سری نگر بارہمولہ شاہراہ پر دہائیوں پرانے سفیدے کے درختوںکو کاٹنے کی مہم!

ایک جائز خطرے پر قابو پانے کے بہانے دوسرے بڑے خطرے یعنی ماحولیاتی توازن کو برقراررکھنے کی کیا ہے کوئی منصوبہ بندی؟

بارہمولہ //قدرتی خوبصورتی،برف سے ڈھکے پہاڑوں ،سرسبز جنگلات اور دلفریب آبشاروں ونظاروں کے مسکن کشمیر وادی میں معتدل آب وہوا قائم رہنے میں یہاں اُگنے والے مختلف درختوں کاکلیدی رول ہے ،اوران میں چنار کو اولیت حاصل ہے ،کیونکہ چنار کے بڑے درخت بڑی مقدار میں آکسیجن خارج کرنے کیساتھ ساتھ ہوامیں کارن ڈائی آکسائڈکو بھی قابو کرتے ہیں ۔اسکے بعد دوسرانمبر کشمیری سفیدے کے درخت کا سمجھاجاتاہے ،کیونکہ یہ شاہراہوں کے دونوں اطراف کھڑے رہ کر ماحولیاتی توازن کو برقرار رکھنے میں اپنا اہم رول نبھاتے رہے ہیں ۔جے کے این ایس کے مطابق سخت گرمی کے موسم میں مسافروں کو تپتی دھوپ سے بچانے اور اُن کے سفرکوآسان بنانے نیز شاہراہوںکی خوبصورتی کو دوبالا کرنے کے مقصد سے ڈوگرہ راج میں یہاں تمام چھوٹی بڑی شاہراہوں اورسڑکوں پر سفیدے کے درختوںکی شجرکاری کی گئی ۔کچھ سال بعد ہی سفیدے کے درخت بڑے ہوگئے اورانہوںنے سڑکوں پر پڑنے والی دھوپ کے اثرکو کم کردیا ،اوریوں مسافروں کو کافی راحت پہنچی،کیونکہ وقت گزرنے کیساتھ ساتھ جب سفیدے کے یہ درخت بڑے ہوتے گئے تو اس شاہراہ سے گزرنے والی گاڑیوں کے اندر شاذونادر ہی سورج کی کرنیں جاتی تھیں یاکہ دھوپ چلی جاتی ۔سری نگر بارہمولہ شاہراہ پر ناربل کے نزدیک شاہراہ کے دونوں اطراف یا دونوں کناروں پر کھڑے سفیدے کے درخت فلم انڈسٹری والوںکی نظرمیں بھی آئے ،اور 60و70کی دہائی میں کئی بالی ووڈ فلموں کے مناظر ناربل موڈ پر سفیدے کے درختوں کے سایے یا پس منظر میں فلمائے گئے ،اوریوں یہ جگہ کافی مشہور ہوگئی ۔تاہم ایک دہائی قبل سری نگر بارہمولہ شاہراہ پر موجود یہ سفیدے کے درخت بوسیدہ ہونے کے بعد خطرے کی علامت بن گئے ۔محکمہ تعمیرات عامہ کی عدم توجہی کایہ عالم تھاکہ بوسیدہ درختوںکو کاٹ کر یہاں نئے درختوںکی شجرکاری نہیں کی گئی ۔پھر اس شاہراہ کو تقریباً2دہائی قبل جب BECONکی تحویل میں دیاگیا تو اس ادارے نے بھی بوسیدہ ہوچکے سفیدوں کے درختوں کو کاٹ کر یہاں نئے درخت لگانے پرکوئی توجہ نہیں دی ۔اس دوران تیز ہوائیں چلنے کے دوران بوسیدہ ہوچکے سفیدے کے درخت کئی ایسے حادثات کاموجب بن گئے کہ کئی مقامات بشمول پٹن،سنگرامہ ،دلنہ ،بارہمولہ ،ناربل وغیرہ میں بوسیدہ درخت گاڑیوں پر گرنے سے کئی جانیں تلف ہوئیں ۔عوامی حلقوںکی جانب سے ان بوسیدہ درختوں کو کاٹنے کامطالبہ زورپکڑنے لگا،اور حکام اس مطالبے کی روشنی میں درختوںکو کاٹنے پر مجبور ہوگئے ۔بارہمولہ سری نگر شاہراہ پر پرانے بوسیدہ سفیدے انسانی جانوں کے لئے خطرہ تھے، خاص طور پر سڑک کے دونوں طرف رہنے والے لوگوں کیلئے ،کیونکہ تیزہوائیں چلتے ہی درخت مکانات ،دکانات پر گرجاتے تھے۔ سفیدے کے یہ درخت اس مصروف راستے پر چلنے والے مسافروں کیلئے خاص طور پر تیز ہواؤں اور مسلسل بارشوں کے دوران اور زیادہ خطرناک تھے۔ کئی حادثات ہوئے اور کچھ لوگ جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے۔لیکن یہ کہانی کا ایک حصہ ہے اور دوسرا حصہ یہ ہے کہ یہ دہائیوں پرانے سفیدے کے درخت آکسیجن پیدا کرنے کے لئے کتنے اہم تھے؟ماہرین کے مطابق سفیدے کے درخت بڑی مقدار میں آکسیجن خارج کرنے کی صلاحیت کے لئے مشہور ہیں۔اب سوال یہ پیداہوتاہے کہ سری نگربارہمولہ شاہراہ پرموجود سفیدے کے درختوںکوکاٹنے کی جو مہم شروع کردی گئی ہے ،توان درختوںکی جگہ نئے درختوںکی شجرکاری کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ایک خطرے پرقابو پانے کے بہانے کیا حکام بالا دوسرے خطرے کی اہمیت سے واقف نہیں ہیں ۔