شمالی کشمیر میں گزشتہ15دنوںکے دوران 11دراندازLOCکے نزدیک ہلاک

حدمتارکہ پر سخت چوکسی اورنئے ہائی ٹیک سروئولنس آلات کے استعمال کانتیجہ :حکام

سری نگر//خفیہ ایجنسیوں کی طرف سے فراہم کردہ مخصوص انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر سیکورٹی فورسز کی طرف سے شروع کی گئی کارروائیوں میں جموں وکشمیر کے کپواڑہ ضلع میں لائن آف کنٹروں کے مختلف سیکٹروں میں گزشتہ محض15دنوں کے دوران 11 غیر ملکی ملی ٹنٹوں کو ہلاک کرنے کیساتھ ساتھ بھاری مقدار میں منشیات، ہتھیار اور گولہ بارود برآمد کیا۔جے کے این ایس کے مطابق نئی دہلی میں شائع ایک میڈیا رپورٹ میں سیکورٹی فورسز کے حکام کاحوالہ دیتے ہوئے بتایاگیاکہ خفیہ ایجنسیوں کے ذریعہ فراہم کردہ مخصوص انٹیلی جنس کی بنیاد پر سخت نگرانی نے سیکورٹی فورسز کو جموں و کشمیر کے کپواڑہ سیکٹر میں دراندازی کی3 بڑی کوششوں کو ناکام بنانے میں مدد کی ہے جس کے نتیجے میں 11 غیر ملکی دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا اور بھاری مقدار میں منشیات، ہتھیاروں اور گولہ بارود کی برآمدگی ہوئی۔حکا م کے مطابق بھارتی فوج نے انٹیلی جنس ایجنسیوں کیساتھ مل کر کپواڑہ کے مخصوص علاقوں کے ساتھ نگرانی کو بڑھانا شروع کر دیا جب کہ نئے چہرے لائن آف کنٹرول پر ہندوستانی پوزیشنوں کے مخالف علاقوں میں سرگرم ہونے لگے۔ان علاقوں میں نئے آنے والوں افراد یا نئے چہروں کی موجودگی کے بارے میں اطلاعات کے بعد، ان کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھی گئی اور جب انہوں نے اپنے ہی علاقے میں دراندازی کی کوشش کی تو دشمن کی اس طرح کی کارروائی سے نمٹنے کے لئیپہلے سے موجود چوکس سیکورٹی دستوں نے انہیں ہلاک کیا۔دراندازی کاپہلا واقعہ مژھل سیکٹر میں پیش آیا جہاں2 غیر ملکی دہشت گردوں کو ان کے اپنے دستوں(پاکستانی فوج) نیہلاک کیا ،اورجائے وقوعہ سے اے کے سیریز کی2 رائفلیں اور پاکستانی نشانات والے دستی بم اور گولہ بارود برآمد ہوا۔لائن آف کنٹرول پر دراندازی کادوسرا بڑاکیران سیکٹر میں ہوا جہاں5 دہشت گرد مارے گئے اور برآمدات میں5 رائفلیں اور پاکستانی نشانات کے ساتھ اسنائپر رائفل گولہ بارود بھی شامل تھا۔سیکورٹی حکام نے کہا کہ ہم نگرانی کے بہت سے آلات کو برآمد کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں جن میں نائٹ ویژن چشمے اور رات کو چلنے والی دوربینیں شامل ہیں جو دہشت گردوں کو علاقے میں آسانی کے ساتھ منتقل ہونے میں مدد دے سکتی تھیں۔ذرائع نے بتایا کہ دراندازی کی تازہ ترین کوشش،23جون کو مژھل سیکٹر میں ناکام بنا دی گئی۔جہاں 4دہشت گردمارے گئے اوراُن کی نعشوں کے علاوہ 12مختلف ہتھیار برآمد ہوئے ۔ذرائع نے بتایا کہ55 کلوگرام اے ون گریڈ منشیات کی برآمدگی جو بین الااقوامی بازارمیں کم از کم 5 کروڑ فی کلو میں فروخت کی جا سکتی تھی، پاکستان آرمی اور آئی ایس آئی کی منشیات کی سمگلنگ کے ذریعے دہشت گردی کو تلاش کرنے کی کوششوں کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔حکام کے مطابق سیکورٹی ایجنسیاں دہشت گردوں سے برآمد شدہ اشیاء اور دستاویزات کے ذریعے چھان بین جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ دہشت گردوں کے درمیان تعلق اور ہندوستان میں ان کے روابط کا پتہ لگایا جا سکے تاکہ وہ منشیات کی منزل کے بارے میں جان سکیں جس کی وہ ہندوستان کے اندر ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔انہوںنے بتایاکہ فوج نے نئے ہائی ٹیک سروئولنس آلات کا استعمال کرتے ہوئے ایل او سی کے ساتھ چوکسی بھی بڑھا دی ہے جو دوسری طرف سے کسی بھی غیر معمولی نقل و حرکت یا سرگرمیوں کا آسانی سے تجزیہ کرنے میں مدد کر سکتے ہیں۔