جدید طرز علاج میں ’’کوئلنگ‘‘ کے ذریعہ ٹریٹ منٹ ہوجاتا ہے ۔پروفیسر وویک گپتا
سرینگر///آج کے دور میں دماغ کی نس پھٹنے کے علاج و معالجہ میں کافی بہتری آئی ہے اور بغیر سر کا آپریشن کرنے اور دماغ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کے ہی اس کا موثر علاج ’’کوئلنگ‘‘ کے ذریعہ کیا جاتا ہے اور اس میں مریض جلد صحتیاب بھی ہوجاتا ہے ۔ وائس آف انڈیاکے مطابق ہیمرجک برین اسٹروک طویل مدتی معذوری اور یہاں تک کہ موت کی ایک اہم وجہ بن سکتی ہے۔یہ جان لیوا طبی حالت دماغی خلیوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچاتی ہے۔ اسی حوالے سے، ایڈیشنل ڈائریکٹر، انٹروینشنل نیوروڈیالوجی، فورٹس ہسپتال موہالی ڈاکٹر پروفیسر وویک گپتا نے کہا کہ تاہم اس سمت میں علم طب نے کافی ترقی کی ہے۔ان کا کہنا تھا شدید سرد درد اس کی علامت ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ برین ہیمرج کے ایک قسم میںدماغ کی خون کی نالیوں میں غبارے کی طرح سوجن ہوتی ہے اوریہ عام طور پر ایک کمزور جگہ پر بنتا ہے جہاں شریان کی دیوار ابھرتی ہے اور خون سے بھر جاتی ہے۔ڈاکٹر گپتا نے کہا کہاس صورت میں اگر فوری طور پر علاج نہ کیا جائے تو پھٹ جانے والی اینوریزم کے نتیجے میں دماغ کو نقصان، فالج یا موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔ ڈاکٹر پروفیسر گپتا نے کہا،’’اینڈواسکولر کوائلنگ ایک جدید طریقہ کار ہے جس میں دماغ کی شریان میں کیتھیٹر(ٹیوب) ڈالنا شامل ہے تاکہ اینوریزم کو اندر سے روکا جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس طرز علاج میں سر کو کھولا نہیں جاتا اور خون کی منتقلی کی ضرورت نہیں ہے بلکہ ٹانگ میں چھوٹے سوراخ کے ذریعے مکمل علاج جدید مشینوں کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر وویک گپتا نے کہا کہ روایتی علاج کے طریقوں جیسے سرجری میں دماغ کو سنبھالنے کے ساتھ ساتھ سرکو کھولنا اور ہڈی کو ہٹانا شامل ہے سے بچا جا سکتا ہے۔ڈاکٹر پروفیسر گپتا نے مزید کہا، “فورٹس ہسپتال موہالی شمالی علاقہ کے چند مراکز میں سے ایک ہے جو ہمہ وقت جدید نیوروانٹروینشنل علاج اور جامع فالج کی دیکھ بھال صحیح ڈھنگ سے کی جاتی ہے۔انکا کہنا تھا کہ سرد علاقوں میں موسم سرما مین انسانی جسم کے کسی حصے میں خون جم جاتا ہے،اور وہ دماح تک پہنچ کر کسی نس کو بند کرتا ہے،جس کے نتیجے میں برین یمرج کا خطرہ بڑ جاتا ہے تاہم ان علاقوں میں انتہائی احتیاط کی ضرورت پڑتی ہے۔ ڈاکٹر وویک نے بتایا کہ انسانی طرز حیات اور رہن سہن میںمیں تبدیلی برین ہیمرج کی سب سے بڑی وجہ ہے۔










