liquor shops

شراب فروشی خزانہ عامرہ کیلئے سونے کے انڈے دینے والی مرغی

حکومت کو 257 خوردہ شراب کے دُکانوں کی ای نیلامی سے261 کروڑ روپے کی آمدنی حاصل

سری نگر//جموں و کشمیر کی حکومت نے مالی سال2023-24 کے لیے خوردہ شراب کے دکانوں کی ای نیلامی سے261 کروڑ روپے سے زیادہ کی اب تک کی سب سے زیادہ آمدنی حاصل کی ہے۔جے کے این ایس کے مطابق جموں سے شائع ہونے والے ایک موقر انگریزی اخبار میں چھپی رپورٹ میں سرکاری ذرائع کے حوالے سے بتایاگیاہے کہ گزشتہ سال کی217.43 کروڑ روپے سے زیادہ کی آمدنی کے مقابلے میں، جموں و کشمیر کے محکمہ ایکسائز نے اس مالی سال 2023-24کے دوران 257شراب کے دکانوں کی ای نیلامی سے260.94 کروڑ روپے کی کل آمدنی حاصل کی۔ذرائع نے مزید بتایا کہ45 مقامات / وینڈز کو ایک ہفتے کے اندر دوبارہ نیلامی کے لئے رکھا جائے گا اور اس کے ساتھ تقریباً285سے290 کروڑ روپے کی آمدنی متوقع ہے، جو کہ تقریباً 34 فیصد اضافہ کو ظاہر کرتا ہے۔نیوز رپورٹ میں محکمہ ایکسائز کے ایک سینئر افسر کاحوالہ دیتے ہوئے مزیدبتایاگیا کہ 7 اپریل2023 کو بولی کے حتمی نتائج کا اعلان سسٹم سے تیار کردہ فوری میل کے ذریعے کامیابH-1 بولی دہندگان کو کیا گیا تھا اور 305شراب کے دکانوں میں سے 34 جگہوں پر کسی بولی دہندہ نے حصہ نہیں لیا تھا جبکہ باقی کے لئے271 وینڈز کی بولی 260.94 کروڑ روپے بتائی گئی۔اہلکار نے کہا کہ جموں و کشمیر میں اس طرح کے شراب دکانوں کے لئے بولی لگانے کا نظام متعارف کرانے سے پہلے، جموں و کشمیر میں شراب کے تمام دکانوں سے سالانہ 6.69 کروڑ روپے کی آمدنی ہوتی تھی۔ اوسط آمدنی 6.5 سے7.0 کروڑ روپے کے درمیان رہتی تھی۔ تاہم جب 2021-22میں جموں و کشمیر میں نیلامی کا عمل شروع ہوا تو یہ بڑھ کر 140.40 کروڑ روپے ہو گیا۔ 2022-23کے دوران، تین نیلامیوں میں کل آمدنی 217.43 کروڑ روپے تھی۔ محکمہ ایکسائز کے اہلکار نے مزید کہا کہ بولی کے عمل میں کل 943 بولی دہندگان نے حصہ لیا، جبکہH-1کے9 بولی دہندگان 5 بینک ورکنگ دنوں کے مقررہ وقت کے اندر بولی کی رقم جمع کرنے میں ناکام رہے اور انہیں ڈیفالٹر قرار دیا گیا اور ان کی90 لاکھ روپے کی زرضمانت ضبط کر لی گئیں۔نیوز رپورٹ کے مطابق ذرائع نے انکشاف کیا کہ 44 بولی دہندگان 15 لاکھ روپے کی حد میں، 53 بولی دہندگان15 لاکھ سے 50 لاکھ روپے، 66 بولی دہندگان50 لاکھ روپے سے ایک کروڑ روپے، 78 بولی دہندگان ایک کروڑ سے 2 کروڑ روپے، 25 بولی 2 سے 3کروڑ روپے زمرہ میں، 3سے4 کروڑ روپے کے اندر 2 بولی لگانے والے، 4سے5 کروڑ روپے میں سے2جبکہ صرف ایک5سے6 کروڑ روپے کے زمرے میں تھا۔ جہاں سری نگر کا بٹوارہ مقام سب سے زیادہ بولی کے زمرے میں سرفہرست رہا ہے، وہیں3 کروڑ روپے سے زیادہ کے تمام مقامات سری نگر میونسپل کارپوریشن کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔2سے3 کروڑ روپے کے زمرے میں اوڑی، قاضی گنڈ، کپوارہ، اپر رحمبل (اْدھ)، ریاسی، منتھل، چنانی اور کچھ ایس ایم سی کے اندر آتے ہیں۔ ادھم پور، جموں نارتھ، کٹھوعہ اور سانبا کے کئی وینڈز ایک سے 2 کروڑ روپے کے گروپ کے درمیان رہ گئے ہیں۔ایکسائز کمشنرجموں وکشمیر، پنکج شرما نے کہا ہے کہ 257 نئے لائسنس جاری کئے گئے ہیں اور تمامETOsکو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ 17اپریل سے تمام257 دکانوں کو کھولنے کو یقینی بنائیں۔انہوںنے کہاکہ ہم نے اس سال 257 دکانوں سے 260.94 کروڑ روپے کمائے ہیں جو کہ جموں و کشمیر میں محکمہ ایکسائز کی تاریخ میں شراب کی دکانوں سے حاصل ہونے والی سب سے زیادہ آمدنی ہے۔ کمشنرموصوف نے مزید کہاہے کہ ہم 45 دکانوں کی دوبارہ نیلامی سے تقریباً 25سے30 کروڑ روپے مزید آمدنی کی توقع کر رہے ہیں۔