سرکار چلانے میں حائل تمام رکاوٹوں کو دورکیا جائے،ترقی اور سلامتی عوامی سرکار میں ہی مضمر /ڈاکٹر فاروق عبداللہ
سرینگر / /ریاستی عوام نے بھاری منڈیٹ ،اعتماد اور بھروسے ساتھ جموںوکشمیر میں عوامی نمائندہ سرکار وجود اپنے قیمتی ووٹوں سے عمل میں لایا تا کہ ریاست کا خصوصی درجہ اوروہ تمام آئینی حقوق واپس کئے جائیں ۔کشمیر پریس سروس کے موصولہ بیان کے مطابق نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے اپنے بیان میں کہا کہ جموں وکشمیر کے عوام نے اپنے حقوق کی باز یابی اور ریاست کی بحالی کیلئے نیشنل کانفرنس کو بھر پور اعتماد دیا ۔تاکہ ریاست کا خصوصی درجہ اور تمام آئینی وجمہوری حقوق واپس کئے جائیں جو غیر آئینی اورغیر جمہوری طور ریاست کے باشندوں سے5اگست2019کو چھین لئے گئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ لوگوں نے ان حقوق کی بحالی کیلئے ہی اپنا قیمتی ووٹ دیا ہے ۔اس کے پیش نظر مرکز کوفی الفور ریاست کا خصوصی درجہ واپس کردینا چاہئے اوراس کے ساتھ ساتھ دیگر چھینے گئے حقوق کو واپس کیا جانا چاہئے جو مہاراجہ ہری سنگھ نے دفعہ 370اور 35-Aکے تحت مرکز کے ساتھ رشتہ جوڑا ہے اوروہ بھی صرف تین شرائط پر جن میں رسل ورسائی ،کرنسی اوردفاع شامل ہے ۔انہوں نے کہا کہ الحاق میں یہ بھی اندراج ہے کہ یہاں کی زمین صرف یہاں کے پشتنی باشندوں کی ملکیت ہے اور نوکریاں بھی یہاں کے ہی عوام کیلئے مختص رہیں گی ۔ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ مرکز کے موجودہ حکمران جلداز جلد ریاست کے خصوصی درجہ کی واپسی یقینی بنائیں اورموجودہ ریاستی سرکا ر کو انتظامیہ چلانے میں کسی بھی طرح روڑے اٹکانے کی کوشش نہ کریں ۔انہوں نے کہا کہ ریاست کے باصلاحیت اور ہونہار اعلیٰ حکام ہی ریاست کا انتظامیہ چلانے کے اہل ہیں کیونہ وہ یہاں کے لوگوں کے مزاج ،سیاسی وجغرافیائی حالات سے پوری طرح واقف ہیں ۔انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس کی عوامی نمائندہ سرکار نے لوگوں کے ساتھ جو وعدے کئے ہیں ان پر سرکار کاربند اور وعدہ بند ہے ۔ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے بھاری برفباری اوربارشوں پراللہ کے دربار میں سربسجود ہوکر اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے خشک سالی کا خاتمہ ہوا اوراس سے پورے ریاستی عوام کو فائدہ ملے گا ۔انہوں نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ تمام آبی ذخائر کو محفوظ اورصاف وپاک رکھ کر آئندہ ہ نسلوں کیلئے انہیں وراثت کے طور پر محفوظ رکھیں ۔انہوں نے کہاہے کہ حالیہ برفباری سے جوراستے بند ہوچکے ہیں اوربجلی سپلائی بھی منقطع ہوئی ہے ان کو فوری طور بحال کرکے کار آمد بنانے کی ضرورت ہے تاکہ لوگوں کو کسی دقعت کا سامنا نہ کرنا پڑے گا ۔










