دریائے سندھ میں ڈوب کر لقمہ اجل،تحقیقات شروع:حکام
سری نگر//سیر وتفریح کے دوران بارہمولہ کاایک14سالہ نوعمر طالب علم سونہ مرگ میں دریائے سندھ میں ڈوب کر لقمہ اجل بن گیا۔جے کے این ایس کے مطابق بارہمولہ پبلک ہائیر سیکنڈری اسکول کے طالب علم PICNICیاسیروتفریح کیلئے ہفتہ کی صبح سونہ مرگ پہنچے ۔یہاں پہنچنے پر کچھ نوعمر طلباء ممکنہ طور پر گرمی سے راحت پنے کیلئے دریائے سندھ میں نہانے لگے۔معلوم ہواکہ نہانے کے دوران بارہمولہ پبلک ہائیر سیکنڈری اسکول میں زیرتعلیم آٹھویں جماعت کا14سالہ طالب علم شعیب فاروق چاچی ولد فاروق احمد چاچی ساکن چندوسہ بارہمولہ دریائے سندھ میں ڈوب گئے ۔مذکورہ نوعمر طالب علم کو دریائے سندھ سے نکال کر قریبی سب ڈسٹرکٹ اسپتال سونہ مرگ پہنچایاگیا،تاہم یہاں موجود ڈاکٹروںنے ابتدائی طبی معائنے کے بعد اس معصوم طالب علم کو مردہ قرار دے دیا۔گاندربل پولیس نے المناک واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے مزید تفتیش شروع کردی ہے۔اُدھر چیف ایجوکیشن آفیسر بارہمولہ بلبیر سنگھ رینا نے بارہمولہ پبلک ہائیر سیکنڈری اسکول کے ایک نوعمر طالب علم کے پکنک کے دوران دریائے سندھ میں ڈوب کر ازجان ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایاکہ اس سلسلے میں محکمہ تعلیم تفصیلات حاصل کررہاہے۔حکام نے مزید کہاکہ اس المناک واقعے کی مکمل جانکاری لینے کے بعد مبینہ طور پر لاپرواہی کے مرتکب اسکول منتظمین اور بالخصوص بچوں کیساتھ گئے ٹیچروں کیخلاف کارروائی کی جائے گی۔










