jammu kashmir

صحت اور خاندانی بہبود کی مرکزی وزارت کا جموں و کشمیر کے محکمہ صحت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان

2019سے مختص فنڈس کے ناقص استعمال کی نشاندہی

سری نگر//صحت اور خاندانی بہبود کی مرکزی وزارت نے طرز زندگی کی بیماریوں کے واقعات کو کم کرنے کیلئے جموں و کشمیر کے محکمہ صحت کو مختص فنڈز کے ناقص استعمال کی نشاندہی کی ہے اور ساتھ ہی اس کیلئے قومی پروگرام برائے کینسر، ذیابیطس، قلبی امراض اور فالج کی روک تھام اور کنٹرول (NPCDCS) کو مؤثر طریقے سے نافذ کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔جے کے این ایس مانٹرینگ ڈیسک کے مطابق ایک مقامی انگریزی روزنامہ میں چھپی ایک رپورٹ میں یہ بتایاگیاہے کہ حکومت ہند کا محکمہ صحت اور خاندانی بہبود این پی سی ڈی سی ایس کے تحت ریاستوں/ مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو آیوشمان بھارت ہیلتھ ویلنس سنٹر کے تحت بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے، انسانی وسائل کی ترقی، صحت کو فروغ دینے، 30 سال یا اس سے زیادہ کی آبادی کی اسکریننگ،جلد تشخیص اور انتظام اور صحت کی دیکھ بھال کی سہولت کی مناسب سطح کا حوالہ دیتے ہوئے تکنیکی اور مالی مدد فراہم کرتا ہے۔ مزید برآں، آیوشمان بھارت ہیلتھ ویلنیس سنٹر اسکیم کے ذریعے جامع پرائمری ہیلتھ کیئر کے تحت کینسر کے بچاؤ کے پہلو کو مضبوط بنا کر، صحت مندانہ سرگرمیوں، صحت مند طرز زندگی، صحت مند کھانے اور صحت مندانہ خوراک کو فروغ دے کر غیر متعدی بیماریوں کی روک تھام اور کنٹرول کیلئے بیداری پیدا کرنے نیز یوگا سے متعلق مختلف سرگرمیاں پر بہت زور دیا گیا ہے۔ہر سال اسٹیٹ پروگرام کے نفاذکا پلان (SPIP) تیار کیا جاتا ہے اور پھر اسے حکومت ہند کے محکمہ صحت اور خاندانی بہبود کے ذریعہ منظور کیا جاتا ہے۔ اس کے مطابق، NPCDCS کے تحت فنڈز جاری کئے جاتے ہیں۔مرکزی وزارت صحت اور خاندانی بہبود کے ایک سوال کے جواب میں لوک سبھا کے ساتھ شیئر کئے گئے اعداد و شمار میں،جموں وکشمیرمیں متعلقہ فنڈز کے ناقص استعمال کی نشاندہی کی گئی ہے اور اس کا اندازہ ان اعداد و شمار سے لگایا جا سکتا ہے کہ 2019-20 کے دوران، SPIP کے تحت جموں و کشمیر کے لئے595.67 لاکھ روپے منظورکئے گئے تھے لیکن جموں و کشمیر کے محکمہ صحت نے اس دوران صرف 136.72 لاکھ روپے خرچ کئے تھے۔اسی طرح، 2020-21مالی سال کے دوران SPIPکے تحت جموں وکشمیرکیلئے1253.80 لاکھ روپے میں منظور کئے گئے تھے لیکن جموں و کشمیر کے محکمہ صحت نے صرف 42.49 لاکھ روپے خرچ کئے۔ تاہم،مالی سال2021-22 کے دوران 805.68 لاکھ روپے کے منظور شدہ SPIP کے مقابلے میں خرچ 890.34 لاکھ روپے خرچ کئے گئے ۔ موجودہ مالی سال کے دوران، جو 31 مارچ 2023 کو ختم ہونے جا رہا ہے، 792 لاکھ روپے کے منظور شدہ SPIP کے مقابلے میں، صرف 142.23 لاکھ روپے کا خرچ ریکارڈ کیا گیا۔صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت نے جموں وکشمیرکے محکمہ صحت کویہ ہدایت دی ہے کہ SPIPکے تحت فراہم کئے جانے والے فنڈس کو مقررہ وقت میں زیر تصرف لانے اور NPCDCS کے مؤثر نفاذ کے لئے سرگرمیاں تیز کریں۔قلبی اور طرز زندگی کی بیماریوں کے سلسلے میں، حکومت ہند نے غریبوں اور ضرورت مندوں کے لیے سرکاری اسپتالوں میں مفت یا انتہائی سبسڈی پر علاج فراہم کرنے کا انتظام کیا ہے۔ غیر متعدی امراض کے مریض مختلف صحت کی سہولیات بشمول ضلع اسپتالوں، میڈیکل کالجوں، مرکزی اداروں جیسے ایمس اور نجی شعبے کے اسپتالوں میں علاج کروانے کے حقدار ہیں۔حکومت ہند کی ایجنسیوں کے ذریعہ کئے گئے مطالعات کے مطابق، پچھلے کچھ سالوں کے دوران غیر متعدی بیماریوں کے تناسب میں اضافہ ہوا ہے اور قلبی امراض، کینسر، ذیابیطس یا سانس کی دائمی بیماریوں سے قبل از وقت اموات کو 2025 تک25فیصد کم کرنے کی حکمت عملی تیار کی گئی ہے۔حکومت ہند کی طرف سے فراہم کی جانے والی امداد کو مدنظر رکھتے ہوئے، جموں و کشمیر کے تمام متعلقہ حکام کو طرز زندگی کی بیماریوں میں اہم کردار ادا کرنے کی وجوہات کے بارے میں بیداری پیدا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑنی چاہئے تاکہ حکومت ہند کا ہدف مقررہ ٹائم فریم یا مدت کے اندر ہی حاصل کیا جا سکے۔