قدیم ضلع ہونے کے باوجود منی سیکٹریٹ نہ ہونے سے آج ایک جگہ تو کل دوسری جگہ کام چلایاجاتا ہے
سرینگر//ضلع اننت ناگ میں مختلف سرکاری دفاترکرایہ کی عمارتوںمیںکام کاج چلاتے ہیں جبکہ کچھ عرصہ بعددفاتردوسروںپرائیویٹ کرایہ کے کمروںمیںمنتقل کردیئے جاتے ہیں اس طرح سے ایک جگہ دفاترنہ ہونے کی وجہ سے عام لوگوںکومشکلات کاسامنارہتا ہے۔لوگوںکامطالبہ ہے کہ ضلع میںمنی سیکٹریٹ قائم کیاجائے جہاں پر تمام ضلع دفاتر ایک ہی جگہ رہ سکیں۔ وائس آف انڈیا کے مطابق جنوبی کشمیر کا اننت ناگ سب سے پُرانا ضلع ہے ضلع اننت ناگ جواہر ٹنل سے پانپور تک تھا ۔اور ،پلوامہ، کولگام اور شوپیاں اسی ضلع سے اعلیحدہ ہوا ہے اور یہ اضلاع بعدمیں وجود میں آنے کے باوجود بھی ہرسہولیت سے لیس ہیں۔جہاں کولگام ، پلوامہ اور شوپیاں میں منی سیکٹریٹ موجود ہیں وہیں ضلع اننت ناگ میں کوئی بھی منی سیکٹریٹ موجود نہیں ہے ۔ سرکاری دفاتر کل ایک کرایہ کی بلڈنگ میں ہوتے ہیں دوسرے دن دوسری جگہ منتقل ہوت ہیں جس کی وجہ سے لوگوں کو تکلیف ہوتی ہے ۔ ذرائع کے مطابق سی ایم او آفس، فنڈ آفس ، اے آر ٹو او ، بلاک ، ایکسائز وغیرہ دفاتر پرائیویٹ بلڈنگوں میں کرایہ کی عمارتوں میں ہوتی ہے اور کچھ عرصہ بعد دوسری جگہ کرایہ کے کمروں پر ہوتے ہیں ۔اس طرح سے لوگ آئے روز دوسری دوسری جگہوںپر ان دفاتر کو ڈھونڈتے رہتے ہیں ۔ دوسری سب سے اہم بات ان پرائیویٹ عمارتوں کے باہر کوئی بھی پارکنگ کی سہولیت نہیںہوتی ہے جس کے باعث سرکاری افسران، ملازمین اور عام لوگ اپنی گاڑیاں کئی کئی کلو میٹر دور پارک کرنے پر مجبور ہوتے ہیں اگر منی سیکٹریٹ قائم گیاہوتاتووہاں پارکنگ سہولیت بھی ہوتی دوسرا لوگوںکو بھی ایک ہی جگہ جانا پڑتا۔لوگوںکا مطالبہ لے کہ ضلع میں منی سیکٹریٹ قائم کیاجائے ۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ ضلع میں اس کیلئے اراضی بھی موجود ہے اور کسی بھی موزون جگہ کی نشاندہی کرکے اس پر کام چالو کیا جائے ۔ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس ضمن سابقہ سرکاروں ،وزراء اور دیگر لوگوں کے ساتھ بھی بات کی گئی تھی لیکن خالی یقین دہانیاں کی گئیںلیکن زمینی سطح پر کوئی اقدام نہیںاُٹھایا گیا۔










