عمرعبداللہ آ ج جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ کے طور پر حلف لیں گے

لیفیننٹ گورنر نئے وزیر اعلیٰ کو کابینہ وزاء سمیت حلف دلائیں گے

سرینگر//لیفٹیننٹ گورنر (ایل جی) منوج سنہا نے آج بدھ کو نیشنل کانفرنس لیجسلیچر پارٹی لیڈر عمر کو وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف لینے کے لیے مدعو کیا ہے۔ وہ سری نگر کے شیر کشمیر انٹرنیشنل کانفرنس سینٹر میں صبح 11:30 بجے وزیر اعلیٰ اور وزراء سے حلف لیں گے ۔ وائس آف انڈیا کے مطابق جموں و کشمیر میں نئی حکومت 16 اکتوبر کو نیشنل کانفرنس کے رہنما عمر عبداللہ کی قیادت میں حلف اٹھائے گی۔ آرٹیکل 370 ہٹائے جانے اور مرکز کے زیر انتظام علاقہ بننے کے بعد جموں و کشمیر میں یہ پہلی منتخب حکومت ہوگی۔لیفٹیننٹ گورنر (ایل جی) منوج سنہا نے بدھ کو نیشنل کانفرنس لیجسلیچر پارٹی لیڈر عمر کو وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف لینے کے لیے مدعو کیا ہے۔ وہ سری نگر کے شیر کشمیر انٹرنیشنل کانفرنس سینٹر میں صبح 11:30 بجے وزیر اعلیٰ اور وزراء سے حلف لیں گے۔عمر عبداللہ کے ساتھ ساتھ ان کے کابینہ کے 10وزارء کو بھی حلف دلایا جائے گا جبکہ وزیر اعلیٰ اور کابینہ وزاء کے بعد نئے منتخب ایم ایل ایز کو بھی حلف دلایا جائے گا۔ ایک دن پہلے مرکزی حکومت نے جموں و کشمیر سے صدر راج ہٹانے کے نوٹیفکیشن کے ساتھ نئی حکومت کی تشکیل کا راستہ کھول دیا تھا۔ این سی کے صدر فاروق عبداللہ، کانگریس، سی پی آئی (ایم)، اے اے پی اور آزاد ایم ایل ایز نے عمر کو حمایت کا خط بھیجا تھا جس میں ان سے حلف لینے کی درخواست کی گئی تھی۔ عمرعبداللہ نے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز 1998 میں لوک سبھا کے رکن کے طور پر کیا تھا۔ اس کے بعد وہ مرکزی وزیر اور قائد حزب اختلاف کے عہدوں سمیت کئی اہم عہدوں پر فائز رہے۔ جموں و کشمیر کے وزیر اعلی کے طور پر عمر عبداللہ کی یہ دوسری اننگز ہوگی۔ اس سے پہلے وہ 2009 سے 2014 تک وزیر اعلیٰ رہ چکے ہیں۔ جموں کشمیر میں نئی بننے والی سرکار ی کارندوں کی حلف برداری کی تقریب میں انڈیا الائنس کے متعدد لیڈران کو بھی دعوت کی گئی ہے ۔ جبکہ عمر عبداللہ کی تقریب حلف برداری میں کئی دیگر اہم رہنماؤں کی شرکت متوقع ہے۔واضح رہے کہ نیشنل کانفرنس نے جموں کشمیر میں 42سیٹوں پر جیت درج کرلی ہے جبکہ ان کے چار باغی ایم ایل ای بھی اب حکومت میں شامل ہوئے ہیں اس کے علاوہ کانگریس نے 6نشستیں حاصل کرلی جبکہ ایک محمد یوسف تاریگامی کی ہے اس طرح سے ان کے پاس اب قریب 50سے زائد ایم ایل ایز کی تعداد ہے جبکہ بی جے پی کے پاس صرف 29ایم ایل اے ہیں۔