amit shah

سنگ بازی میں ملوث جوکوئی بھی ہوگا سرکاری نوکری نہیں ملے

جن لوگوں نے ہتھیار اٹھائے ہیں انہیں قومی دائرے میں شامل ہونے کے لئے خود سپردگی کرنی چاہئے /امیت شاہ

سرینگر//ملک دشمن سرگرمیوں کے خلاف زیرو ٹالرنس کے موقف پر قائم رہنے کاارادہ ظاہر کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے ظاہر کرتے ہوئے جموںو کشمیرکے حوالے سے دو بلوں پرشروع کئے گئے بحث کو سمیٹتے ہوئے کہاکہ سنگ بازی میںجو کوئی بھی ملوثہوگااس سے سرکاری نوکری نہیں ملے گی او ر ان نوجوانوں نے ہتھیار اٹھائے ہیں انہیں قومی دائرے میں شامل کوکرسرنڈرکرناچاہئے۔2024میں عسکریت اور علیحدگی پسندی کاخاتمہ کرنے کے لئے اقدامات اٹھائے گئے ہے اور اس سلسلے میں ایک نئی حکمت عملی اپنائی جارہی ہے ملک دشمن سرگرمیوں عسکریت سے تعلق رکھنے والوں کے لئے کسی بھی طرح کی راحت فراہم نہیں کی جائے گی اور ان کے لئے جموںو کشمیرمیں جیل تعمیرکئے جارہے ہیں جن پر130کروڑروپے خرچ کئے جارہے ہے ۔اے پی آئی نیوز ڈیسک کے مطابق11دسمبر کو ایوان بالاراجیہ سبہا میں جموں وکشمیرکے حوالے سے پیش کی گئی دو بلوں پربحث سمیٹتے ہوئے وزیر اخلہ امیت شاہ نے کہاکہ دہشت گردی علیحدگی پسندی کے خلاف ہم نے جوزیروٹالرنس اپنانے کا موقف اختیارکیاہے ا سپرہم مضبوطی کے ساتھ قا ئم ہیں۔ انہوںنے ایوان میںاعلان کیاکہ جس کسی نوجوان کے خلاف سنگبازی میںایف آئی آر درج ہو اس سے سرکاری نوکری نہیں ملے گی اور جن نوجوان نے ہتھیا راٹھائے ہے انہیں چا ہئے کہ وہ قومی دائرے میں شامل ہوکر خود سپردگی کرے تاکہ انہیں ان کی جانوں کوبچایاجاسکے ۔وزیرداخلہ نے بحث سمیٹتے ہوئے کہاکہ علیحدگی پسندی او رعسکریت پسندوں کوجڑ سے اُکھاڑ پھینکنے کے لئے ایک نئی حکموت عملی اپنائی جارہی ہے اور 2024کے دوران جموںو کشمیرمیںمکمل طورپرامن بحال کرنے کے لئے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں ۔وزیرداخلہ نے اپنے خطاب کے دوران کہاکہ ملک دشمنی یاعلیحدگی پسندی سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے لئے ہم کو ئی نرم گوشہ نہیں رکھتے ہیں اورانہیں قانون کاسامناکرناپڑیگا اور ان کے لئے جموںو کشمیرمیںجیل خانہ جات تعمیرکیاجارہاہے جس پر 130کروڑروپے صرف کئے جارہے ہیں۔ جموںوکشمیرمیں370-35Aہٹانے کے بعد امن لوٹ آنے کاعندیہ دیتے ہوئے انہوںنے کہاکہ ایک وہ بھی دور تھاجب ترنگا لہرانے کے لئے فوج کی مددلینی پڑتی تھی اور اب یہ بھی دور ہے کہ ہرگھر ترنگالہرایاجاتاہے ۔انہوںنے کہاتین دہائیوں کے دوران جموں وکشمیرمیں لوگوں کوسینما کی تفریح فراہم کرنے کے لئے اقدامات نہیں اٹھائے گئے او رپچھلے چار برسوں کے دوران آٹھ سینماکھولے گئے مزیدتیس کھولے جارہے ہیں اور اس سلسلے میں سینماکھولنے والے بینکوں سے قرض حاصل کرنے کی قطار میں کھڑے ہیں ۔وزیرداخلہ نے کہا کیایہ صحیح نہیں کہ تیس برسوں کے بعد سیول لائنز میںجلوس نکالاگیا جسپرعرصہ دراز سے پابندی عائد تھی ۔انہوںنے پیش کی گئی بلوںپربحث میں شرکت کرنے والے ممبران پارلیمنٹ کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہاکہ پچھے تین برسوں کے دوران ہم نے جوکیا وہ پچھلے ستربرسوںسے نہیں ہوا ہم نے غلطیوں کوسدہارا ہم نے جموں وکشمیرکو ملک کے ساتھ پوری طرح مدغم کیا اور ہم نے زیرو ٹارلرنس اپنائی اوراسپرثابت قدم رہیں ۔انہوںنے یوپی اے کے دور کوہدف تنقید کر نشانہ بناتے ہوئے کہا جس طرح این آئی اے ایس آئی اے ایس آئی یو نے ملک دشمن سرگرمیوں کے خلاف اپناموقف سخت کرتے ہوئے 322میںکیس درج کئے 150کروڑروپے کی جائیدادیں ضبط کی 120بینک کھاتوں میںموجود دوسو کروڑ روپے کومنجمدکیاتشدد میں70%کی کمی لائی سابقہ حکومت نے اگر اس کے نصف ہی کیا ہوتاتوصورتحال کچھ اور ہوتی۔ وزیرداخلہ نے کہا 370-35A کے خاتمے کے بعد اب ہماری نظریں پاکستانی زیرانتظام کشمیرمیں ہے۔ انہوں کہاہم نے آئینی طورپرپاکستانی مقبوضہ کشمیرکے لئے 24نشستیں منتخب کئے ہم نے رفیوجیوں کوان کاحق دیا ہم کشمیری پنڈتوں کے پسماندہ ہیں ہم انہیں انصاف فراہم کرنے جارہے ہیں جنہیں دردرکی ٹھوکرے کھانے پرمجبور کیاجاتا تھا۔