راجپورہ حلقہ میں 31؍ صحت سہولیات کو اَپ گریڈ کیا گیا
جموں//وزیربرائے صحت سکینہ اِیتو نے آج حکومت کی جانب سے موجودہ صحت بنیادی ڈھانچے کو مستحکم کرنے اور صحت شعبے میں تمام خالی اَسامیوں کو پُرکرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔وزیر صحت قانون ساز اسمبلی میں غلام محی الدین میر کے ایک سوال کا جواب دے رہی تھیں۔اُنہوںنے بتایا کہ جموں و کشمیر ملک میں صحت اِداروں کی کثافت میں بڑی رِیاستوں اوریونین ٹریٹریز (جن کی آبادی ایک کروڑ سے زیادہ ہے) میں سرفہرست ہے۔ اُنہوں نے بتایاکہ مرکزی وزارتِ صحت و خاندانی بہبود کی 2023 ء کی رِپورٹ کے مطابق جموں و کشمیر میں ہر 3,500 اَفراد پر ایک صحت کا ادارہ موجود ہے جبکہ قومی سطح پر اوسطاً6,000 اَفراد فی ادارہ ہے۔اِس کے علاوہ آئی پی ایچ ایس 2022 ء کے اصولوں کے مطابق اَپ گریڈیشن اور نئے کی فزیبلٹی کا جائزہ لیا جاتا ہے۔وزیر موصوفہ نے راجپورہ حلقے میں صحت خدمات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ کُل 34 صحت مراکز میں سے 31 کو آیوشمان آروگیہ مندرز (اے اے ایمز) میں اَپ گریڈ کیا گیا ہے تاکہ مقامی آبادی کو بہتر صحت کی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔اُنہوں نے مزید کہا کہ کمیونٹی ہیلتھ سینٹر راجپورہ جو ضلع ہسپتال پلوامہ (11 کلومیٹر) کے قریب واقع ہے، پہلے ہی ثانوی درجے کی صحت سہولیات فراہم کر رہا ہے۔وزیر نے عملے کے حوالے سے آگاہ کیا کہ کمیونٹی ہیلتھ سینٹر راجپورہ میں 7 ماہر ڈاکٹر، 12 میڈیکل اَفسران اور 54 پیرا میڈیکل سٹاف کی منظور شدہ تعداد موجود ہے۔وزیر موصوفہ نے کہا کہ کشمیر کے اونتی پورہ میں واقع آیوشمان بھارت اِنسٹی چیوٹ آف میڈیکل سائنسز (اے آئی آئی ایم ایس)بھی سٹریٹجک طور پر 25 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے ۔ لہٰذا،یہ نہیں کہا جاسکتا ہے کہ راجپورہ حلقہ میں صحت سہولیات کو اتنے برسوں میں اگلے درجے تک اَپ گریڈ نہیں کیا گیا ہے۔ اُنہوں نے مزید بتایا کہ اِس وقت جموں و کشمیر میں تقریباً 4,000 صحت کے ادارے (پرائمری، سیکنڈری اور ٹریشری سطح) موجود ہیں اور حکومت ان موجودہ صحت سہولیات کے استحکام پر کام کر رہی ہے۔










