سری نگر میں مصوری کیمپ کا اِنعقاد

شمالی زون کلچر سینٹر اور جموںوکشمیر کلچرل اکیڈیمی کے باہمی اِشتراک سے مصوری کیمپ کا اِنعقاد کیا گیا

سری نگر//سری نگر کے شری پرتاپ سنگھ ( ایس پی ایس ) میوزیم میں آج ایک غیر معمولی مصوری کیمپ کا آغاز ہو گیا ہے جس میں جموںوکشمیر کے ساتھ ساتھ پنجاب ، ہریانہ اور راجستھان جیسی رِیاستوں سے آئے آرٹسٹ بھی شرکت کر رہے ہیں۔اِس غیر معمولی مصوری کیمپ کا اِنعقاد نارتھ زون کلچر سینٹر پٹیالہ اور جموںوکشمیر اکیڈیمی آف آرٹ ، کلچر اینڈ لنگویجز کے باہمی اشتراک سے منعقد ہو رہا ہے ۔ یہ مصوری کیمپ اُن پیشگی تقریبات کا ایک حصہ ہے جو ’’ وتستا کلچرل فیسٹول‘‘ کے سلسلے میں فی الوقت وادی کے مختلف علاقوں میں منعقد ہو رہی ہیں۔یہ سہ روزہ کلیدی فیسٹول سری نگر کے شیر کشمیر اِنٹرنیشنل کنونشن سینٹر میں 23؍ جون سے شروع ہوگا۔منتظمین نے کہا کہ مصوری کیمپ میں تخلیق کئے جانے والی پینٹنگوں کی نمائش 23؍ جون کو سکمز میں شروع ہونے والے وتستا کلچر فیسٹول میں ہوگی ۔آج صبح کیمپ کا اِفتتاح سیکرٹری جموںوکشمیر کلچرل اکیڈیمی بھارت سنگھ نے کیا۔اُنہوں نے شرکأ کو مُبارک باد ی دیتے ہوئے کہا ،’’ اِس طرح کے مصوری کیمپ کے اِنعقاد کا مقصد آرٹسٹوں کا اَپنے نادر فن کا مظاہرہ کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے ۔ ‘‘ اُنہوں نے کہا ،’’ آرٹسٹ خداداد صلاحیتوں کے مالک ہوتے ہیں جو اَپنے تخیل کی مدد سے کینواس پر ایک بے جان لکیر یں کھینچ کر پینٹنگ میں جان پیدا کردیتے ہیں۔‘‘اِس موقعہ پر نارتھ زون کلچر سینٹر کے پروگرام آفیسر رویندر شرما نے بھی اَپنی موجودگی سے کیمپ کے اِفتتاحی تقریب کا اعزاز بخشا ۔ اُنہوں نے مصوری کیمپ میں شرکت کرنے والوں کا تہہ دِل سے اِستقبال کیا۔اِس موقعہ پر کشمیر کے معروف مصور مسعود حسین نے پینٹنگ کیمپ کا اِنعقاد کرنے پر منتظمین کا شکریہ اَدا کرتے ہوئے کہا کہ اِس طرح کے اقدامات سے فن کی دُنیا کو فروغ ملتا ہے اور فن کاروں کی حوصلہ اَفزائی ہوتی ہے۔اُنہوں نے کہا کہ جب فن کاروں کی حوصلہ اَفزائی کی جاتی ہے تو اُن کے فن کے اَثرات ان کی ذات تک محدود نہیں رہتے ہیں بلکہ اُن کی تخلیقات سے اِنسانی معاشرہ محظوظ ہو جاتا ہے ۔ اُنہوں نے کہا کہ جب ایک فن کار برش اُٹھاتا ہے او راَپنے تخیل کے دائروں کو کینواس پر ڈھالنا شروع کرتا ہے تو وہ دُنیا وی فکروں سے بالا تر ہو کر اَپنے فن کے دائرے میں ڈوب جاتا ہے ۔ اُنہوں نے فن کاروں کو بھر پور تعاون اور سہولیات بہم پہنچانے کی ضرور ت پر زور دیا۔ اُنہوں نے مزید کہا،’’ اِس طرح کے کیمپوں میں جب مقامی فن کاروں کو مختلف رِیاستوں سے آئے فن کاروں کے ساتھ ملاقات اور بات چیت کرنے کا موقع ملتا ہے تو دونوں ایک دوسرے سے اِستفادہ حاصل کرتے ہیں اور یہ دراصل مختلف ثقافتوں کے اِمتزاج کے مصداق ہوتا ہے ۔شرکأ میں جونیئر آرٹسٹ صنوبر جیلانی شاہ اور عفرا جان بھی شامل ہیں جنہوں نے پینٹنگ کیمپ میں شرکت کا موقعہ ملنے پر اَپنی بھرپور خوشی کا اِظہار کیا ۔ اِن دونوں نے کہا کہ اس طرح کے کیمپوں کا اِنعقاد جونیئر آرٹسٹوں کی فنی صلاحیتوں کو اُبھارنے کا موقعہ فراہم کرتے ہیں اور ساتھ ہی اُنہیں سینئر فن کاروں کو قریب سے دیکھنے اور سننے کا موقعہ ملتا ہے جس کی وجہ سے اُن کی فنی صلاحیتوں میں بہتری آنے کے آنے کے اِمکانات ہوتے ہیں۔صنوبرجیلانی شاہ کشمیر یونیورسٹی کی فیکلٹی آف فائن آرٹ کی طالبہ ہیں ۔اُنہوں نے کہا کہ وہ اس سے قبل دو پینٹنگ کیمپوں میں شرکت کر چکی ہیں اور ان کیمپوں کی وجہ سے اُنہیں اَپنی فنی صلاحیتوں کو اُبھارنے کا موقعہ فراہم ہوا ہے۔عفراجان جو پہلی بار اِس طرح کے کیمپ میں شرکت کر رہی ہیں، نے اِس بات پر خوشی کا اِظہا رکیا کہ اِس کیمپ کی وجہ سے اُنہیں سینئر آرٹسٹوں سے سیکھنے کا موقعہ فراہم ہو تا ہے ۔