جموں و کشمیر میں سائبر جرائم سے نمٹنے کے لیے خصوصی نظام قائم

جموں و کشمیر میں سائبر جرائم سے نمٹنے کے لیے خصوصی نظام قائم

متاثرین کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کیلئے الگ طریقہ کار رائج

سرینگر//یو این ایس / جموں و کشمیر میں سائبر جرائم سے متعلق شکایات پر فوری کارروائی اور متاثرین کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لیے ایک الگ اور خصوصی نظام قائم کیا گیا ہے۔ ایس ایس پی کرائم یاسین کچلو نے جمعہ کو ایک پریس کانفرنس کے دوران یہ بات کہی۔انہوں نے بتایا کہ جموں و کشمیر سائبر کوآرڈی نیشن سینٹر (جے کے فور سی) اور جے کے ون سی کے تحت یہ خصوصی نظام کام کرے گا، جس کا مقصد سائبر جرائم سے متعلق شکایات پر تیزی سے کارروائی کرنا اور متاثرین کو فوری مدد فراہم کرنا ہے۔یاسین کچلو کے مطابق نئے نظام کے تحت مختلف خصوصی شعبے قائم کیے گئے ہیں، جن میں سائبر تحقیقات ونگ، سائبر آپریشنز ونگ اور بچوں و خواتین کے خلاف آن لائن جرائم سے نمٹنے والا شعبہ شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ سائبر فراڈ اور دیگر آن لائن جرائم کا شکار ہونے والے افراد قومی سائبر کرائم ہیلپ لائن نمبر 1930 پر شکایت درج کرا سکتے ہیں یا قومی سائبر کرائم رپورٹنگ پورٹل کے ذریعے اپنی شکایت درج کر سکتے ہیں۔ایس ایس پی کرائم نے بتایا کہ شکایت موصول ہونے کے بعد مشتبہ مالی لین دین اور بینک کھاتوں کو منجمد کرنے کی درخواستوں کا پولیس اور متعلقہ بینکوں کے درمیان رابطے کے ذریعے جائزہ لیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ مالی سائبر فراڈ کے معاملات میں فوری شکایت درج کرنا انتہائی اہم ہے، کیونکہ بروقت اطلاع ملنے سے دھوکہ دہی کے ذریعے منتقل کی گئی رقم کو مزید منتقل ہونے سے پہلے روکنے یا منجمد کرنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔حکام کے مطابق بینک بھی مشتبہ لین دین اور سرگرمیوں کی نشاندہی کے لیے مصنوعی ذہانت اور مختلف نمونوں پر مبنی تجزیے کا استعمال کر رہے ہیں۔ پولیس اور متعلقہ ادارے ضروری کارروائی کے لیے محکمہ ٹیلی مواصلات، بھارتی ریزرو بینک اور بینکاری نظام کے ساتھ رابطے میں ہیں۔یاسین کچلو نے کہا کہ اگر تحقیقات کے دوران کسی بینک کھاتے کو منجمد رکھنے کے لیے کافی بنیادیں موجود نہ ہوں تو متعلقہ طریقہ کار کے تحت اسے کھولنے کی کارروائی شروع کی جائے گی۔حکام کے مطابق سنگین نوعیت کے معاملات میں ایف آئی آر درج کرکے مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔انہوں نے مزید بتایا کہ بچوں اور خواتین کے خلاف آن لائن جرائم سے متعلق شکایات کے لیے بھی خصوصی نظام قائم کیا گیا ہے، جس کے تحت متاثرین کو مشاورت اور دیگر ضروری معاونت فراہم کی جائے گی۔ایس ایس پی کرائم نے شہریوں سے اپیل کی کہ اگر وہ سائبر فراڈ کا شکار ہو جائیں تو بلا تاخیر 1930 ہیلپ لائن پر رابطہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ بروقت شکایت سے مشتبہ رقم کو منجمد کرنے، تحقیقات آگے بڑھانے اور رقم کی بازیابی کے امکانات بہتر ہو سکتے ہیں۔