ملازمین کی جائزسرگرمیوں پر عائد پابندی پر سخت تشویش کااظہار،خدشات وتحفظات کو اُجاگرکرنے کیلئے لیفٹنٹ گورنر کیساتھ ملاقات کرنے کافیصلہ
سری نگر//مطالبات کولیکر جلوس یا ہڑتال نیزسوشل میڈیا کے ذریعے حکومتی پالیسی وعمل پر ملازمین پرعائد پابندیوں کا جائزہ لینے کیلئے منگل کے روز یہاں مختلف ملازم انجمنوں کے سبھی فورموں کے سینئر لیڈران کاایک ہنگامی اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں حکومت کی جانب سے ملازمین کے حوالے سے آئے دنوں جاری کئے جانے والے احکامات اورعائد کی جانے والی پابندیوں پرسخت تشویش ظاہر کی گئی ۔جے کے این ایس کوباوثوق ذرائع نے بتایاکہ حکومت کی جانب سے سرکاری ملازمین کے احتجاج اور ہڑتال پر مبینہ طور پر پابندی عائد کئے جانے نیز سوشل میڈیاکے ذریعے حکومتی پالیسی وعمل کیخلاف ملازمین کے ردعمل یارائے کی ممانعت کئے جانے جیسے اقدامات کاجائزہ لینے کیلئے یہاں مختلف ملازم انجمنوں کے اہم ترین فورموں کاایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ ذرائع نے بتایاکہ اجلاس میں جن سینئر ٹریڈ یونین لیڈروںنے شرکت کی ،اُن میں اعجاز احمدخان(EJCC) ،وجاہت درانی (EJAC)،فیاض شبنم (EJAC)،عبدالمجید پرے (NTUC)، محمدمقبول گنائی (AITUF)اور سیکرٹریٹ ایمپلائز یونین کے مقبول حسین بھی شامل ہیں ۔ذرائع نے بتایاکہ سینئر ٹریڈ یونین لیڈروںنے اجلاس میں حکومتی اقدامات واحکامات پر تبادلہ خیال کیا ،اوراپنی اپنی رائے وآراء سامنے رکھی ۔ٹریڈ یونین لیڈروںکے اس ہنگامی اجلاس میں بتایاگیاکہ آئے دنوں جاری کئے جانے والے حکومتی احکامات کی وجہ سے جموں وکشمیر کے سرکاری ملازمین میں سخت تشویش پائی جاتی ہے ۔انہوںنے حکومت کی جانب سے آئے دنوں جاری کئے جانے والے احکامات کوغیر ضروری قرار دیتے ہوئے کہاکہ سروس رولز میں پہلے ہی ملازمین کی سرگرمیوں کی حدود کاتعین کیا گیاہے ،اوراب اس حوالے سے نئے احکامات جاری کرنابلاجواز اورغیر ضروری ہے ۔ذرائع نے مزید بتایاکہ اس اجلاس میں شامل سینئر ٹریڈ یونین لیڈروںنے کہاکہ حکومتی احکامات کی وجہ سے سرکاری ملازمین کے اعتماد کوسخت ٹھیس پہنچ رہی ہے ۔انہوںنے کہاکہ ملازمین کی جانب سے اپنے جائز مطالبات یاحقوق کیلئے آوازاُٹھانا سروس رولز یا قوانین کی خلاف ورزی نہیں ہے ۔انہوںنے مزید کہاکہ ملازمین تب جاکر اپنے مطالبات کو اُجاگر کرنے کیلئے ہڑتال کرتے ہیں یاکہ سڑکوں پر نکلتے ہیں جب بیورئو کریسی کی جانب سے اُن کے مطالبات کوصرف نظر کیاجاتاہے یاکہ ردی کی ٹوکری میں پھینک دیاجاتا ہے ۔ٹریڈ یونین لیڈروںنے یہ بھی کہاکہ جمہوری طرز نظام میں سماج کے سبھی طبقوںکو اپنے مطالبات وحقوق کیلئے آواز اُٹھانے کاحق حاصل ہے اور آئین یاقوانین کے تحت ایسا کرنا کوئی جرم یاخلاف قانو ن سرگرمی نہیں ہے ۔ذرائع نے مزید کہاکہ اجلاس میں شامل ٹریڈیونین لیڈروںنے واضح کیاکہ جموں وکشمیر کے سرکاری ملازمین نے مشکل ترین حالات میں بھی فرض شناسی کاثبوت فراہم کیا ہے اوریہ ملازمین ہمیشہ ملک وقوم کے وفاداررہے ہیں۔انہوںنے کبھی ملک یاقوم دشمن سرگرمیوںمیں حصہ نہیں لیا ہے ۔ٹریڈ یونین لیڈروںنے یہ بھی واضح کیاکہ اگر کوئی شخص انفروادی حیثیت میں کسی غیرقانونی سرگرمی میں ملوث رہاہے ،تو ہم اُس کادفاع نہیں کریں گے اور نہ کبھی ایسے افراد کاساتھ دیاگیاہے ۔انہوںنے کہاکہ آئین اورقوانین کی حدود میں رہ کر اپنے جائز مطالبات اورحقوق کیلئے آواز اُٹھا نا ملازمین کابنیادی اوتسلیم شدہ حق ہے ،جس پر پابندی عائد کرنا غلط اور غیرضروری ہے ۔سینئر ٹریڈ یونین لیڈروںکی اس مشترکہ میٹنگ میں یہ فیصلہ لیاگیا کہ ہم اپنے جائز مطالبات کو جناب لیفٹنٹ گورنر کے سامنے رکھنے کی خواہش رکھتے ہیں اوراس سلسلے میں سینئرٹریڈیونین لیڈروںکاایک اعلیٰ سطحی وفد لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا صاحب کیساتھ ملاقات کی کوشش کرے گا۔










