اقتدار میں آئے تو پانچ سال تک لوگوں کو کوئی امید باقی نہیں رہی گئی / التجامفتی
سرینگر // میری ذمہ داری جموں و کشمیر کے عوام کو محفوظ اور با وقار محسوس کرانا ہے کی بات کرتے ہوئے حلقہ بجبہاڑہ کی پی ڈی پی امید وار التجا مفتی نے کہا کہ جموں و کشمیر کے لوگ فکر مند ہیں کہ وہ اپنی زمین اور نوکریوں سے محروم ہو جائیں گے، لیکن ان کی خواہشات کو پورا کرنا ان کی ذمہ داری ہے۔سی این آئی کے مطابق ایک میڈیا انٹرویو میں پی ڈی پی کی امید وار برائے بجبہاڑہ اور پارٹی صدر محبوبہ مفتی کی صاحبزادی التجا مفتی نے کہا کہ یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ مرکز کی طرف سے دی جانے والی عدم تحفظ کے بعد لوگوں کو محفوظ اور باوقار محسوس کرائیں۔انٹرویو میں التجا مفتی نے کہا کہ میری ذمہ داری ہے کہ میں لوگوں کیلئے امید کی کرن بنوں۔ پانچ سال تک لوگوں کو کوئی امید باقی نہیں رہی گئی ۔انہوں نے کہا ’’ یہاں کے نوجوان بے روزگار ہیںاور قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ لہذا یہ میری ذمہ داری ہے کہ میں انہیں امید اور تحفظ فراہم کروں۔ لوگوں کو خود کو محفوظ اور باوقار محسوس کرنا چاہیے۔ وہ اپنی زمینوں اور ملازمتوں سے محروم ہونے کی وجہ سے عدم تحفظ کا شکار ہیں‘‘۔یہ پوچھے جانے پر کہ کیا لوگ سمجھتے ہیں کہ دفعہ 370 کی منسوخی پی ڈی پی کی وجہ سے ہوئی ہے، انہوں نے کہا’’یہاں کے لوگ پی ڈی پی سے محبت کرتے ہیں۔ یہ ایک غلط اور عام بیان ہے‘‘۔پی ڈی پی امیدوار نے نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ پر بھی طنز کیا جنہوں نے اپنی والدہ محبوبہ مفتی پر جموں و کشمیر میں تباہی اور بربادی کے سوا کچھ نہیں لانے کا الزام لگایا تھا۔انہوں نے کہا ’’وہ ابھی تناؤ میں ہے۔ وہ دو حلقوں سے الیکشن لڑ رہے ہیں۔ اسے سنجیدگی سے نہ لیں۔ وہ اس وقت بہت نروس ہیں۔ ‘‘ جبکہ پی ڈی پی نے اپنے انتخابی منشور میں ریاست کی بحالی کا وعدہ کیا ہے، التجا مفتی نے اس کی ذمہ داری بی جے پی کی قیادت والی مرکزی حکومت پر ڈالی ہے۔انہوں نے کہا ’’ آپ کو بی جے پی سے پوچھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہر ایک کے بینک کھاتوں میں 10 لاکھ جمع کرائے جائیں گے۔ کسی کو بھی یہ موصول نہیں ہوا۔ ‘‘ خیال رہے کہ جموں و کشمیر میں 18 ستمبر سے شروع ہونے والے 3 مرحلوں میں انتخابات ہوں گے۔ الیکشن کمیشن آف انڈیا کے مطابق جموں و کشمیر میں 88.06 لاکھ اہل ووٹر ہیں۔










