electricity

شہر سرینگر سمیت وادی کے شمال وجنوب میں بجلی کی بحرانی صورتحال سے عوام پریشان

سحری اور افطاری کے اوقات بجلی غائب رہنے کے باعث شمع جلانے کا دور لوٹ آیا ، ، صارفین نالاں

سرینگر / /مقدس میں بھی شہر سرینگر سمیت وادی کے دیگر علاقوںمیں بھی بجلی کی عدم دستیابی پر لوگوں نے شدید غم وغصے کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ لوگوں کی جانب سے احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے ۔ادھر سحری اور افطاری کے اوقات بجلی غائب رہنے کے نتیجے میںلوگوں کو شمع جلا کر ہی کھانا کھانا پڑتا ہے ۔ سی این آئی کے مطابق ماہ مقدس کے آخری ایام میںبھی محکمہ پی ڈی ڈی نے لوگوں کو مشکلات میں دھکیل دیا ہے کیونکہ گزشتہ کئی دنوں سے وادی کشمیر کے تمام علاقوں میں بجلی کی صورتحال انتہائی ابتر بن چکی ہے ۔ وادی کے اکثر وبیشتر علاقوںمیں برقی رو منقطع ہونے پر عوامی حلقوںنے شدید غم وغصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف سرکار دعویٰ کر رہی ہے کہ بجلی کی سپلائی کو یقینی بنانے کے سلسلے میں کوئی بھی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا جائے گا۔ ۔ عوامی حلقوں کے مطابق دن میں کئی بھی برقی رو دستیاب نہیں ہوتی ہے اور بجلی کی عدم دستیابی سے لوگوں کو مصائب ومشکلات کا سامنا کرناپڑ رہا ہے ۔ جبکہ سحری اور افطاری کے اوقات بھی بجلی غائب رہتی رہنے سے لوگوں کو اندھیرے میںہی کھانا کھانا پڑتا ہے ۔ بیشتر علاقوں میں خراب ہوئے ٹرانسفارمروں کو دوبارہ اپنی جگہوں پر نصب کرنے کیلئے محکمہ پی ڈی ڈی کے اہلکار لیت ولعل کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور لوگوں کو اس بات پر مجبور کیا جارہا ہے کہ وہ یا تو محکمہ پی ڈی ڈی کے لائن مینوں کے جیب گرم کریں یا پھر بجلی کی عدم دستیابی پر سڑکوں پر آکر احتجاجی مظاہرئے کریں۔ عوامی حلقوں نے اس بات پر حیرانگی کا اظہار کیا ہے کہ محکمہ پی ڈی ڈی کی جانب سے وادی کے اطراف واکناف میں ہائی ٹینشن لائنوں اور بوسیدہ بجلی کے کھمبوں کو تبدیل کرنے کیلئے کوئی کاروائی ابھی تک عمل میں نہیں لائی گئی ہے جس کی وجہ سے کئی علاقوںمیں انسانی جانیں ضائع ہونے کے امکانات کافی بڑھ گئے ہیں ادھر بجلی کی عدم دستیابی کی وجہ سے کئی علاقوں میں پینے کا پانی بھی لوگوں کو دستیاب نہیں ہو پا رہا ہے اور جل شکتی محکمہ بھی لوگوں کو پینے کا صاف پانی فراہم کرنے میں بری طرح سے ناکام ثابت ہو چکا ہے ۔ پی ایچ ای محکمہ کی جانب سے تعمیر کی گئی واٹر سپلائی اسکیمیں بیکار پڑی ہیں اور وادی کے 55فیصد علاقوںمیں رہنے والے لوگوں کو پینے کے پانی کی شدید قلت کا سامنا کرناپڑ رہا ہے۔