یہ اقدام نشے کے خلاف لڑنے ، سپلائی چینز کو ختم کرنے اور متاثرین کی بحالی کیلئے ہمارے اجتماعی عزم کی عکاسی کرتا ہے ۔ لفٹینٹ گورنر
جموں//لفٹینٹ گورنر مسٹر منوج سنہا نے نشہ مکت بھارت ابھیان پر ایک دستاویزی فلم اور کولیج نمائش کا افتتاح کیا جو نشے کے خلاف آگاہی بڑھانے کی جانب ایک اہم قدم ہے ۔ لفٹینٹ گورنر نے جموں یونیورسٹی کی ان کوششوں کی تعریف کی جن میں جموں و کشمیر کے نوجوانوں کے سامنے موجود چیلنجز اور ان پر قابو پانے کے اجتماعی عزم کی عکاسی کی گئی ہے ۔ لفٹینٹ گورنر نے اپنے خطاب میں زور دیا کہ کسی بھی سماجی تبدیلی کا آغاز اس کی حقیقت کو تسلیم کرنے سے ہوتا ہے ۔ منشیات کا استعمال طویل عرصے سے جموں و کشمیر کے سماجی تانے بانے کیلئے ایک سنگین چیلنج بنا ہوا ہے جو خاندانوں کو تباہ کر رہا ہے اور نوجوان نسل کے مستقبل کو خطرے میں ڈال رہا ہے ۔ انہوں نے منشیات کی اسمگلنگ اور نارکو دہشت گردی کے درمیان تعلق کو اجاگر کیا اور ان نیٹ ورکس کو ختم کرنے کی اہمیت پر زور دیا تا کہ امن و سلامتی کیلئے منشیات سے پاک جموں و کشمیر کو یقینی بنایا جا سکے ۔ لفٹینٹ گورنر نے 2020 میں نشہ مکت جموں و کشمیر مہم کے آغاز کو یاد کیا ۔ انہوں نے کہا کہ اسی رفتار کو آگے بڑھاتے ہوئے اس سال اپریل میں ایک جامع 100 دن کی نشہ مکت جموں و کشمیر مہم شروع کی گئی جو رسمی تقریبات سے آگے بڑھ کر گاؤں ، اسکولوں ، یونیورسٹیوں اور خاندانوں تک پھیل گئی ۔ پیدل یاترا ، آگاہی مہمات اور انتظامی کارروائی کے ذریعے یہ مہم ایک عوامی تحریک بن گئی ۔ خواتین ، یوتھ کلبز ، اساتذہ ، ڈاکٹرز ، سول سوسائٹی گروپس اور مذہبی رہنماؤں نے آگاہی پھیلانے اور بحالی کی حمایت میں اہم کردار ادا کیا ۔ تین طرفہ نقطہ نظر یعنی سپلائی چینز کو ختم کرنا ، آگاہی پیدا کرنا اور بحالی پر زور دیتے ہوئے لفٹینٹ گورنر نے منشیات کے استعمال کے متاثرین کیلئے ری ہیبلی ٹیشن اینڈ socio-Economic ری انٹی گریشن سکیم 2026 کے آغاز کا ذکر کیا ۔ اس اسکیم کا مقصد متاثرہ نوجوانوں کو مرکزی دھارے کی معاشرت میں دوبارہ شامل کرنا ہے تا کہ وہ صحت مند اور ذمہ دارانہ زندگی گذاریں ۔ انہوں نے کہا ’’ مجھے خوشی ہے کہ اس سمت میں جموں یونیورسٹی نے آگے بڑھ کر اس اقدامات کے ذریعے اپنا کردار ادا کیا ہے ۔ فیکلٹی ممبران کی رہنمائی میں طلبہ نے بھی منشیات کی لت سے چھٹکارا حاصل کرنے کے مختلف پہلوؤں کو سمجھنے کی کوشش کی ۔ میرا خیال ہے کہ یہی تعلیم کی حقیقی طاقت ہے کیونکہ جب علم انسانی حساسیت سے جڑ جاتا ہے تو وہ سماجی ذمہ داری میں تبدیل ہو جاتا ہے ۔ ‘‘ اس تقریب میں وائس چانسلر جموں یونیورسٹی ، ڈین اکیڈمک افئیرز ، ڈین ریسرچ اسٹڈیز ، ڈین پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ ، رجسٹرار ، شعبہ جات کے سربراہان ، فیکلٹی ممبران اور جموں یونیورسٹی کے طلبہ نے شرکت کی ۔










