جموں وکشمیر میں اعلیٰ قیمتی اور بہترین فصلوں کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔ڈاکٹر منگلا رائے
سری نگر//جموںوکشمیر اَپنے متنوع زرعی ماحولیاتی زونوںکے لئے ملک کا ایک ماڈل بائیو اکانومی خطہ بننے کے لئے تیار ہے جو کہ قدرت کی طرف سے خاص فصلوں اور اجناس کی شکل میں عطا کی گئی ہے اور جموںوکشمیرمیں اعلیٰ قیمتی اور بہترین فصلوں کی بے پناہ اُگنے کی صلاحیت موجود ہے۔اِن باتوں کا اِظہار سابق ڈائریکٹر جنرل آئی سی اے آر ڈاکٹر منگلا رائے نے جامع زرعی پالیسی بنانے کے لئے یوٹی سطح اعلیٰ کمیٹی کی دوسری میٹنگ کی صدارت کرنے کے دوران کیا۔یہ کمیٹی لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا کی طرف سے قائم کی گئی ہے تاکہ زراعت کو ایک دیرپا زرعی معیشت میں تبدیل کرنے کے لئے ایک پالیسی مرتب کی جاسکے جس کا مقصد جموںوکشمیر کو زراعت میں ترقی کے لحاظ سے ملک کا نمبر ایک خطہ بنانا ہے اور اس کے 14ملین لوگوں کی روزی روٹی کو محفوظ بنانا ہے ۔ اِس پالیسی کا مقصد جموںوکشمیر کو معیاری ، تصدیق شدہ اور جی آئی ٹیگ والی زرعی پیداوار اور مصنوعات کے خالص برآمد کنند ہ میں تبدیل کرنا ہے۔کمیٹی نے سکاسٹ کشمیر شالیمار کیمپس میں تین دِنوں تک مراتھن میٹنگیں منعقد کیں جس میں تمام ترقیاتی محکموں اور اِس کی دونوںزرعی یونیورسٹیوں کے زائد اَز 100 اَفسران نے شرکت کی۔مختلف تکنیکی ورکنگ گروپس ( ٹی ڈبلیو جیز) کی جانب سے اعلیٰ کمیٹی کے سامنے تقریباً 32 پروجیکٹ کی تجاویز پیش کی گئیں جن پر اَچھی طرح غوروخوض ہوا اور مخصوص سفارشات اور ہدایات جاری کی گئیں۔ایپکس کمیٹی کے دیگر اَراکین میں سی اِی او ، این آر اے اے ڈاکٹر اشوک دلوائی ، ایڈیشنل چیف سیکرٹری محکمہ زرعی پیداوار اَتل ڈولو ، سیکرٹری این اے اے ایس نئی دہلی ڈاکٹر پی کے جوشی ، ہارٹی کلچر کمشنر مرکزی حکومت محکمہ زرعی پیداوار و بہبود کساناںڈاکٹر پربھات کمار ، سابق ڈائریکٹر آئی اے آر آئی ڈاکٹر ایچ ایس گپتا ،وائس چانسلر سکاسٹ جموں ڈاکٹر جے پی شرما، وائس چانسلر سکاسٹ کشمیر ڈاکٹر نذیر احمد گنائی اس کے ممبر سیکرٹری کے طور پر شامل تھے۔سی اِی او این آر اے اے ڈاکٹر اشوک دلوائی نے ٹی ڈبلیو جیز کے اراکین کے ساتھ تبادلہ خیال کرتے ہوئے جموں و کشمیر کے اس تصور کو توڑنے کی صلاحیت پر اپنی امید کا اظہار کیا کہ معیشت اور ماحولیاتی نظام مخالف ہیں۔ اُنہوں نے یقین ظاہر کیا کہ دونوں یوٹیز کے لئے ایک جامع ، خوشحال او ردیرپا زرعی معیشت کی بنیاد رکھنے کے لئے ہم آہنگی پیدا کریں گے۔