ایک ہی کرایہ کمرے میں ٹھہرنے والے ایک سے زیادہ طلبہ سے فی کس ماہانہ کم ازکم5ہزارروپے کرایہ وصول،PGسہولیات کی آڑ میں بھی لوٹ
سری نگر//میڈیکل کورسز اور دیگر مختلف مسابقتی امتحاتات میں قسمت آزمائی کے اہل اورخواہشمند ہزاروں نوجوان طلباء اور طالبات سری نگر کارُخ کرکے یہاں قائم نجی کوچنگ سینٹروں میں داخلہ لیکر نزدیکی علاقوں اورکالونیوںمیں عارضی طور پررہائش پذیر ہوتے ہیں ۔قیام وطعام کیلئے شمال وجنوب سے یہاں آنے والے ان طلباء اور طالبات کو کمرے کرایہ پر لینے پڑتے ہیں یاکہ نجی ہوسٹلوںمیں قیام کرناپڑتا ہے ۔دونوں صورتوںمیں ان طلبہ اوران کے والدین کیلئے یہ کوئی سستا سودا نہیں ہوتاہے ،کیونکہ کرایہ کمروں کیلئے اُن سے ماہانہ ہزاروں روپے وصول کئے جاتے ہیں ۔جے کے این ایس کے مطابق سر ینگرشہر کے راجباغ ،کرسو،جواہر نگر ،مہجور نگر ،باغات ،صورہ ،بژھ پورہ اور دیگر علاقوںمیں کرایہ کمروںمیں قیام کرنے والے طلباء اور طالبات کیساتھ PGسروس کی آڑ میں سراسر ناانصافی کی جاتی ہے ،کیونکہ ایک ہی کمرے میں ٹھہرنے والے طلبہ سے فی کس 5000 روپے کرایہ اور 2000سے 3000روپے کھانے پینے کی سہولیات کے نام پر لئے جاتے ہیں ۔NEET ، JEE، IIT،اور IASوJKASکے امتحانات کی تیاریوں کیلئے گھروں سے دور آکر یہاں قیام کرنے والے کئی طلباء اور طالبات نے بتایاکہ معمول کے مطابق کسی بھی نجی مکان میں ایک کمرے کاکرایہ 4000 سے5000روپے ہوتاہے ،اور اگر ہم یہاںPG سہولیات بھی لیں تو ہمیں مزید 2000 سے3000 روپے اداکرنے ہوتے ہیں ۔انہوںنے کہاکہ نجی ہوسٹلوںمیں قیام وطعام کیلئے 7000 سے8000 روپے لئے جاتے ہیں ،اور جس کمرے کاکرایہ معمول کے دنوںمیں 5000روپے یااسے زیادہ ہوتا ہے ،اُسی ایک کمرے میں ایک سے زیادہ طلباء وطالبات کو ٹھہرانے کے بعد اُن سے فی کس 7000سے8000روپے کاکرایہ بشمول PGخرچہ وصول کیاجاتاہے ۔کچھ طلباء اور طالبات نے بتایاکہ ہم سبھی گھروں سے آسودہ حال نہیں ہوتے ہیں ،بلکہ بیشتر طلباء اور طالبات کو کوچنگ کاخرچہ برداشت کرنے کیلئے والدین زمین فروخت کردیتے ہیں یاکہ اپنا پیٹ کاٹ کر ہماری ضروریات کوپورا کرتے ہیں ۔انہوںنے کہاکہ اب کوچنگ مراکز کے نزدیکی علاقوںمیں لوگوںنے اپنے رہائشی مکانات میں طلبہ کیلئے کرایہ کمرے مخصوص رکھے ہوئے ہیں ،اور متعلقہ مالک مکانات ہمیں قیام وطعام کی سہولیات فراہم کرنے کی آڑمیں ہمیں لوٹ رہے ہیں ،لیکن ہم مجبوری کے سبب کچھ نہیں کہہ پاتے ہیں ،کیونکہ ہمارے والدین نے کوچنگ مراکز میں پہلے ہی لاکھوں روپے پیشگی جمع کرائے ہوتے ہیں ۔جنوبی کشمیر سے تعلق رکھنے والے طلبہ کے ایک گروپ نے سوالیہ اندازمیں کہاکہ کیا حکومت یاانتظامیہ کی جانب سے کرایہ پر دئیے جانے والے کمروں کاکوئی ریٹ یعنی کرایہ مقرر نہیں کیاگیاہے ۔ایک طالب علم نے ’ایک انار100بیمار ‘ کے مصداق کہاکہ ہم ایک کمرے میں خرچہ کم ہونے کی خواہش میں ٹھہرتے ہیں ،لیکن ہم سے پھر بھی الگ الگ کرایہ اینٹھا جاتاہے ۔انہوںنے بتایاکہ ایک کمرے کاماہانہ کرایہ 5000روپے ہوتاہے اورجب اسی کمرے میں مکان مالک 2یا3طلبہ کوٹھہراتا ہے ،تووہ ماہانہ10سے15ہزار روپے وصول کرتا ہے جبکہ اسکے علاوہ ماہانہ بھاری بجلی فیس بھی لیاجاتاہے ۔کوچنگ کیلئے سری نگرمیں مقیم طلباء اور طالبات نے ڈپٹی کمشنر سری نگرسے اپیل کی کہ وہ مکان مالکان اور نجی ہوسٹل مالکان کی من مانیوںکا فوری نوٹس لیں اوراس سلسلے میں فوری کارروائی عمل میں لانے کیلئے خصوصی اسکارڈ تشکیل دیں ۔










