غلام نبی آتش کو 2024کا ساہتیہ اکادمی انعام ,برائے ترجمہ کاری دینے کا اعلان

غلام نبی آتش کو 2024کا ساہتیہ اکادمی انعام ,برائے ترجمہ کاری دینے کا اعلان

سرینگر//نامور محقق، شاعر، ماہرِ ادبِ اطفال، ماہرِ فوک لور، ادیب اور مترجم غلام نبی آتش کو کشمیری زبان میں ترجمہ کے لیے سال 2024 کا ساہتیہ اکادمی انعام دینے کا اعلان کیا گیا یہ انعام ان کی ترجمہ کردہ کتاب ” اکھ انسان ,اکھ گھرے ,اکھ دنیا” کے لئے دیا گیا ہے .۔کشمیر پریس سروس کے موصولہ بیان کے مطابق غلام نبی آتش کا شمار کشمیر کے ممتاز اہلِ قلم میں ہوتا ہے۔ وہ نہ صرف ایک قادرالکلام شاعر اور نثرنگار ہیں بلکہ تحقیق و ترجمہ کے میدان میں بھی ان کی خدمات غیر معمولی ہیں۔ ان کا جنم 1949 میں ہوا ہے .نصف صدی سے زائد عرصے سے وہ علمی و ادبی حلقوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منواتے آئے ہیں۔ خاص طور پر بچوں کے ادب میں ان کی کاوشیں بے حد قابلِ ستائش ہیں۔ساہتیہ اکادمی، جو ہندوستان کا ایک معتبر ادبی ادارہ ہے، ہر سال مختلف زبانوں میں اعلیٰ درجے کے تخلیقی، تحقیقی اور ترجمہ شدہ کاموں پر انعامات سے نوازتی ہے۔ غلام نبی آتش کو یہ اعزاز کشمیری زبان میں ان کے معیاری ترجمہ شدہ ادب کی بدولت عطا کیا گیا ہے۔ ان کے تراجم نے عالمی ادب کو کشمیری قارئین تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔غلام نبی آتش اب تک 100 سے زائد کتابیں لکھ چکے ہیں، جن میں شاعری، تحقیق، ترجمہ اور بچوں کا ادب شامل ہے۔انعام کے اعلان کے بعد علمی و ادبی حلقوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی، اور مختلف دانشوروں، قلمکاروں اور قارئین نے غلام نبی آتش کی اس کامیابی کو کشمیری زبان و ادب کے لیے ایک اہم سنگ میل قرار دیا۔ یہ کہنا بیجا نہ ہوگا کہ غلام نبی آتش کی ترجمہ کاری نے کشمیری زبان کے دامن کو وسعت دی ہے، اور یہ ایوارڈ ان کی محنت و لگن کا حقیقی اعتراف ہے.