اَتل ڈولو نے زراعت کی ترقی کوفروغ دینے کے لئے یوٹی حکومت کے عزم کا اعادہ کیا جس کے لئے حکومت ملک میں سرمایہ کاری کرنے اور آگے بڑھنے کے لئے تیار ہے۔سیکرٹری این اے اے ایس نئی دہلی ڈاکٹر پی کے جوشی نے جموںوکشمیریوٹی کے زراعت اور اس سے منسلک شعبوں سے اَپنی پیداوار کو 2027ء تک دوگنا کرنے کے عزم ،موجودہ ترقی کے اشارے اور مختلف پروجیکٹوں میں متوقع پیدا واری صلاحیت میں ممکنہ بہتری کے پیش نظر کے بارے میں اُمید ظاہر کی ۔ اُنہوں نے زرعی مارکیٹنگ کے نظام کی تشکیل نو پر بھی زور دیا تاکہ کسانوں کو معیار ، بہترین مصنوعات اور کاشت کاری کے اَچھے طریقوں کے مطابق یقینی بحال کی جا سکے۔سابق ڈائریکٹر آئی اے آر آئی ڈاکٹر ایچ ایس گپتا نے متنوع ہونے کے لئے اَپنی رائے کا اِظہا رکیا تاکہ خطے میں غذائیت اور اقتصادی تحفظ کو یقینی بنایا جاسکے اور جموںوکشمیر یوٹی میں دستیاب بارش پر مبنی وسیع علاقے کی صلاحیت کو پائیدار طریقے سے اِستعمال کیا جاسکے۔کمشنر باغبانی ڈاکٹر پربھات کمار نے اِلائٹ پلانٹنگ میٹریل کی ترقی میں نجی ایگری پرینیوروںکو فروغ دے کر پودے لگانے کے مواد کی در آمدات پر اَنحصار کم کرنے کے لئے جموںوکشمیر کی صلاحیت کو بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔کمیٹی کے اراکین نے فائنانشل کمشنر زرعی پیداوار اَتل ڈولو اور سکاسٹ کشمیر/جموں کے دونوں وائس چانسلروں کو اِس مؤثر اَنداز میں کام کرنے پر مبارک باد پیش کی جس میں کم سے کم وقت میں پروجیکٹ کی تشکیل کی مشق کی گئی۔دوسری میٹنگ میں زرعی شعبوں کی ایک وسیع رینج پر مجوزہ منصوبوں میں سے 28 کی منظوری دی گئی جس میں اعلیٰ کثافت پھلوں کی نشو و نما، بیجوں کی پیداوار کے فارموں کی تشکیل ، سبزیوں کے شعبے سے پیداوار میں اِضافہ ، طاق فصلوں ، ریشمی زراعت ، ماہی پالن ، تیل کے بیج ، ڈیری ترقی ،بھیڑ او ربکریوں کی ترقی ، پولٹری کی پیداوار کے طور پر ترقی دینے زور دیا گیا۔ جن دیگر منصوبوں کو منظوری کے لئے کلیئر کیا گیا ان میں فوڈ پروسسنگ ، مؤثر زرعی مارکیٹنگ ، چارے کی ترقی ،مشروم کی پیداوار ، دوائوں او رخوشبودار پودوں ، فلوری کلچر ، 300 ایف پی اوز کی تشکیل ، ایک مربوط کاشت کاری کے نظام کو فروغ دینے ، نامیاتی کاشت کاری او ربارانی علاقوں کی ترقی شامل ہیں۔جموںوکشمیر میں لگائے جانے والے تمام منصوبوں اور پالیسیوں کا فوکس اِس کے زرعی شعبوں کی پوری صلاحیت کو بروئے کا ر لانا ہے او رخطے کی زرعی معیشت کو فروغ دینے کے لئے ویلیو چینز قائم کرنا ہے۔










