سوربھ بھگت نے آئی آئی ٹی جموں میں نادرن اِنڈیا ہیمالین چپٹر کا اِفتتاح کیا

جموں//کمشنر سیکرٹری سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سوربھ بھگت نے آج آئی آئی ٹی جموں میں مائیکرو چپس اور مینو فیکچرنگ کے بہت بڑے پیمانے پر اِنٹگریشن ( وِی ایل ایس آئی ) کے میدان میں ایک تاریخی کامیابی سے نادرن اِنڈیا ہمالین چپٹر کا اِفتتاح کیا۔سوربھ بھگت نے کہاکہ وِی ایل ایس آئی ہمالین چپٹر کا یہ نیا باب آئی آئی ٹی جموں کو وِی ایل ایس آئی پر تحقیق کا مرکز بننے کاموقعہ فراہم کرے گا جس کا اِستعمال تمام کمپیوٹنگ اور کنٹرول آلات جیسے موبائل ، کیمرے ، آٹو موبائل ، ڈرون وغیر ہ میں بڑے پیمانے پر کیا جارہا ہے۔یہ چپٹر تمام یونیورسٹیوں ، آر اینڈ ڈی اِداروں ، آئی آئی ٹیز ، این آئی ٹیز اور آئی آئی ایس سی ریاستوں جیسے جموںوکشمیر ، لیہہ ، ہیما چل پردیش وغیرہ کو تحقیق اور مشترکہ پروگراموں میں شامل کرنے کے لئے پورا کرے گا۔کمشنر سیکرٹری نے کہا کہ جموںوکشمیر سٹارٹ اَپ ایکو سسٹم کو سپورٹ کرنے پر ریاستوں کی درجہ بندی میں تمام یوٹیز اور شمال مشرقی ریاستوں میں سرفہرست کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کے طور پر اُبھرا ہے ۔اُنہوں نے اِنکشاف کیا کہ ریاستوں اور یوٹیز کو پانچ زُمروں میں درجہ بندی کیا گیا ہے جن میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے ، اعلیٰ کار کردگی کا مظاہرہ کرنے والے ، لیڈر ، اسپریشنل لیڈران اور اُبھرتے ہوئے سٹارٹ اَپ ماحولیاتی نظام شامل ہیں۔اُنہوں نے مزید کہا کہ جموںوکشمیر جسے یوٹیز اور شمال مشرقی ریاستوں کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے ، بشمول ایک کروڑ سے کم آبادی والے ، سب سے زیادہ کارکردگی دِکھانے والے کے طور پر اُبھرے ہیں جبکہ میگھالیہ بہترین کارکردگی کے طورپر سامنے آیا ہے۔یہ بات قابلِ ذِکر ہے کہ حکومت جموں وکشمیر نے 2018 ء میں ایک مکمل سٹارٹ اَپ پالیسی جاری ک ی جس کا مقصد اَگلے دَس برسوں کے دوران جموںوکشمیر میں کم اَز کم 500 نئے سٹارٹ اَپس کے قیام کی سپورٹ کرنا ہے ۔جموںوکشمیر میں گزشتہ کچھ برسوں میں 84سٹارٹ اَپس قائم کئے گئے ہیں۔یہ درجہ بندی اُبھرتے ہوئے کاروباری اَفراد کو فروغ دینے کے لئے سٹارٹ اَپ ایکو سسٹم یار کرنے کے لئے کئے گئے اقدامات پر مبنی ہے ۔ اِس مشق کا مقصد ریاستوں اور یوٹیز کو ان کے سٹارٹ اَپ ماحولیاتی نظام کو تیار کرنے اور ایک دوسرے کے بہترین طریقوں سے سیکھنے میں مدد فراہم کرنا ہے ۔ اسپریشنل رہنمائوں کے زمرے میں ریاستوں اور یوٹیز میں چھتیس گڈھ ، دہلی، مدھیہ پردیش ، راجستھان ، چندی گڈھ ، پانڈوچریاور ناگالینڈ شامل ہیں۔ درجہ بندی کے مطابق اُبھرتے ہوئے سٹارٹ اَپ ایکو سسٹم کے زمرے میں آندھرا پردیش ، بہار ، میزورم اور لداخ شامل ہیں۔ ان کا جائزہ سات اصلاحاتی شعبوں میں کیا گیا جس میں 26 ایکشن پوائنٹس شامل ہیں جن میں اِدارہ جاتی تعاون ، اِختراع کو فروغ دینا ، مارکیٹ تک رَسائی ، انکیو بیشن اور فنڈنگ سپورٹ شامل ہیں۔سوربھ بھگت نے اِنکشاف کیا کہ جموںوکشمیر اِنتظامیہ سٹارٹ اَپس کی حوصلہ اَفزائی اور اِختراع کو فروغ دینے کے لئے کام کر رہی ہے جس سے جموںوکشمیر یوٹی کے معاشی گراف کو بلند کرنے اور روزگار کے وافر مواقع پیدا کئے جارہے ہیں۔اُنہوں نے کہا،’’ حکومت جموںوکشمیر اس شاندار کام کو پورا کرنے کی کوشش کرتے ہوئے فوڈ پروسسنگ ، زراعت ، قابل تجدید توانائی ، ہینڈی کرافٹ اینڈ ہینڈ لوم جیسے شعبوں پر توجہ مرکوز کر رہی ہے اور ان اہم شعبوں میں سٹارٹ اَپس کو بھر پور طریقے سے فروغ دے کر آگے بڑھایا جائے گا۔‘‘کمشنر سیکرٹری نے سٹارٹ اَپس کو اِقتصاری ترقی کی طرف گیم چینجر قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت شاندار خیالات ، انکیوبیشن اور سیڈنگ فنڈنگ سپورٹ فراہم کرنے کے لئے پُر عزم ہے۔اُنہوں نے کہا،’’ ہمارا مقصد جموں و کشمیر میں اختراعات اورسٹارٹ اپس کے لئے ایک مضبوط ماحولیاتی نظام کی تعمیر ، صنعتی اور تعلیمی اداروں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنا ہے جو نوجوان اختراع کاروں کی حوصلہ افزائی اور انہیں بااِختیار بنائے گا اور سٹارٹ اپس میں نجی سرمایہ کاری کو فروغ دے گا۔‘‘اِس سمت میں جموں وکشمیر کی سائنس ، ٹیکنالوجی اور انوویشن کونسل جو ایک سائنسی آرگنائزیشن ہے ، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ڈیپارٹمنٹ جموںوکشمیر اور اِنڈین اِنسٹی چیوٹ آف ٹیکنالوجی ( آئی آئی ٹی ) جموں کے درمیان مفاہمت نامے پر دستخط کئے گئے ۔ دونوں ادارے جموں و کشمیر کے مختلف اداروں میں انکیوبیشن اور اختراعی ماحولیاتی نظام کی ترقی کے لئے جدید ٹیکنالوجی کی نشاندہی کریں گے اور جموں و کشمیر کے تکنیکی اداروں میں تحقیق اور تعلیمی خلا کو پورا کریں گے، آئی آئی ٹی جموں میں ای ایس ڈی ایم اور وی ایل ایس آئی پر صلاحیت کی ترقی کے مرکز کے قیام کے علاوہ روبوٹکس ٹیکنالوجی، آرٹیفیشل اینٹلی جنس اور باہمی دلچسپی کے دیگر شعبے اور زیادہ تر جموں و کشمیر کے لوگوں کی فلاح و بہبود سے متعلق ہیں پر کام کریں گے۔اِس موقعہ پر ڈائریکٹر آئی آئی ٹی پروفیسر ڈاکٹر منوج گوڑ ، ڈائریکٹر آئی آئی ٹی منڈی پروفیسر لکشمی دھربہارا، سٹریٹجی ہیڈ انٹیل چتر ا ہری ہرن ، صدر وِی ایل ایس آئی سوسائٹی آف اِنڈیا ڈاکٹر ستیہ گپتا ، ڈائریکٹر ٹیکساس اِنسٹرومنٹ بنگلورراجیو کھشو ، ڈائریکٹرمرکزی حکومت مییٹی آئی آئی ٹی نشیت گپتا ، جموں کے سینئر فیکلٹی ممبران ، دیگر یونیورسٹیوں کے مندوبین ،مختلف سکولوں کے طلباء موجود تھے۔اِستفساری سیشن کے دوران جوائنٹ ڈائریکٹر ایس اینڈ ٹی ڈیپارٹمنٹ سنجے کھورو نے سائنس ٹیکنالوجی اور اِختراع کے فروغ پر روشنی ڈالی۔