر کیا۔وحید پرہ نے بجٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ بجٹ گزشتہ چھ برسوں کے زخموں پر مرہم رکھنے والا بجٹ ہے ۔اُنہوں نے کہاکہ بجٹ میں نوجوانوں کے لئے کسی سکیم یا اقدام کا ذِکر نہیں کیا گیا۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ بجٹ میں روزگار گارنٹی ایکٹ، یوتھ سٹارٹ اپ سکیم، سیڈ ڈیولپمنٹ فنڈ یا نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقع پیدا کرنے سے متعلق کسی بھی سکیم کا تذکرہ نہیں ہے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر میں اِنسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی نگرانی کے لئے ’’ ہیومن رائٹس کمیشن‘‘کے قیام کی ضرورت ہے۔
نظام الدین بٹ نے کہا کہ حکومت کی طرف سے پیش کردہ بجٹ دیگر اَدوار سے مختلف ہے اور اس حکومت کے اخراجات کی پابندیوں اور خسارے کو دیکھتے ہوئے کافی قابلِ تعریف ہے ۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ بجٹ سماجی، اِقتصادی اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کرتا ہے۔
مظفر اِقبال خان نے بجٹ کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے درپیش چیلنجوں کے باوجود ایک حقیقت پسندانہ بجٹ پیش کیا ہے۔اُنہوں نے کہا، ’’میں وزیر اعلیٰ کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے صحت اور تعلیم کو بجٹ میں ترجیح دی کیوں کہ گزشتہ چند برسوں میں ان شعبوں کو نظر انداز کیا گیا تھا۔ ہسپتالوں میں عملے کی کمی کے باعث مریضوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔‘‘اُنہوں نے پونچھ اور راجوری میں سیاحت کو فروغ دینے پر بھی زور دیا۔
ہلال اکبر لون نے بجٹ کے حق میں بات کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ میں معاشرے کے ہر شعبے اور طبقے کے لئے خیال رکھا گیا ہے۔ اُنہوں نے عوام دوست بجٹ پیش کرنے پر وزیر اعلی عمر عبداللہ کی ستائش کی۔
معراج ملک نے بجٹ کو سراہتے ہوئے کہا کہ ڈیلی ویجروں اور کنٹر یکچول ملازمین کی تنخواہوں میں اِضافہ کیا جائے۔اُنہوں نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر کے نوجوانوں کو معدنیات کے ٹھیکے دئیے جائیں، نہ کہ ریاست سے باہر کے لوگوں کو۔ اُنہوں نے گزشتہ برسوں میں کئے گئے اِنتظامی فیصلوں کو درست کرنے کی ضرورت پر زور دیا جس کی وجہ سے باہر کے لوگ ان ٹھیکوں کے لئے اہل ہوگئے تھے۔اُنہوں نے جموں و کشمیر میں سکولوں اور صحت اِداروں کی اَپ گریڈیشن کا بھی مطالبہ کیا۔