پروفیسر مجروح رشید کی انگریزی نظموں کا مجموعہ “Snow Flames” رونمائی انجام دی گئی
سرینگر / /معروف ادیب، شاعر، محقق اور استاد پروفیسر مجروح رشید کی انگریزی نظموں کے مجموعہ ’’سنو فلیمز‘‘ کو سرینگر کے ہوٹل شہنشاہ پیلس بلیوارڈ کے کوہ نور ہال میں منعقدہ ایک تقریب میں اجراء کیا گیا۔تقریب کا اہتمام نگینہ انٹرنیشنل اور جے کے فکشن رائٹرز گلڈ نے کیا تھا۔کشمیر پریس سروس تفصیلات کے مطابق تقریب رونمائی کی صدارت ممتاز ادیب اور شاعروسابق ڈائریکٹر ریڈیو رفیق راز نے کی جس کی صدارت نامور ماہر تعلیم اور مترجم پروفیسر نیرجا متونے کی جبکہ ایوان صدارت میں ان کے ہمراہ سابق سربراہ اور KUs سکول آف آرٹس اینڈ ہیومینٹیز پروفیسر محمد اسلم، سرپرست فکشن رائٹرز گلڈ وحشی سعید اور صدر گلڈ انجینئر شفیع احمدموجود تھے ۔تقریب کے دوران فکشن رائٹرز گلڈ کی جانب سے پروفیسر مجروح رشید کو بھی اعزاز سے نوازا گیا۔ اس موقعہ پر وادی بھر سے نامور ادیبوں، شاعروں اور معززین کی ایک کہکشاں موجود تھی۔معروف افسانہ نگار، ناول نگار اور ماہر تعلیم ڈاکٹر مشتاق احمد برق نے پر وقار تقریب کی نظامت کی۔جبکہ نامور اسکالر ،کشمیری یونیورسٹی کے سابق پی آر او شوکت شفیع نے تحریک شکرانہ پیش کیا ۔اس موقعہ پر ممتاز مصنف وسماجی کارکن ڈاکٹر معروف احمد شاہ اور ڈاکٹر عابد احمد ایڈیٹر انگلش JKAACL نے Snow Flames کتاب کے دو تجزیے پڑھ کر سنائے۔ان تبصرہ نگاروں نے کتاب کے بنیادی ماخذ اور اس میں موجود شاعری کو اس طرح کیا اس سے یہ بات واضح ہوئی ۔پروفیسر مجروح نے جو طبع آزمائی کی ہے وہ کامیابی سے ہمکنار ہوئے ہیں کیونکہ ان تبصروں سے معلوم ہوا کہ پروفیسرمجروح کی شاعری انسانی جذبات، امید، دُکھ، معافی اور آرزو کی نازک باریکیوں سے ہم آہنگ ایک روح کو ظاہر کرتی ہے، انہوں نے کہا کہ وہ چیخے یا ڈرامے بازی کے بغیر، ایک اندرونی دنیا سے بات کرتا ہے جہاں احساسات مخلص اور باوقار ہوتے ہیں۔ مجروح اپنے اشعار میں نماز کی طاقت، صبر اور زندگی کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کی اندرونی طاقت پر یقین رکھتے دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے اشعار ایک ایسے دل کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو دکھ جھیل چکا ہے پھر بھی تلخی پر ہمدردی کا انتخاب کرتا ہے۔ مجموعی طور پر، پروفیسر مجروح روزمرہ کی زندگی کے ایک نرم فلسفی کے طور پر سامنے آتے ہیں، سادہ لمحات میں گہرے معنی تلاش کرتے ہیں، اور اپنے قارئین کو فضل اور حکمت کا نرم لیکن دیرپا لمس پیش کرتے ہیں، ایک جائزہ نگار نے کہا۔جروح رشید کے ایک مسحور کن شعری مجموعے ‘سنو فلیمز’ کے ساتھ ایک پْرجوش سفر کا آغاز کرتے ہوئے ۔اس موقعہ پر ایوان صدارت میں موجود مقررین نے کہا کہ پروفیسر مجروح رشید واقعی ایسے ادبی شاہکار ہیں جن کی تخلیق کاری سے قارئین استفادہ کرتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ موصوف کی شاعری پرکشش یادیں، فطرت کی شان اور انسانی تجربے کی گہری بصیرت کو یکجا کرتی ہے، جو تعلق اور جذبات کی گہرائیوں کو روشن کرتی ہے۔۔انہوں نے موصوف کی شخصیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ جہاں موصوف کشمیری زبان کے استاد ہیں وہیں انہوں نے انگریزی ادب میں کمال کی تخلیق کاری انجام دی جو تنقید نگاروں کے بیچ موضوع بحث بن سکتی ہیں ۔اپنے صدارتی خطبہ میں رفیق راز نے مجروح رشید کی شخصیت اورذہانت پر فخر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ادبی کاوشیں قابل تحسین ہیں اورکہا کہ جہاں موصوف نے کشمیری اور اردو میں طبع آزمائی کرکے اپنی منفرد شناخت قائم کرنے کامیابی حاصل کی ہے وہیں ان کی انگریزی میں ایسے مضامین اور شاعری منظر عام پر آچکے ہیں وہ قابل تحسین ہیں ۔انہوں نے کہا کہ مجروح رشید گہری حساسیت اور خاموش عکاسی کے شاعر بن کر ابھرکر سامنے آتے ہیں ۔اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے صاحب کتاب مجروح رشید نے کہا کہ وہ واقعی کشمیری زبان کے پروفیسر رہ چکے ہیں اورانہوںنے 1980سے کشمیری زبان میں مضامین لکھنا شروع کردیا ہے اوران کے 180سے زائد مضامین شیرازہ اوردیگر جرائد ورسائل میں شائع ہوچکے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ان کو اس بات پر حیرت ہوتی ہے کہ لوگ انہیں انگریزی زبان میں لکھنے پر تنقید کا نشانہ بناتے ہیں ۔انہوں نے سوالیہ انداز میں کہاکہ ان کو انگریزی میں لکھنے میں حق نہیں ؟ جب میں اس زبان میں مہارت رکھتا ہوں اور کہا کہ میری مادری زبان کشمیری ہے لیکن زبانوں کو بروئے کار لانے کے تئیں انہیں کوئی بھیدوبھائو نہیں ہے ۔










