ضلع ترقیاتی کمشنر گاندربل نے شری اَمرناتھ جی یاترا۔2023ء کی تیاریوں کا جائزہ لیا

گاندربل//ضلع ترقیاتی کمشنر گاندربل شیامبیر نے آنے والی سالانہ شری اَمرناتھ جی یاترا( سنجی) 2023ء کے پیش نظر آج ضلع اَفسران کی ایک میٹنگ منعقد کی تاکہ بال تل سے پوتر گپھا تک کئے جارہے اِنتظامات کا جائزہ لیا جاسکے۔ابتداً، مختلف محکموں کی تیاریوں اور اِنتظامات بشمول پانی ، بجلی ، طبی سہولیات ، صفائی ستھرائی ، نکاسی آب ، سروس پرووائیڈرز کی تصدیق اور رجسٹریشن ، سیکورٹی ، جاری کاموں کی صورتحال اور دیگر متعلقہ اِنتظامات کے حوالے سے بحث و تمحیص کی گئی۔تمام متعلقہ محکموں کے اَفسران نے ضلع ترقیاتی کمشنر کو پوتر گپھا کے راستے میں جاری کاموں کی تیاریوں اور پیش رفت کے بارے میں آگاہ کیا۔ضلع ترقیاتی کمشنر نے اِنتظامات کا جائزہ لیتے ہوئے اَفسران کو ہدایت دی کہ وہ تمام سطحوں پر محکموں کے درمیان بہتر منصوبہ بندی اور تال میل کو یقینی بنانے اور یاترا کے احسن اِنعقاد کے لئے تمام ترقیاتی کاموں کی جلد اَز جلد تکمیل کو یقینی بنائیں۔ضروری اشیاء کی ڈمپنگ کا جائزہ لیتے ہوئے اے ڈی ایف سی ایس اینڈ سی اے گاندربل نے بتایا کہ ضروری اشیاء جیسے آٹا، چاول ، چینی ، تیل خاکی کی سپلائی گرانری گاندربل میں موصول ہوئی ہے جسے جلد ہی شناخت شدہ گرانریوں پر رکھا جائے گا۔میٹنگ میں محکمہ صحت سے کہا گیا کہ وہ بال تل میں تمام ضروری عملہ اور اَدویات کے ساتھ ہیلتھ کیمپ شروع کرے کیوں کہ مختلف محکمے اور مزدور پہلے وہاں یاترا کے سلسلے میں مختلف سرگرمیاں اَنجام دے رہے ہیں۔ضلع ترقیاتی کمشنر نے اِن سروس پرووائیڈرز کی بروقت رجسٹریشن کے لئے ضروری ہدایات دیں جن کی پولیس تصدقیق پہلے ہی ہوچکی ہے۔اِسی طرح موبائل سروس فراہم کرنے والوں کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ اِس بات کو یقینی بنائیں کہ موبائل نیٹ ورک اِ سماہ کے آخیر تک پوتر گپھا تک بغیر کسی ناکامی کے رواں دواں رہے۔اُنہوں نے بیس کیمپ بال تل او رپوتر گپھا کے راستے یاتریوں کے مقامات پر صفائی ستھرائی اور عوامی سہولیات ، بیت الخلاء ، راستوں سے نکاسی آب کا مؤثر نظام ، پانی کی مناسب فراہمی اور چوبیس گھنٹے بجلی کی بحالی کو یقینی بنانے کی تلقین کی۔میٹنگ میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ ڈیولپمنٹ کمشنر مشتاق احمد سمنانی ، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر معراج الدین شاہ ، اے سی آر ، ایس ڈی ایم کنگن ، اے سی ڈی ، جل شکتی کے ایگزیکٹیو اِنجینئر وں ، پی ڈی ڈی او رآئی اینڈ ایف سی اور لائن ڈیپارٹمنٹوں کے دیگر اَفسران نے شرکت کی۔