kashmir

سیاحت سے جڑے ادارے اور افراد کشمیر کی صدیوں پُرانی روایت کو برقراررکھیں

ٹورسٹوں کو اضافی رقم پر کوئی چیز فروخت یا خدمات فراہم کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہوگی۔ محکمہ سیاحت

سرینگر///وادی کشمیر میں سیاحوںکو اشیاء اور خدمات اضافہ دام پر فراہم یا فروخت کرنے کی شکایات موصول ہونے کے بعد محکمہ سیاحت نے سیاحت سے جڑے اداروں، ہوٹل مالکان،رستورانوں، گھوڑے بانو، شکارہ اور ہاوس بوٹ والوں ، کشمیری دستکاری فروخت کرنے والے شوروم والوں سے کہا ہے کہ وہ قواعد وضوابط کی خلاف ورزی نہ کریں۔ انہوں نے کہاہے کہ کشمیر کی جو صدیوں پُرانی ایمانداری ، دیانتداری اور مہمان نوازی کی جو روایت ہے اس کو قائم رکھا جائے ۔وائس آف انڈیا کے مطابق محکمہ سیاحت نے ٹورازم شعبہ سے وابستہ تمام اداروں اور افراد سے کہا ہے کہ وہ کسی بھی طرح سیاحوں کے ساتھ دھوکہ دہی سے کام نہ لیں اور سیاحوں کو اضافی نرخ میں کوئی چیز فروخت نہ کی جائے۔ ٹرانسپورٹروں ، ہاوس بوٹ مالکان اور شکارہ والوں کو بھی چاہئے کہ وہ کسی بھی طرح سیاحوں کو کسی بھی سہولیت کیلئے اضافی چارج نہ کریں اور جو کوئی بھی سیاحوں کو دھوکہ دینے میں ملوث پایا جائے گا اس کے خلاف ٹورسٹ ٹریڈ ایکٹ 1978/2012کے تحت کارروائی کی جائے گی ۔ محکمہ نے کہا ہے کہ اگرچہ یہ ہمارے لئے خوش آئند بات ہے کہ اس برس سیاحوں کی کافی تعداد وادی کا دورہ کررہی ہے تاہم اس شعبہ سے متعلق تمام افراد کو چاہئے کہ وہ کسی بھی طرح سیاحوں سے اضافی قیمت وصول نہ کریں۔ انہوںنے کہا کہ ایک ٹورسٹ گروپ کی جانب سے شکایت ملنے کے بعد ہم نے مذکورہ ادارے کو بلیک لسٹ کردیا ہے ۔ اور اس کے علاوہ ٹورسٹ پولیس نے اسے پوچھ تاچھ کیلئے حراست میں بھی رکھا ۔ متعلقین کو محکمہ نے ایک قول سنایا جس میں کہا گیا کہ سیاح آپ کے حسن سلوک کے طالب ہیں ۔ اس کو خوش کرنا آپ کشمیر کی خوبصورتی اور مہمان نوازی میں چار چاند لگاسکتے ہیں ۔ اسلئے سیاحت سے وابستہ سبھی لوگوں کو چاہئے کہ وہ کشمیریوں کی صدیوں پُرانی روایت اور مہمان نوازی کو برقرار رکھیں ۔