سرینگر//شمالی زون کیلئے دو روزہ تیسری علاقائی ورکشاپ آج سرینگر میں اختتام پذیر ہوئی ۔ شمالی علاقہ کیلئے ورکشاپ میں مرکزی وزارتوں ، ریاستوں /مرکز کے زیر انتظام علاقوں اور صنعت کے 250 سے زیادہ عہدیداروں نے حصہ لیا ۔ دوسرے دن کی ورکشاپ کا موضوع نیشنل لاجسٹک پالیسی تھا ۔ ورکشاپ کی کارروائی پر روشنی ڈالتے ہوئے اسپیشل سیکرٹری شعبہ برائے فروغ صنعت اور داخلی تجارت ( ڈی پی آئی آئی ٹی ) وزارت تجارت اور صنعت ، حکومت ہند شریمتی سنیتا داورا نے کہا کہ لاجسٹکس بنیادی ڈھانچے اور لاجسٹکس سے متعلق خدمات دونوں کی ترقی سے متعلق ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پی ایم گتی شکتی نیشنل ماسٹر پلان ( این ایم پی ) کی تکمیل کیلئے نیشنل لاجسٹک پالیسی ( این ایل پی ) کا آغاز کیا گیا تھا تا کہ لاجسٹک خدمات اور انسانی وسائل میں کارکردگی کو بہتر بنانے کے عمل کو ہموار کرنے ، ریگو لیٹری فریم ورک ، مہارت کی ترقی ، لاجسٹکس کو مرکزی دھارے میں لانے کے ذریعے حل کیا جا سکے ۔ ورکشاپ کے دوسرے دن کے دوران ریاستوں /مرکز کے زیر انتظام علاقوں بشمول ہماچل پردیش ، اتراکھنڈ ، پنجاب اور جموں و کشمیر نے اپنی متعلقہ ریاستی لاجسٹک پالیسیوں پر پریذنٹیشنز پیش کیں ۔ ان پیش کشوں میں دیکھا گیا کہ ان پالیسیوں کے تحت مالی اور غیر مالی مراعات تیار کی گئی ہیں جو کاروبار کرنے میں آسانی پیدا کریں گی اور لاجسٹک سیکٹر میں سرمایہ کاری کو راغب کریں گی ۔ ریاستی سطح پر لاجسٹکس پر مکمل توجہ مرکوز کرنے کیلئے 18 ریاستوں /مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ذریعے ریاستی /مرکز کے زیر انتظام لاجسٹکس پالیسی مطلع کیا گیا ہے ۔ ورکشاپ کے ایک حصے کے طور پر ریاستوں /مرکز کے زیر انتظام علاقوں پر زور دیا گیا کہ وہ پی ایم گتی شکتی کے اصولوں اور موثر لاجسٹکس ماحولیاتی نظام کے بارے میں بیداری پیدا کرنے کیلئے بین محکمہ جاتی میٹنگ کریں ۔ تمام محکموں ، شہری اداروں ، اضلاع اور پنچائتی راج اداروں کے ساتھ لاجسٹکس میں کارکردگی کی منصوبہ بندی کرنے پر بھی زور دیا گیا ۔










