دو روزہ نارتھ زون ۔اوّل علاقائی کانفرنس اِختتام پذیر
سری نگر//’’ عصری عدالتی ترقی، قانون اور ٹیکنالوجی سے اِنصاف کو مضبوط بنانے ‘‘ کے موضوع پر دو روزہ شمالی زون۔اوّل علاقائی کانفرنس ایس کے آئی سی سی میں اِختتام پذیر ہوئی۔کانفرنس کے دوسرے دِن دو تکنیکی سیشن ہوئے۔پہلے تکنیکی سیشن میں جسٹس اے پی ساہی ، ڈائریکٹر نیشنل جوڈیشل اکیڈمی کے ساتھ جسٹس آرسی چوان اور جسٹس سنجیو سچد یواجو اِس سیشن کے ریسورس پرسن تھے،نے مرحلہ اوّل ،دوم ،مرحلہ سوم کے حوالے سے ہائی کورٹس میں سی آئی ایس اختراعات اورحالیہ اختراعات ’’ اِی ۔ کورٹس پروجیکٹ کا جائزہ ‘‘ پر تبادلہ خیال کیا اور تجویز پیش کی ۔دوسرے دِن تکنیکی سیشن میں ریسورس پرسن جسٹس راجیو شکدھر اور جسٹس راجہ وجیار گھون وی سے ’’ مؤثر عدالتی حکمرانی کے لئے اُبھرتی ہوئی اور مستقبل کی ٹیکنالوجی‘‘ بشمول مصنوعی ذہانت اور ٹیکنالوجی میں جدید ترین ترقیات سمیت جوڈیشل گورننس پر گفتگو شامل تھی۔ٹیکنیکل سیشن کے بعد اِختتامی اجلاس ہوا جس کی صدارت جموں وکشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کے جج جسٹس علی محمد ماگرے نے کی جس میں جسٹس اے پی ساہی ، ڈائریکٹر نیشنل جوڈیشل اکیڈیمی جسٹس راجیو شکدھر اور جسٹس راجہ وجے راگھو ن وی موجود تھے۔جموںوکشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ، جسٹس پنکج متھل نے بھی اِختتامی اجلاس میں شرکت کی۔اِس موقعہ پر جموںوکشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کی جج اور جے اینڈ کے جوڈیشل اکیڈیمی کی چیئرپرسن جسٹس سندھو شرما، جسٹس رجنیش اوسوال ، جسٹس جاوید اقبال وانی ، جسٹس محمد اکرم چودھری ، جسٹس راہل بھارتی ، جسٹس موکشا کھجوریہ کا ظمی ، جسٹس وسیم صادق نرگل ، جسٹس راجیش سیکھری ، جموںوکشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کے جج ، ہماچل پردیش ، پنجاب اور ہریانہ ، دہلی اور اُترپردیش ، اُترا کھنڈ کے جج اور عدالتی اَفسران ،چھ ہائی کورٹس اور رجسٹرار جنرل سنجیو گپتا اور جموںوکشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کی رجسٹری کے دیگر اَفسرا ن بھی موجود تھے۔ ڈائریکٹر جے اینڈ کے جوڈیشل اکیڈمی شہزاد عظیم نے پروگرام کے اِختتامی اجلاس کی نظامت کے فرائض اَنجام دئیے۔اَپنے اِختتامی خطاب میں جسٹس علی محمد ماگرے نے کانفرنس کی میزبانی کو ایک مناسب وقت قرار دیا جب عدلیہ ٹیکنالوجی کی مدد سے اَپنے کام کرنے کے لئے درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے مخلصانہ کوششیں کر رہی ہے ۔ اُنہوں نے اِس اُمید کا بھی اِظہار کیا کہ یہ کانفرنس شراکت داروں کو آئینی اہداف حاصل کرنے اور قوم کی مجموعی ترقی کے قابل بنائے گی۔اُنہوں نے کانفرنس کے پُر امن اور کامیاب انعقاد پر تمام متعلقہ اَفراد کا شکریہ اَدا کیا۔اَپنے اِختتامی خطاب میں جسٹس اے پی ساہی نے کہا کہ ہم تب ہی حتمی ہیں جب ہم درست ہوں ورنہ نہیں ۔ اُنہوں نے ہمارے روز مرہ کام میں آزادی کے جذبے اور آرٹیکل 21 کی اخلاقیات کو متاثر کرنیکی ضرورت کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور ہمارے عدالتی کام میں ٹیکنالوجی کو اَپنانے کی اہمیت کو اُجاگر کیا۔ تقریب کا اِختتام قومی ترانے کے ساتھ ہوا۔یہ بات قابل ذِکر ہے کہ سپریم کورٹ آف اِنڈیا کے جج جسٹس اے ایس اوکانے سنیچروار کو دوروزہ علاقائی کانفرنس کا اِفتتاح کیا۔ علاقائی کانفرنس کا اہتمام نیشنل جوڈیشل اکیڈمی بھوپال نے کیا تھا اور اِس کی میزبانی جموںوکشمیر اور لداخ ہائی کورٹ اور جموںوکشمیر جوڈیشل اکیڈمی نے کی تھی۔










