مقامی اور غیر مقامی لوگوں نے ملبوسات کے علاوہ دیگر اشیاء کی خریداری کی
سرینگر// وادی کشمیر میں سرینگر کے ٹی آر سی گراونڈ سے ہری سنگھ ہائی اسٹریٹ تک اور جنوبی ضلع اننت ناگ کے مہندی کدل سے جنگلات منڈی تک لگنے والے روایتی سنڈے مارکیٹ میں حسب معمول لوگوں کا اڑدھام آمڈ آیا تھا، بھیڑ بھاڑ کا یہ عالم تھا کہ گاڑیوں کا ہی جام نہیں بلکہ راہگیروں کا بھی جام لگاتھا۔عینی شاہدین نے بتایا کہ مختلف اشیائے ضروریہ خاص کر ملبوسات اور گھریلو ساز وسامان خریدنے کے لئے لوگوں کے رش کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ دوپہر تک بہت سی چھاپڑوںپر مال کم پڑ گیا تھا۔ وائس آف انڈیا کیمطابق وادی کشمیر کے ماہ رمضان میں سرینگر اور اننت ناگ کے مشہور اتوار بازار’’سنڈے ماریکٹ ‘‘میں لوگوں کا اڑدھام ، گرم ملبوسات کی جم کر خریداری کی ، مارکیٹ میں خواتین اور بچوں کا بھاری رش دیکھنے کو ملا۔ سرینگر میں ٹورسٹ ریسپشن سنٹرسے لیکر مہاراجہ بازار امیرا کدل تک اور جنوبی ضلع اننت ناگ کے مہندی کدل سے جنگلات منڈی تک دونوں جانب ہزاروں کی تعداد میں چھاپڑی فروشوں نے مال سجایا جس میں ملبوسات، کمبل، اور دیگر سازوسامان تھا۔ لوگ کی تعداد بڑھتی گئی اور ہزاروں کی تعداد میں لوگ سنڈے مارکیٹ پہنچے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔ سنڈے مارکیٹ میں خواتین نے کئی طرح کے چیزوں کی جم کر خریداری کی جن میں زیادہ تر گرم ملبوسات شامل ہیں۔ سنڈے مارکیٹ میں ہزاروں کی تعداد میں تاجر اپنی چھاپڑیاں لگاکر ان پر مال سجاتے ہیں جن میں کراکری، ہوزری، جرابے، جوتے ، سٹیشنری، کتابیں ، پنٹ ، شیٹ، بیڈ شیٹ، مختلف اقسام کی کمبلیں ، الیٹرانک سامان ، جن میں موبائل وغیرہ بھی شامل ہوتا ہے۔ جبکہ اچھی کمپنیوں کے ساتھ ساتھ ادنا کمپنیوں کا مال بھی خریداروں کی خدمت میں رکھا جاتا ہے۔ سنڈے مارکیٹ وادی کاایک وہ واحد مارکیٹ ہیں جہاں پر اس تعدادمیں لوگ خریداری کرتے ہیں اور خریداری کی غرض سے ہی لوگ یہاں آتے ہیں۔ سنڈے مارکیٹ سے جڑے کئی افراد نے وی او آئی نمائندے امان ملک کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ اس مارکیٹ کی وجہ سے ہی ان کے اہل و عیال کا پیٹ پلتا ہے کیوں کہ ہفتے کے چھ دن وہ سنڈے مارکیٹ کیلئے مال تیار رکھتے ہیں اور اس روز یہاں فروخت کرتے ہیں۔ سنڈے مارکیٹ کی وجہ سے ہزاروں لوگوں کو روزگار ملتا ہے جن میں چھاپڑی فروشوں کے علاوہ ، مسافر گاڑیوں ، آٹو ڈرائیوروں ، لوڈ کیریر والوں اور دیگر لوگ بھی سنڈے مارکیٹ کی وجہ سے اچھا خاصہ کاروبار کرتے ہیں۔ اس دوران جیکٹ بیچنے والے ایک ریڑہ بان نے نمائندے کو بتایا کہ گزشتہ اتوار کو گزشتہ سردی کی وجہ سے کام قدرے متاثر ہوا تھا لیکن اس اتوار کو موسم بھی قدرے بہتر ہے جس کی وجہ سے کام بھی بہتر رہا۔معلوم ہوا ہے کہ سنڈے مارکیٹ میں اتوار کے روز لوگوں نے ملبوسات کی جم کر خریداری کی۔بتادیں کہ سرینگر کے سول لائنز میں ٹی آر سی کراسنگ سے تاریخی لال چوک تک اور اننت ناگ میں مہندی کدل سے جنگلات منڈی تک ہر اتوار کو سنڈے مارکیٹ لگتا ہے جس میں سینکڑوں ریڑہ بان ضرورت زندگی کی مختلف چیزیں بالخصوص ملبوسات سستے داموں فروخت کرتے ہیں۔










