fencing

شہر میں چراگاہوں کی تار بندی کا سلسلہ جاری

نشاط میں زبروان پہاڑوں کے نچلے حصے تک رسائی مخدوش

سرینگر///سری نگر میں بھیڑ بکریوں کو پانے والے لوگ ذہنی بحران سے دوچار ہیں کیونکہ محکمہ جنگلات روایتی گھاس کے میدانوں کے اردگرد تار لگا کر بھیڑ بکریوں کو چرنے سے روک رہا ہے۔سری نگر کے نشاط علاقے میں 250سے زائد خاندان بھیڑوں کو پالنے کے تجارت میں مشغول ہے اور اپنی روزی روٹی کماتے ہیں تاہم انکا کہنا ہے کہ محکمہ جنگلات نے ایک بڑے رقبے پرتارلگا دی ہے جو کہ کئی نسلوں سے بھیڑ چرانے کے لیے استعمال ہوتی رہی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ محکمہ جنگلات کے اہلکاروں نے نشاط میں زبروان پہاڑوں کے نچلے حصے تک رسائی کو روک دیا ہے، جہاں وہ ایک پارک، چنار باغ بنا رہے ہیں۔ یہ پارک نشاط باغ سے بالکل متصل تعمیر کیا جا رہا ہے۔نشاط سے تعلق رکھنے والے ایک شہری نے بتایا’’یہ محکمہ مال کے ریکارڈ کے تحت کاہچرائی ہے اور ہمارا گاؤں روایتی طور پر اسے بھیڑ بکریاں چرانے کے لیے استعمال کرتا رہا ہے،تاہم اب محکمہ جنگلات نے اس زمین کا کنٹرول سنبھال لیا ہے اور ایک پارک بنانے کے لیے باڑ لگا دی ہے‘‘نشاط کے قریب کاہچرائی، جو کہ ر محکمہ مال ریکارڈ میں گھاس کا میدان ہے، کو محکمہ جنگلات نے شہری جنگلات کی مہم کے مقصد سے اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔ تاہم نشاط کے مکینوں نے الزام لگایا کہ علاقے میں تارلگا کر پارک بنا دیا گیا ہے۔نشاط کے مقامی لوگوں نے بتایا’’یہ عمل مزید بے روزگاری پیدا کرنے اور ہم سے ذریعہ معاش چھیننے کی کوشش ہے۔‘‘انہوں نے بتایا کہ محکمہ جنگلات نے سری نگر کے مضافات میں بھیڑ بکریوں کی پروری کرنے والوںکے لیے بے پناہ مسائل پیدا کر دیے ہیں۔قبل ازیں، جنگلات کے اہلکاروں نے سری نگر کے مضافات میں ملنار میں بھیڑ چرانے والے علاقوں تک رسائی کو روک دیا تھا جس کی وجہ سے فارم بند ہو گئے تھے اور بھیڑوں کی دوسرے علاقوں میں منتقلی ہوئی تھی۔