فنِ خطاطی کی میراث کو تحفظ دینے کی کوشش میں 11کالج طلباء سمیت 26شرکأ شامل
سری نگر// فنِ خطاطی کی حفاظت کرنے اور اسے فروغ دینے کی ایک کوشش کے بطور شمالی زون کلچرل سینٹر پٹیالہ اور جموں کشمیر اکیڈیمی آف آرٹ کلچر اینڈ لنگویجز نے باہمی اشتراک سے آج گورنمنٹ کالج بمنہ سری میں میں خطاطی کیمپ کا انعقاد کیا جس میں مقامی اور وادی سے باہر کے 26 ماہرین خطاطی شامل ہوئے ہیں۔ کیمپ اُن تقریبات کا حصہ ہے جو 23؍ جون سے شیر کشمیر اِنٹرنیشنل کنونشن سینٹرسری نگر میں منعقد ہونے والے سہ روزہ ’’وتستا کلچرل فیسٹول‘‘ کے سلسلے میں پیشگی طور پر منعقد کی جارہی ہیں۔یہ خطاطی کیمپ اُن پروگراموں کی ایک سیریز کا حصہ ہے جو تین روزہ ’’وتستا کلچرل فیسٹیول‘‘منانے کے لئے بنائے گئے ہیں جو 23؍ جون کو شیر کشمیر انٹرنیشنل کانفرنس سینٹرسری نگر ( ایس کے آئی سی سی ) میں شروع ہونے والا ہے۔یہ بات قابل ذِکر ہے کہ ’ آزادی کا اَمرت مہااُتسو‘پہل کے ایک حصے کے طور پر ’’ وتستا کلچرل فیسٹول ‘‘ وزیر اعظم نریندر مودی کے ’’ ایک بھارت شریشٹھ بھارت‘‘ ( ایک ہندوستان ، عظیم ہندوستان ) کے وژنری تصورکے مطابق ایک اہم مقصد رکھتا ہے۔خطاطی کا کیمپ جمعرات کی شام تک جاری رہے گا ۔ اِس کے بعد کیمپ کے دوران تیار کردہ خطاطی کے فن پاروں کو فیسٹول کی پُر وقار عظیم الشان تقریب میں نمائش کے لئے پیش کیا جائے گا۔ منتظمین اور فن کے ماہرین نے خطاطی کیمپ کی اِفتتاحی تقریب کے موقعہ پراِس کیمپ کے اِنعقاد کے مقصد کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ کوئی فن خوبصورتی کے تصور اور اِس کی مختلف شکلوں کا احاطہ کرتا ہے ۔ اِن شکلوں میں خطاطی کو نمایاں اور بااثر مقام حاصل ہے ۔ اُنہوں نے کہا کہ اس کیمپ میں ماہر اور سینئر خطاط نوجوان شرکأ کو اَپنی قیمتی آرأ سے مستفید کریں گے تاکہ وہ اِس قابل قدر فن میں مہارت حاصل کرسکیں گے۔اُنہوں نے اِ س بات پر زور دیا کہ خطاطی نہ صرف آرٹ کی ایک منفرد اور الگ صنف کی نمائندگی کرتی ہے بلکہ یہ فن ڈیزائننگ کے شعبے میں روزگار کے شاندار مواقعے بھی فراہم کرتی ہے۔گوری بسو نے کیمپ میں شرکت کرنے والوں کو گرمجوشی سے مبارک باد پیش کرتے ہوئے جو مرکزی وزارتِ ثقافت کے تحت شروع کئے گئے ’ آزادی کا اَمرت مہااُتسو‘ پروگرام کی ایک مشیر ہیں ، نے کہا ،’’ فنِ خطاطی الفاظ کو درستگی اور خوبصورتی کے ساتھ لکھنے کا ایک قدیم فن ہے ۔ اُنہوں نے کہا کہ مرکزی وزارتِ ثقافت فنِ خطاطی کو فروغ دینے کی کوشاں ہے۔گوری باسو نے کیمپ کے مقام او رمتعلقہ کالج کے بہترین اِنتظامات کی تعریف کی ۔اُنہوں نے کہا کہ چوں کہ وہ خود ایک پروفیسر ہیں ۔ اِس لئے وہ اِس مقام اور کیمپ کے منتظمین اور ماہرین کے ساتھ ایک گہرا تعلق محسوس کر رہی ہیں۔اِس موقعہ پر سیکرٹری جموںوکشمیر کلچرل اکیڈیمی بھارت سنگھ منہاس نے اکیڈیمی کی کارکردگی اور اس کی جانب سے فن کاروں کو دی جانے والی مراعات کے بارے میں تفصیلات بتائیں۔اُنہوں نے خطاطی کیمپ میں جوش و خروش کے ساتھ شرکت کرنے والوں کی حوصلہ اَفزائی کرتے ہوئے کہا کہ خطاطی کے فن کو فروغ دینا ضروری ہے۔ دورانِ تقریب اکیڈیمی کے ڈویژنل سربراہ ڈاکٹر فاروق انور مرزا اور ایڈیشنل سیکرٹری سنجیو رانا نے اکیڈیمی کے مستقبل کے منصوبوں اور اقدامات پر روشنی ڈالی۔اُنہوں نے اکیڈیمی کے ویژن اور اہداف کے بارے میں اَپنے خیالات کا اِظہار کیا۔اِس کے علاوہ خطاطی شعبے کے سربراہ انور لولابی نے خطاطی فن کی تفصیلی وضاحت کی ۔اُنہوں نے سامعین کو خطاطی کی اِس مخصوص شکل ، اس سے جڑی روایات اور تکنیک سے روشنا س کیا۔پرنسپل ڈگری کالج بمنہ نذیر احمد سمنانی نے تمام معزز مہمانوں کاوالہانہ استقبال کیا او رکالج کی طرف سے فن سے متعلق سرگرمیوں کا جائزہ پیش کیا۔پٹیالہ میں نارتھ زون کلچر سینٹر کے پروگرام آفیسر رویندرشرما نے مہمانوں اور منتظمین کی موجودگی اور تعاون کے لئے ان کا تہہ دِل سے شکریہ اَدا کیا۔اِس موقعہ پر نظامت کے فرائض کالج میں اُردو کی ایسوسی ایٹ پروفیسر سعیدہ نختہ قریشی نے اَنجام دی۔










